کیا نکاح کا نذرانہ سارے اساتذہ مل کر لے سکتے ہیں از مفتی محمد نظام الدین قادری
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
نکاح خوانی کے نذرانے سے متعلق ایک صورت کا حکم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ زید امام ہے زید کی غیر موجودگی میں بکر نماز پڑھاتا ہے ۔ اس بکر نے نکاح پڑھایا تو اس نکاح کی اجرت زید کو لینا کیسا ہے ۔ بینوا توجروا.
الجواب:
اگر نکاح بکر نے پڑھایا اورنکاح کا نذرانہ دینے والے نے وہ نذرانہ صرف بکر کو دیا تو بکر کی رضامندی کے بغیر وہ نذرانہ زید کو لینا ناجائزوحرام ہے۔ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے: “ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل” (اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طور پر نہ کھاو ۔
سورہ بقرہ: آیت ١٨٨)
البتہ بعض جگہوں پر یہ رواج ہے کہ کسی مدرسہ میں پڑھانے والے تمام مدرسین نکاح کا نذرانہ آپس میں تقسیم کرتے ہیں ۔ اور اس رواج اور عمل درآمد کی وجہ سے لوگ نکاح کا نذرانہ اسی نیت سے دیتے ہیں کہ تمام مدرسین اس کو تقسیم کرلیں تو وہاں اس رواج اور تعامل کی وجہ سے نکاح نہ پڑھانے والا مدرس بھی نذرانہ میں شریک ہوگا؛ فان المعہود کالمشروط۔ ۔
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔
کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔
١٠/شوال المکرم ١۴۴٢ھ//٢٣/مئی ٢٠٢١ء