Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #705 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7.4K Views

گوبر حرام و ناپاک چیزوں سے کھانا بنانا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

گوبر حرام و ناپاک چیزوں سے کھانا بنانا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

گوبر حرام و ناپاک چیزوں سے کھانا بنانا کیسا ہے ؟

گوبر حرام و ناپاک ہے گاؤں میں گوبر کے اپلے گھروں میں لگائے جاتے ہیں اور ان سے بائیوگیس تیار ہوتی ہے اور کھانا بھی بنتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ اپلے کا استعمال کرنا بھی جائز ہے اور بائیو گیس کا بھی اس میں کوئی کراہت نہیں ۔ کیونکہ کھانے میں اس کی ناپاکی نہیں پہنچتی ہے ،بلکہ جب اپلے سے کھانا پکتا ہے تو وہ خشک و سوکھا ہوتا ہے اور جب آگ نے اسے جلا دیا اور اس سے آگ نکلی تو وہ آگ ناپاک نہیں بلکہ اپلے کی ناپاکی بھی شعلہ بن جانے کی وجہ سے دور ہوگئی اور اپلا اب پاک ہوگیا اور یہ پاک آگ صرف برتن کو چھوتی ہے اس لیے کھانے میں کوئی کراہت نہیں ۔ ایسے ہی جب اس سے بایو گیس تیار ہوئی تو آگ لگاتے ہی وہ گیس جلتی ہے اور گیس کے جلنے کے وقت کھانے کے برتن کے ساتھ جو چیز مس ہوتی ہے وہ گیس نہیں بلکہ آگ ہے اور آگ پاک ہے تو کھانا بھی پاک ہے ۔ تھوڑی دیر کے لیے کوئی سوچ سکتا ہے کہ جب گیس چالو کرتے ہیں تواس کے بعد ہی اس میں آگ لگاتے ہیں تو تھوڑی گیس برتن کو چھو سکتی ہے تو برتن کا اتنا حصہ ناپاک ہو جائے گا اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے ہی گیس میں آگ لگائیں گے وہ آگ گیس کو جلا کر برتن کو پاک کر دے گی اور اس میں پکا ہوا کھانا اگر پاک تھا تو وہ پاک ہی رہے گا لہذا اس سے کھانا پکانے میں کوئی حرج نہیں ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

Kutubahu & Verified by:

<h2>گوبر حرام و ناپاک چیزوں سے کھانا بنانا کیسا ہے ؟</h2> گوبر حرام و ناپاک ہے گاؤں میں گوبر کے اپلے گھروں میں لگائے جاتے ہیں اور ان سے بائیوگیس تیار ہوتی ہے اور کھانا بھی بنتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> اپلے کا استعمال کرنا بھی جائز ہے اور بائیو گیس کا بھی اس میں کوئی کراہت نہیں ۔ کیونکہ کھانے میں اس کی ناپاکی نہیں پہنچتی ہے ،بلکہ جب اپلے سے کھانا پکتا ہے تو وہ خشک و سوکھا ہوتا ہے اور جب آگ نے اسے جلا دیا اور اس سے آگ نکلی تو وہ آگ ناپاک نہیں بلکہ اپلے کی ناپاکی بھی شعلہ بن جانے کی وجہ سے دور ہوگئی اور اپلا اب پاک ہوگیا اور یہ پاک آگ صرف برتن کو چھوتی ہے اس لیے کھانے میں کوئی کراہت نہیں ۔ ایسے ہی جب اس سے بایو گیس تیار ہوئی تو آگ لگاتے ہی وہ گیس جلتی ہے اور گیس کے جلنے کے وقت کھانے کے برتن کے ساتھ جو چیز مس ہوتی ہے وہ گیس نہیں بلکہ آگ ہے اور آگ پاک ہے تو کھانا بھی پاک ہے ۔ تھوڑی دیر کے لیے کوئی سوچ سکتا ہے کہ جب گیس چالو کرتے ہیں تواس کے بعد ہی اس میں آگ لگاتے ہیں تو تھوڑی گیس برتن کو چھو سکتی ہے تو برتن کا اتنا حصہ ناپاک ہو جائے گا اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے ہی گیس میں آگ لگائیں گے وہ آگ گیس کو جلا کر برتن کو پاک کر دے گی اور اس میں پکا ہوا کھانا اگر پاک تھا تو وہ پاک ہی رہے گا لہذا اس سے کھانا پکانے میں کوئی حرج نہیں ۔ والله تعالى اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور </strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...