Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1438 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.7K Views

کیا ہر مقام پر انگوٹھے چومنا چاہیے یا نہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا ہر مقام پر انگوٹھے چومنا چاہیے یا نہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا ہر مقام پر انگوٹھے چومنا چاہیے یا نہیں؟

حضرت ایک سوال پیش خدمت ہے کہ ۔۔۔ کیا ہر مقام پر انگوٹھے چومنے چاہیے یا کچھ مقام ایسے بھی ہیں جن پر چومنے کی ممانعت ہے۔۔۔ حوالہ کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ جلدی ہو سکے تو مہربانی ہوگی- سائل محمد رئیس خان حنفی، بلاکوٹ پونچھ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب چند مقامات کو چھوڑ کر کہ ان میں انگوٹھے چومنا منع ہے جنکا بیان آگے آتا ہے باقی ہر مقام پر جب بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک لیں یا کسی سے سنیں تو انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانا جائز ومستحسن ہے بلکہ اذان میں تو انگوٹھے چومنے کے متعلق احادیث موجود ہیں جن کی بنیاد پر علمائے کرام وفقہائے عظام نے اس وقت انگوٹھے چومنا مستحب قرار دیا ہے اور تکبیر کو بھی احادیث میں اذان فرمایا گیا ہے لہذا وہ بھی مثل اذان کے مذکورہ حکم کے تحت داخل ہے ممانعت کے مقامات یہ ہیں (۱) نماز پڑھتے وقت (۲)خطبہ سنتے وقت (۳)قرآن پاک سنتے وقت ۔ اعلحضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز رقمطراز ہیں : “ہاں اذان سننے میں (انگوٹھے چومنا) علمائے فقہ نے مستحب رکھا ہے-اور اس خاص موقع پر کچھ احادیث بھی وارد جو ایسی جگہ قابل تمسک ہیں کما حققناہ فی رسالتنا منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین( جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین،یعنی آنکھوں کو روشن کرنا انگوٹھے چومنے کے عمل سے میں اس کی تحقیق کی ہے) مگر نماز میں یا خطبہ یا قرآن مجید سنتے وقت نہ چاہئے، نماز میں اسکی ممانعت تو ظاہر،اور استماع خطبہ وقرآن کے وقت یوں کہ اس وقت ہمہ تن گوش ہوکر تمام حرکات سے باز رہنا چاہئے،پنچایت کے وقت جو آیہ کریمہ “ما کان محمد ابا احد من رجالکم”پر اس قدر کثرت سے انگوٹھے چومے جاتے ہیں گویا صدہا چڑیاں جمع ہوکر چہک رہی ہیں، یہاں تک کہ دور والوں کو قرآن عظیم کےبعض الفاظ کریمہ بھی اس وقت اچھی طرح سننے میں نہیں آتے-یہ فقیر کو سخت ناپسند وگراں گزرتا ہے صرف انگوٹھے لبوں سے لگا کر آنکھوں پر رکھنے میں کوئی حرج نہ بھی ہوتو بوسہ وتعظیم میں آواز نکلنے کا خود حکم نہیں-جیسے بوسہ سنگ اسود وآستانہ کعبہ وقرآن عظیم ودست وپائے علما وصلحا نہ کہ ایسی آوازیں کہ چڑیاں بسیرا لے رہی ہیں”( فتاوی رضویہ مترجم،ج ۲۲ ص ۵۳) مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : “اس تمام گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ اذان وغیرہ میں انگوٹھے چومنا آنکھوں سے لگانا مستحب ہے- اذان کے متعلق تو صاف وصریح روایات واحادیث موجود ہیں تکبیر بھی مثل اذان کے ہے احادیث میں تکبیر کو اذان فرمایا گیا ہے “بین کل أذانین صلوة” ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے یعنی اذان وتکبیر کے درمیان-لہذا تکبیر میں ” أشهد أن محمدا رسول الله” پر انگوٹھے چومنا نافع وباعث برکت ہے-اور اذان وتکبیر کے علاوہ بھی اگر کوئی شخص حضور علیہ الصلوة والسلام کا نام شریف سن کر انگوٹھے چومے تو بھی کوئی حرج نہیں-بلکہ نیت خیر سے ہو تو باعث ثواب ہے بلا دلیل ممانعت منع نہیں کرسکتے ہیں- جس طرح بھی حضور علیہ الصلوة والسلام کی تعظیم کی جاوے باعث ثواب ہے، ملتقطا”(جاء الحق،ص ۳۸۱ / جیلانی بکڈپو مٹیا محل جامع مسجد دہلی) ظاہر یہ ہے کہ جمعہ کے دن اذانِ خطبہ کے وقت بھی انگوٹھا چومنا نہ چاہیے۔