Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1277
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
5.3K Views
کیا ہر رکعت میں دونوں سجدے فرض ہیں یا ایک فرض اور دوسرا واجب؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کیا ہر رکعت میں دونوں سجدے فرض ہیں یا ایک فرض اور دوسرا واجب؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کیا ہر رکعت میں دونوں سجدے فرض ہیں یا ایک فرض اور دوسرا واجب؟
سوال :نماز میں ہر رکعت میں دوسجدے ہیں تو کیا دونوں سجدے فرض ہیں یا ایک فرض اور دوسرا واجب نیز دو سجدوں کی کیا حکمت ہے رکوع ایک تو سجدے دو کیوں بحوالہ جواب عنایت فرمائیں ؟ سائلہ: حلیمہ اعظمی ضلع بهدوهي يوپي انڈیا. الجوابــــــــــــــــــــــ نماز کی ہر رکعت کے دونوں سجدے فرض ہیں اعلی حضرت تحریر فرماتے ہیں: “باجماع امت دونوں سجدے فرض ہیں” (فتاوی رضویہ مترجم ج:6 ص:171) اور فتاوی رضویہ مترجم ج:6 ص:173 میں بحوالہ مبسوط و حلیہ دونوں سجدوں کی حکمت کو یوں بیان کیا گیا ہے: ” ان ﷲ تعالی لما اخذ المیثاق من ذریۃ ادم علیہ الصلاۃ والسلام حیث قال عزوجل واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظھورھم ذریتھم الایۃ امرھم بالسجود تصدیقا لما قال فسجد المسلمون کلھم وبقی الکفار فلما رفع المسلمون رؤسھم ورأو الکفار لم یسجدوا فسجدوا ثانیا شکرالما وفقھم ﷲ تعالی علی السجود الاول فصار المفروض سجدتین لھذا والرکوع مرۃ ۔ یعنی ﷲ تعالی نے جب اولادآدم علیہ الصلوۃ والسلام سے عہد لیا جس کا ذکر ﷲ نے اس آیت میں کیا ہے : اور اے محبوب! یاد کرو جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ کیا ، کیا میں تمہارا رب نہیں۔ سب بولے کیوں نہیں ہم گواہ ہوئے الآيۃ ۔ تو انھیں بطور تصدیق سجدے کا حکم دیا تو تمام مسلمان سجدہ ریز ہوگئے لیکن کافر کھڑے رہ گئے جب مسلمانوں نے سجدے سے سر اٹھایا اور دیکھا کہ کفار نے سجدہ نہیں کیا تو وہ دوبارہ ﷲ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوگئے کہ ﷲ تعالی نے انھیں سجدہ اول کی توفیق دی ، لہذا نماز میں دو۲ سجدے فرض ولازم ہوگئے اور رکوع ایک ہی رہا۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ: گدائے حضوررئيس ملت محمدعرف صدام حسین احمد قادری میرانی فیضی
Kutubahu & Verified by:
<h2>کیا ہر رکعت میں دونوں سجدے فرض ہیں یا ایک فرض اور دوسرا واجب؟</h2> سوال :نماز میں ہر رکعت میں دوسجدے ہیں تو کیا دونوں سجدے فرض ہیں یا ایک فرض اور دوسرا واجب نیز دو سجدوں کی کیا حکمت ہے رکوع ایک تو سجدے دو کیوں بحوالہ جواب عنایت فرمائیں ؟ سائلہ: حلیمہ اعظمی ضلع بهدوهي يوپي انڈیا. <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــ</strong></span> نماز کی ہر رکعت کے دونوں سجدے فرض ہیں اعلی حضرت تحریر فرماتے ہیں: "باجماع امت دونوں سجدے فرض ہیں" (فتاوی رضویہ مترجم ج:6 ص:171) اور فتاوی رضویہ مترجم ج:6 ص:173 میں بحوالہ مبسوط و حلیہ دونوں سجدوں کی حکمت کو یوں بیان کیا گیا ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>" ان ﷲ تعالی لما اخذ المیثاق من ذریۃ ادم علیہ الصلاۃ والسلام حیث قال عزوجل واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظھورھم ذریتھم الایۃ امرھم بالسجود تصدیقا لما قال فسجد المسلمون کلھم وبقی الکفار فلما رفع المسلمون رؤسھم ورأو الکفار لم یسجدوا فسجدوا ثانیا شکرالما وفقھم ﷲ تعالی علی السجود الاول فصار المفروض سجدتین لھذا والرکوع مرۃ ۔</strong></span> یعنی ﷲ تعالی نے جب اولادآدم علیہ الصلوۃ والسلام سے عہد لیا جس کا ذکر ﷲ نے اس آیت میں کیا ہے : اور اے محبوب! یاد کرو جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ کیا ، کیا میں تمہارا رب نہیں۔ سب بولے کیوں نہیں ہم گواہ ہوئے الآيۃ ۔ تو انھیں بطور تصدیق سجدے کا حکم دیا تو تمام مسلمان سجدہ ریز ہوگئے لیکن کافر کھڑے رہ گئے جب مسلمانوں نے سجدے سے سر اٹھایا اور دیکھا کہ کفار نے سجدہ نہیں کیا تو وہ دوبارہ ﷲ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوگئے کہ ﷲ تعالی نے انھیں سجدہ اول کی توفیق دی ، لہذا نماز میں دو۲ سجدے فرض ولازم ہوگئے اور رکوع ایک ہی رہا۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: گدائے حضوررئيس ملت محمدعرف صدام حسین احمد قادری میرانی فیضی </strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...