01
The questionSawaal
اصل سوالکیا کوا کو امام اعظم رضی اللہ عنہ نے حلال فرمایا ہے ؟
02
The responseAl-Jawab
کیا کوا کو امام اعظم رضی اللہ عنہ نے حلال فرمایا ہے ؟
سوال : جی حضرت میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک مسئلہ میں پھنسا ہوا ہوں وہ یہ ہے کہ فقہ حنفی میں کوا کی حلت پر حضرت امام صاحب رحمہ اللہ نے جواز کا فتویٰ دیا ہے ؟ کیا یہ صحیح ہے اس کی رہنمائی فرمائیں ۔ وعليكم السلام ورحمة الله تعالى وبركاته الجواب بعون الملك الوهاب ہم لوگوں کے دیار میں پائے جانے والے ناجائز و حرام ہیں۔ اور کووں کی بعض وہ قسمیں جن کو کتبِ فقہ میں حلال لکھا گیا ہے وہ یہاں نہیں پائے جاتے۔ اس اجمال کی قدرے تفصیل یہ ہے کہ کووں کی متعدد قسمیں ہیں، جن میں چند درج ذیل ہیں: (۱) غراب زرع یعنی کھیتی کا کوا یہ صرف دانہ وغیرہ کھاتا ہے نجاست کھانے سے دور رہتا ہے یہ قدو قامت میں چھوٹا اور رنگت میں کالا ہوتا ہے اور غالبا اسکی چونچ اور پنجے سرخ ہوتے ہیں اس کا حکم یہ ہے کہ یہ تمام ائمہ کرام وفقہائے عظام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کے نزدیک بالاتفاق جائز ہے ، فقہ حنفی میں اسی کوے کی حلت کے جواز کا فتوی دیا گیا ہے اور کوے کی ایک قسم عقعق ہے جسکی تفصیل آگے بیان کی جائی گی اسمیں بھی امام صاحب نے حلت کے جواز کا فتوی دیا ہے ۔ (۲) غراب ابقع یعنی: مردار کھانے والا کوا اسکی ہیئت یہ ہے کہ اسکے رنگ میں سپیدی کے ساتھ ساتھ سیاہی بھی پائی جاتی ہے اسکا حکم یہ ہے کہ یہ بالاتفاق ناجائز ہے اور اسی رنگت کا پہاڑی کوا بھی ہے وہ بھی اسی حکم میں داخل ہے ہمارے ملک ہندوستان میں عموما اسی قسم کے کوے پائے جاتے ہیں- انکی حرمت میں کسی کو کلام نہیں سوائے دیابنہ کے کہ یہ لوگ اپنے عقائد باطلہ کفریہ کی بنیاد پر کافر ومرتد ہیں ان کے یہاں اس قسم کا کوا صرف حلال ہی نہیں بلکہ کھانے والے کو ثواب بھی ملتا ہے۔ جیسا کہ انکے ایک بڑے مفتی رشید احمد گنگوہی نے اپنے ایک فتوے میں لکھا ہے ۔ ” سوال:جس جگہ زاغ معروفہ کو اکثر حرام جانتے ہوں اور کھانے والے کو برا کہتے ہوں ایسی جگہ اس کو کھانے والے کو کچھ ثواب ہوگا یا نہ ثواب نہ عذاب؟ جواب:ثواب ہوگا. فقط”(ح ۲ ص ۱۴۵) جب کوئی سنی انہیں بتاتا ہے کہ تمہارے مولوی نے تو کوے کھانے کو جائز اور کھانے والے کے لیے اجروثواب لکھا ہے تو پھر یہ سادہ لوح مسلمانوں کو یوں مکروفریب دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر ہم نے اسے حلال لکھا ہے تو کیا ہوا سرکار امام اعظم ابوحنیفہ اور دیگر فقہائے کرام نے بھی تو کوے کو حلال قرار دیا ہے ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہابیوں کے مکروفریب سے بچیں اور ان سے دور رہیں انکی کوئی بات نہ سنیں- یہ انکا ائمہ کرام رحمھم اللہ پر بہتان ہے فقہائے کرام نے کوے کی جس قسم کو جائز قرار دیا ہے اس کا بیان اوپر گزرا اور یہ کوا یہاں پایا نہیں جاتا ہے- (۳)عقعق یعنی خلط کرنے والا، یہ کبھی مردار کھاتا ہے اور کبھی دانہ ۔ اسکی حلت وحرمت کے سلسلہ میں ائمہ کرام کے مابین اختلاف ہے مگر اصح قول کے مطابق اس کا کھانا مکروہ تنزیہی ہے- فتاوی عالمگیری میں ہے “وما لا مخلب له من الطير،والمسأنس منه كالدجاج والبط،والمتوحش كالحمام والفاختة والعصافير والقبج والكركي والغراب الذي يأكل الحب والزرع ونحوها حلال بالاجماع،كذا في البدائع”(ج ۵ ص ۳۵۷/دار الكتب العلمية) نیز اسی میں ہے ۔ “عن ابراهيم قال:كانوا يكرهون كل ذي مخلب من الطير وما أكل الجيف وبه نأخذ،فان ما يأكل الجيف كالغداف والغراب الأبقع مستخبث طبعا،فأما الغراب الزرعي الذي يلتقط الحب مباح طيب،وان كان الغراب بحيث يخلط فيأكل الجيف تارة والحب أخرى فقد عن أبي يوسف رحمه الله تعالى-أنه يكره،وعن أبي حنيفة-رحمه الله تعالى-أنه لا بأس بأكله وهو الصحيح على قياس الدجاجة،كذا في المبسوط”(حوالہ سابق ص ۳۵۸) فتاوی شامی میں ہے “قال فى العناية:وأما الغراب الأبقع والأسود فهو أنواع ثلاثة:نوع يلتقط الحب ولا يأكل الجيف وليس بمكروه. ونوع لا يأكل الا الجيف وهو الذي سماه المصنف الأبقع وانه مكروه. ونوع يخلط يأكل الحب مرة والجيف أخرى ولم يذكره فى الكتاب،وهو غير مكروه عنده مكروه عند أبي يوسف اھ والأخير هو العقعق كما فى المنح وسيأتى(ج ۹ ص ۴۴۳/دار عالم الکتب الریاض) فتاوی رضویہ میں ہے “دانہ خوار کوا کہ صرف دانا کھاتا اور نجاست کے پاس نہیں جاتا جسے غراب زرع یعنی کھیتی کا کوا کہتے ہیں چھوٹا سا سیاہ رنگ ہوتا ہے،اور چونچ اور پنچے غالبا سرخ وہ بالاتفاق جائز ہے،اور مردار خوار کوا جسے غراب ابقع بھی کہتے ہیں،کہ اس کے رنگ میں سپیدی بھی سیاہی کے ساتھ ہوتی ہے،بالاتفاق ناجائز ہے،اور اسی حکم میں پہاڑی کوا بھی داخل کہ بڑا اور یک رنگ سیاہ ہوتا اور موسم گرما میں آتا ہے،اور خلط کرنے والا جسے عقعق کہتے ہیں کہ اس کے بولنے میں یہی آواز عق عق پیدا ہوتی ہے،اس میں اختلاف ہے اور اصح حل مگر کراہت تنزیہ میں کلام نہیں”(ج ۵ ص۳۶۸ تا ۳۶۹) نیز اسی میں ہے “یہ کوے کہ ہمارے دیار میں پائے جاتے ہیں سب حرام ہیں”(حوالہ سابق) واللہ تعالی اعلم۔ نوٹ: زاغ معروف حلال کرنے والوں کے رد میں لاجواب سوالات کی شکل میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے رسالہ “دفعِ زیغ زاغ” کا مطالعہ فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔ کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر ۲۶/جمادی الآخرہ مطابق ۳۰/جنوری ۲۰۲۲ء الجواب صحيح محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.