جس طرح اذان خطبہ کا جواب زبان سے نہ چاہیے۔ ردالمحتار میں ہے “ﻭﺃﺧﺮﺝ اﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺷﻴﺒﺔ ﻓﻲ ﻣﺼﻨﻔﻪ ﻋﻦ ﻋﻠﻲ ﻭاﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻭاﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻋﻨﻬﻢ ﻛﺎﻧﻮا ﻳﻜﺮﻫﻮﻥ اﻟﺼﻼﺓ ﻭاﻟﻜﻼﻡ ﺑﻌﺪ ﺧﺮﻭﺝ اﻹﻣﺎﻡ واﻟﺤﺎﺻﻞ ﺃﻥ ﻗﻮﻝ اﻟﺼﺤﺎﺑﻲ ﺣﺠﺔ ﻳﺠﺐ ﺗﻘﻠﻴﺪﻩ ﻋﻨﺪﻧﺎ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﻨﻔﻪ شیء ﺁﺧﺮ ﻣﻦ اﻟﺴﻨﺔ”(ج٣،ص٣٨) در مختار میں ہے”اذا خرج الامام من الحجرة ان کان والا فقیامہ للصعود فلا صلوۃ ولا کلام الی تمامھا” (ردالمحتار،ج٣،ص٣٨) نیز ردالمحتار میں ہے “اجابۃ الاذان حینئذ مکروہۃ” یعنی اذان کا جواب اس وقت مکروہ ہے۔(ج٣،ص٤١) در مختار میں ہے “و ینبغی ان لا یجیب بلسانہ اتفاقا فی الاذان بین یدی الخطیب” یعنی اس بارے میں اتفاق ہے کہ خطیب کے سامنے والی اذان کا جواب(مقتدی کو) زبان سے نہیں دینا چاہئے ۔ (ردالمحتار،ج١،ص٨٧) فتاوی رضویہ میں اسی کے مثل سوال کے جواب میں ہے “ہرگز نہ چاہئے یہی احوط ہے”(ج٨، ص ٣٠٠ مترجم) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر ۱۹/رجب المرجب ۱۴۴۳ھ مطابق ۲۱/فروری ۲۰۲۲ء الجواب صحيح محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Kutubahu & Verified by:

<h2>کیا ہر مقام پر انگوٹھے چومنا چاہیے یا نہیں؟</h2> حضرت ایک سوال پیش خدمت ہے کہ ۔۔۔ کیا ہر مقام پر انگوٹھے چومنے چاہیے یا کچھ مقام ایسے بھی ہیں جن پر چومنے کی ممانعت ہے۔۔۔ حوالہ کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ جلدی ہو سکے تو مہربانی ہوگی- سائل محمد رئیس خان حنفی، بلاکوٹ پونچھ باسمه تعالى وتقدس <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب</strong></span> چند مقامات کو چھوڑ کر کہ ان میں انگوٹھے چومنا منع ہے جنکا بیان آگے آتا ہے باقی ہر مقام پر جب بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک لیں یا کسی سے سنیں تو انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانا جائز ومستحسن ہے بلکہ اذان میں تو انگوٹھے چومنے کے متعلق احادیث موجود ہیں جن کی بنیاد پر علمائے کرام وفقہائے عظام نے اس وقت انگوٹھے چومنا مستحب قرار دیا ہے اور تکبیر کو بھی احادیث میں اذان فرمایا گیا ہے لہذا وہ بھی مثل اذان کے مذکورہ حکم کے تحت داخل ہے ممانعت کے مقامات یہ ہیں (۱) نماز پڑھتے وقت (۲)خطبہ سنتے وقت (۳)قرآن پاک سنتے وقت ۔ اعلحضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز رقمطراز ہیں : "ہاں اذان سننے میں (انگوٹھے چومنا) علمائے فقہ نے مستحب رکھا ہے-اور اس خاص موقع پر کچھ احادیث بھی وارد جو ایسی جگہ قابل تمسک ہیں کما حققناہ فی رسالتنا منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین( جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین،یعنی آنکھوں کو روشن کرنا انگوٹھے چومنے کے عمل سے میں اس کی تحقیق کی ہے) مگر نماز میں یا خطبہ یا قرآن مجید سنتے وقت نہ چاہئے، نماز میں اسکی ممانعت تو ظاہر،اور استماع خطبہ وقرآن کے وقت یوں کہ اس وقت ہمہ تن گوش ہوکر تمام حرکات سے باز رہنا چاہئے،پنچایت کے وقت جو آیہ کریمہ "ما کان محمد ابا احد من رجالکم"پر اس قدر کثرت سے انگوٹھے چومے جاتے ہیں گویا صدہا چڑیاں جمع ہوکر چہک رہی ہیں، یہاں تک کہ دور والوں کو قرآن عظیم کےبعض الفاظ کریمہ بھی اس وقت اچھی طرح سننے میں نہیں آتے-یہ فقیر کو سخت ناپسند وگراں گزرتا ہے صرف انگوٹھے لبوں سے لگا کر آنکھوں پر رکھنے میں کوئی حرج نہ بھی ہوتو بوسہ وتعظیم میں آواز نکلنے کا خود حکم نہیں-جیسے بوسہ سنگ اسود وآستانہ کعبہ وقرآن عظیم ودست وپائے علما وصلحا نہ کہ ایسی آوازیں کہ چڑیاں بسیرا لے رہی ہیں"( فتاوی رضویہ مترجم،ج ۲۲ ص ۵۳) مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : "اس تمام گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ اذان وغیرہ میں انگوٹھے چومنا آنکھوں سے لگانا مستحب ہے- اذان کے متعلق تو صاف وصریح روایات واحادیث موجود ہیں تکبیر بھی مثل اذان کے ہے احادیث میں تکبیر کو اذان فرمایا گیا ہے "بین کل أذانین صلوة" ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے یعنی اذان وتکبیر کے درمیان-لہذا تکبیر میں " أشهد أن محمدا رسول الله" پر انگوٹھے چومنا نافع وباعث برکت ہے-اور اذان وتکبیر کے علاوہ بھی اگر کوئی شخص حضور علیہ الصلوة والسلام کا نام شریف سن کر انگوٹھے چومے تو بھی کوئی حرج نہیں-بلکہ نیت خیر سے ہو تو باعث ثواب ہے بلا دلیل ممانعت منع نہیں کرسکتے ہیں- جس طرح بھی حضور علیہ الصلوة والسلام کی تعظیم کی جاوے باعث ثواب ہے، ملتقطا"(جاء الحق،ص ۳۸۱ / جیلانی بکڈپو مٹیا محل جامع مسجد دہلی) ظاہر یہ ہے کہ جمعہ کے دن اذانِ خطبہ کے وقت بھی انگوٹھا چومنا نہ چاہیے۔جس طرح اذان خطبہ کا جواب زبان سے نہ چاہیے۔ ردالمحتار میں ہے "ﻭﺃﺧﺮﺝ اﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺷﻴﺒﺔ ﻓﻲ ﻣﺼﻨﻔﻪ ﻋﻦ ﻋﻠﻲ ﻭاﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻭاﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻋﻨﻬﻢ ﻛﺎﻧﻮا ﻳﻜﺮﻫﻮﻥ اﻟﺼﻼﺓ ﻭاﻟﻜﻼﻡ ﺑﻌﺪ ﺧﺮﻭﺝ اﻹﻣﺎﻡ واﻟﺤﺎﺻﻞ ﺃﻥ ﻗﻮﻝ اﻟﺼﺤﺎﺑﻲ ﺣﺠﺔ ﻳﺠﺐ ﺗﻘﻠﻴﺪﻩ ﻋﻨﺪﻧﺎ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﻨﻔﻪ شیء ﺁﺧﺮ ﻣﻦ اﻟﺴﻨﺔ”(ج٣،ص٣٨) در مختار میں ہے”اذا خرج الامام من الحجرة ان کان والا فقیامہ للصعود فلا صلوۃ ولا کلام الی تمامھا” (ردالمحتار،ج٣،ص٣٨) نیز ردالمحتار میں ہے "اجابۃ الاذان حینئذ مکروہۃ” یعنی اذان کا جواب اس وقت مکروہ ہے۔(ج٣،ص٤١) در مختار میں ہے "و ینبغی ان لا یجیب بلسانہ اتفاقا فی الاذان بین یدی الخطیب” یعنی اس بارے میں اتفاق ہے کہ خطیب کے سامنے والی اذان کا جواب(مقتدی کو) زبان سے نہیں دینا چاہئے ۔ (ردالمحتار،ج١،ص٨٧) فتاوی رضویہ میں اسی کے مثل سوال کے جواب میں ہے "ہرگز نہ چاہئے یہی احوط ہے”(ج٨، ص ٣٠٠ مترجم) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>۱۹/رجب المرجب ۱۴۴۳ھ مطابق ۲۱/فروری ۲۰۲۲ء </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحيح محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...