Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1803 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.9K Views

کیا کافر سر پڑوسی کو قربانی کا گوشت کے دے سکتے ہیں ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا کافر سر پڑوسی کو قربانی کا گوشت کے دے سکتے ہیں ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

پڑوسی کا حق کیا ہے؟ کیا کافر سر پڑوسی کو قربانی کا گوشت کے دے سکتے ہیں ؟

مسلہ: پڑوسی کا حق کیا ہے ؟ کیاکافر پڑوسی کو قربانی کا گوشت دے سکتے ہیں یا نہیں ؟ المستفتی: یار محمد جموتی ڈیہ ایس نگر یوپی بسم اللہ الرحمن الرحیم الجوابــــــــــــــــ پڑوسی کی تین قسمیں ہیں( ١ ) مسلم رشتہ دار (٢) مسلم (٣) کافر – ان میں سے ہر ایک کے حقوق مختلف ہیں ۔ اگرپڑوسی مسلم رشتہ دار ہو تو اسے حق جوار حق اسلام اور حق قرابت حاصل ہے ۔ اور اگر پڑوسی مسلم ہو رشتہ دار نہ ہو تو اس کو حق جوار اور حق اسلام حاصل ہے اور اگر پڑوسی کافر ہو تو اس کو صرف حق جوار حاصل ہے ۔ حدیث شریف میں ہے ” قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : الاجیرا ثلاثۃ فمنھم من لہ ثلاثت حقوق و منہم من لہ حقان و منہم من لہ حق ۔ فاما الذی لہ ثلاثت حقوق فا لجار المسلم القریب لہ حق الجوار و حق الاسلام و حق القرابۃ ۔ واما الذی حقان فالجار المسلم لہ حق الجوار و حق الاسلام ۔ واما الذی لہ حق واحد فالجار الکافر لہ حق الجوار قلنا ! یا رسول اللہ! فنطعمھم من نسکنا ؟ فقال : لا تطعمواالمشرکین شیاء من النسک ترجمہ: حضور نے فرمایا کہ پڑوسی تین قسم کے ہیں ۔ بعض کے تین حق ہیں ۔ بعض کے دو اور بعض کے ایک ۔ جو پڑوسی مسلم ہو اور رشتہ والا ہو تو اس کے تین حق ہیں۔ حق جوار، حق اسلام اور حق قرابت۔ پڑوسی مسلم کے دو حق ہیں ۔ حق جوار ،حق اسلام ،اور پڑوسی کافر کا ایک حق ہے،حق جوار ۔ ہم نے عرض کی یارسول اللہ اللہ ان کو اپنی قربانیوں کا گوشت دیں فرمایا مشرکین کو قربانیوں میں سے کچھ نہ دو ( کنزالعمال ج ٥ص٤٥ ،باب حقوق تعلق بصحبۃ الجار) لہذاکافر کو قربانی کا گوشت دینا جائز نہیں خواہ وہ پڑوسی ہو یا نہ ہو – اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں “یہاں کے کافروں کو گوشت دینا جائز نہیں وہ خاص مسلمانوں کا حق ہے  “والطیبت للطیبین والطیبون للطیبلت ” اھ ( ج ٨ ص ٤٦٧ ) ایسا ہی فتاوی امجدیہ ج ٣ ص٣١٨ میں بھی ھے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح : محمد نظام الدین رضوی برکاتی کتبہ : زبیر احمد مصباحی ہیں ٢٤ ذی الحجہ ١٤٢٩ ھ

Kutubahu & Verified by:

<h3>پڑوسی کا حق کیا ہے؟ کیا کافر سر پڑوسی کو قربانی کا گوشت کے دے سکتے ہیں ؟</h3> مسلہ: پڑوسی کا حق کیا ہے ؟ کیاکافر پڑوسی کو قربانی کا گوشت دے سکتے ہیں یا نہیں ؟ المستفتی: یار محمد جموتی ڈیہ ایس نگر یوپی بسم اللہ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــ</strong></span> پڑوسی کی تین قسمیں ہیں( ١ ) مسلم رشتہ دار (٢) مسلم (٣) کافر - ان میں سے ہر ایک کے حقوق مختلف ہیں ۔ اگرپڑوسی مسلم رشتہ دار ہو تو اسے حق جوار حق اسلام اور حق قرابت حاصل ہے ۔ اور اگر پڑوسی مسلم ہو رشتہ دار نہ ہو تو اس کو حق جوار اور حق اسلام حاصل ہے اور اگر پڑوسی کافر ہو تو اس کو صرف حق جوار حاصل ہے ۔ حدیث شریف میں ہے " قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : الاجیرا ثلاثۃ فمنھم من لہ ثلاثت حقوق و منہم من لہ حقان و منہم من لہ حق ۔ فاما الذی لہ ثلاثت حقوق فا لجار المسلم القریب لہ حق الجوار و حق الاسلام و حق القرابۃ ۔ واما الذی حقان فالجار المسلم لہ حق الجوار و حق الاسلام ۔ واما الذی لہ حق واحد فالجار الکافر لہ حق الجوار قلنا ! یا رسول اللہ! فنطعمھم من نسکنا ؟ فقال : لا تطعمواالمشرکین شیاء من النسک ترجمہ: حضور نے فرمایا کہ پڑوسی تین قسم کے ہیں ۔ بعض کے تین حق ہیں ۔ بعض کے دو اور بعض کے ایک ۔ جو پڑوسی مسلم ہو اور رشتہ والا ہو تو اس کے تین حق ہیں۔ حق جوار، حق اسلام اور حق قرابت۔ پڑوسی مسلم کے دو حق ہیں ۔ حق جوار ،حق اسلام ،اور پڑوسی کافر کا ایک حق ہے،حق جوار ۔ ہم نے عرض کی یارسول اللہ اللہ ان کو اپنی قربانیوں کا گوشت دیں فرمایا مشرکین کو قربانیوں میں سے کچھ نہ دو ( کنزالعمال ج ٥ص٤٥ ،باب حقوق تعلق بصحبۃ الجار) لہذاکافر کو قربانی کا گوشت دینا جائز نہیں خواہ وہ پڑوسی ہو یا نہ ہو - اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں "یہاں کے کافروں کو گوشت دینا جائز نہیں وہ خاص مسلمانوں کا حق ہے  "والطیبت للطیبین والطیبون للطیبلت " اھ ( ج ٨ ص ٤٦٧ ) ایسا ہی فتاوی امجدیہ ج ٣ ص٣١٨ میں بھی ھے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : محمد نظام الدین رضوی برکاتی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : زبیر احمد مصباحی ہیں ٢٤ ذی الحجہ ١٤٢٩ ھ</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...