Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1898 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.3K Views

گود لی ہوئی لڑکی کو اس کے حقیقی باپ کے علاوہ کی طرف منسوب کرنا شرعا کیسا ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

گود لی ہوئی لڑکی کو اس کے حقیقی باپ کے علاوہ کی طرف منسوب کرنا شرعا کیسا ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

گود لی ہوئی لڑکی کو اس کے حقیقی باپ کے علاوہ کی طرف منسوب کرنا شرعا کیسا ہے؟ کیا گود لی ہوئی لڑکی گود لینے والے کی میراث سے حصہ پائے گی یا نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص نے کسی کی لڑکی کو گود لیا اور اب اس شخص کا انتقال ہوگیا ہے، اب اس لڑکی کی شادی ہونے جا رہی ہے۔ اور شادی کے کارڈ پر ولدیت میں گود لینے والے باپ کا نام ڈالا گیا ہے۔ جبکہ اس لڑکی کا حقيقی والد باحیات ہے۔ حاصل طلب یہ ہے کہ کیا حقیقی والد کو چھوڑ کر لڑکی کی ولدیت کسی اور کی طرف منسوب کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں۔؟ اور کیا گود لینے والے کی میراث سے لڑکی حصہ کی حق دار ہے یا نہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماٸیں۔جزاک اللہ خیرا واحسن الجزاء المستفتی: محمد شکيل خان۔ مراداباد،یوپی۔ الجواب بعون الملك الوهاب:- گود لی ہوئی لڑکی کو اس کے حقیقی والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرنا شرعا ہرگز درست نہیں- ارشادِ باری تعالی ہے: مَّا جَعَلَ اللّـٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَيْنِ فِىْ جَوْفِهٖ ۚ وَمَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ اللَّآئِىْ تُظَاهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهَاتِكُمْ ۚ وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ ۚ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ ۖ وَاللّـٰهُ يَقُوْلُ الْحَقَّ وَهُوَ يَـهْدِى السَّبِيْلَ”(پارہ ۲۱:سورہ الاحزاب، آیت: ۴) ترجمہ کنز الایمان “الله نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے اور تمہاری ان عورتوں کو جنہیں تم ماں کے برابر کہہ دو تمہاری ماں نہ بنایا اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنایایہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے اور الله حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے” تفسیر صراط الجنان میں ہے: “زمانۂ جاہلیّت میں جب کوئی شخص اپنی بیوی سے ظِہار کرتا تھا تو وہ لوگ اس ظہار کو طلاق کہتے اور اس عورت کو اس کی ماں قرار دیتے تھے اور جب کوئی شخص کسی کو بیٹا کہہ دیتا تھاتو اس کو حقیقی بیٹا قرار دے کر میراث میں شریک ٹھہراتے اور اس کی بیوی کو بیٹا کہنے والے کے لئے حقیقی بیٹے کی بیوی کی طرح حرام جانتے تھے۔ ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ جن بیویوں کو تم نے ’’ماں جیسی‘‘کہہ دیا ہے تو ا س سے وہ تمہاری حقیقی مائیں نہیں بن گئیں اور جنہیں تم نے اپنا بیٹا کہہ دیا ہے تو وہ تمہارے حقیقی بیٹے نہیں بن گئے اگرچہ لوگ انہیں تمہارا بیٹا کہتے ہوں ۔ بیوی کو ماں کے مثل کہنا اور لے پالک بچے کو بیٹا کہنا ایسی بات ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ، نہ بیو ی شوہر کی ماں ہو سکتی ہے نہ دوسرے کا فر زند اپنا بیٹا اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ حق بیان فرماتا ہے اور وہی حق کی سیدھی راہ دکھاتا ہے، لہٰذانہ بیوی کو شوہر کی ماں قرار دو اور نہ لے پالکوں کو ان کے پالنے والوں کا بیٹا ٹھہراؤ”(ج ۷ ص ۵۵۶ تا ۵۵۷) دوسری آیت میں فرمان باری تعالی ہے:”اُدْعُوْهُـمْ لِاٰبَآئِهِـمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّـٰهِ ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوٓا اٰبَآءَهُـمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِى الدِّيْنِ وَمَوَالِيْكُمْ ۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيْمَآ اَخْطَاْتُـمْ بِهٖ وَلٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ ۚ وَكَانَ اللّـٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا( پارہ ۲۱، سورہ الاحزاب،آیت:۵) ترجمۂ کنز الایمان “انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور بشریت میں تمہارے چچا زاد اور تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں جو نا دانستہ تم سے صادر ہوا ہاں وہ گناہ ہے جو دل کے قصد سے کرو اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے” تفسیر صراط الجنان میں ہے: {اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ: انہیں ان کے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارو۔} اس سے پہلی آیت میں لے پالک بچے کو پالنے والوں کا بیٹا قرار دینے سے منع کیا گیا اور اس آیت میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تم ان بچوں کو ان کے حقیقی باپ ہی کی طرف منسوب کر کے پکارو، یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے ،پھر اگر تمہیں ان کے باپ کا علم نہ ہو اور اس وجہ سے تم انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب نہ کر سکو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں اور انسانیت کے ناطے تمہارے چچا زاد ہیں ، تو تم انہیں اپنا بھائی یا اے بھائی کہو اور جس کے لے پالک ہیں اس کا بیٹا نہ کہو اور ممانعت کا حکم آنے سے پہلے تم نے جو لا علمی میں لے پالکوں کو ان کے پالنے والوں کا بیٹا کہا اس پر تمہاری گرفت نہ ہو گی البتہ اس صورت میں تم گناہگار ہو گے جب ممانعت کا حکم آ جانے کے بعد تم جان بوجھ کر لے پالک کو اس کے پالنے والے کا بیٹا کہو۔ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ بخشنے والا مہربان ہے، اسی لئے وہ غلطی سے ایسا ہو جانے پر گرفت نہیں فرماتا اور جس نے جان بوجھ کر ایساکیاہو ا س کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ گود لئے ہوئے بچے کے حقیقی باپ کے طور پر اپنا نام استعمال کرنے کا شرعی حکم: بچے کو گود لینا جائز ہے لیکن یہ یاد رہے کہ گود میں لینے والا عام بول چال میں یاکاغذات وغیرہ میں اس کے حقیقی باپ کے طور پر اپنا نام استعمال نہیں کر سکتا بلکہ سب جگہ حقیقی باپ کے طور پر اس بچے کے اصلی والد ہی کا نام استعمال کرنا ہوگا اور اگر اصلی باپ کا نام معلوم نہیں تو اس کو معلوم کروا کر باپ کے طورپر حقیقی باپ کا نام لکھنا ہو گا اور اگر کوشش کے باوجود کسی طرح اس کے اصلی باپ کا نام معلوم نہ ہو سکے تو گود لینے والا گفتگو میں حقیقی باپ کے طور پر اپنا نام ہر گز استعمال نہ کرے اور نہ ہی بچہ اسے حقیقی والد کے طور پراپنا باپ کہے ،اسی طرح کاغذات وغیرہ میں سر پرست کے کالم میں اپنا نام لکھے حقیقی والد کے کالم میں ہر گز نہ لکھے،اگر جان بوجھ کر خود کو حقیقی باپ کہے یالکھے گا تو یہ بھی درج ذیل دو وعیدوں میں داخل ہے- (۱)عن سعد بن أبي وقاص ، أن النبي ﷺ قال: من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنةعليه حرام” حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص کو یہ معلوم ہو کہ اس کا باپ کوئی اور ہے اور اس کے باوجود اپنے آپ کو کسی غیر کی طرف منسوب کرے تو اس پرجنت حرام ہے۔‘‘( بخاری، کتاب الفرائض، باب من ادعی الی غیر ابیہ، ۴ / ۳۲۶، الحدیث: ۶۷۶۶) (۲)خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةً – قَالَ: وَصَحِيفَةً مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ – فَقَدْ كَذَبَ، فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ، وَأَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ، وَفِيهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا” حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے خود کواپنے باپ کے غیرکی طرف منسوب کیایاجس غلام نے اپنے آپ کواپنے مولیٰ کے غیرکی طرف منسوب کیااس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ،فرشتوں کی اورتمام لوگوں کی لعنت ہو،قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کاکوئی فرض قبول فرمائے گانہ نفل۔‘‘( مسلم، کتاب الحج، باب فضل المدینۃ ودعاء النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فیہا بالبرکۃ۔۔۔ الخ، ص۷۱۱، الحدیث: ۴۶۷ (۱۳۷۰)) اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو اپنے ہاں اولاد نہ ہونے کی وجہ سے یا ویسے ہی کسی دوسرے کی اولاد گود میں لیتے ہیں اور اپنے زیرِ سایہ اس کی پرورش کرتے اور اس کی تعلیم و تربیت کے اخراجات برداشت کرتے ہیں ۔ان کا یہ عمل تو جائز ہے لیکن ان کی یہ خواہش اور تمناہر گزدرست نہیں کہ حقیقی باپ کے طور پر پالنے والے کا نام استعمال ہو اور نہ ہی ان کا یہ عمل جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرما دیا ہے کہ ’’اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ‘‘ (انہیں ان کے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارو۔) اور جب اللہ تعالیٰ نے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارنے کاحکم فرما دیا اور اَحادیث میں ایسا نہ کرنے پر انتہائی سخت وعیدیں بیان ہو گئیں تو کسی مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ اپنے رب تعالیٰ کے حکم کے برخلاف اپنی خواہشات کو پروان چڑھائے اور خود کو شدید وعیدوں کا مستحق ٹھہرائے۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔ نوٹ: یاد رہے کہ اَحادیث میں بیان کی گئی وعیدوں کا مِصداق وہ صورت ہے جس میں بچے کا نسب حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کیا جائے جبکہ شفقت کے طور پر کسی کو بیٹا یابیٹی کہہ کر پکارنا یا کوئی معروف ہی کسی اور کے نام سے ہو تو پہچان کے لئے ا س کابیٹا یا بیٹی کہنا ان وعیدوں میں داخل نہیں-(حوالہ سابق) لہذا صورت مسؤلہ میں گود لی ہوئی لڑکی کو اپنے حقیقی والد کے علاوہ گود لینے والے کی بیٹی کہنا یا کاغذات وغیرہ میں لکھنا سخت منع ہے جن لوگوں نے شادی کارڈ پر ولدیت میں گود لینے والے کا نام ڈالا ہے ان پر لازم ہے کہ آئندہ اس سے اجتناب کریں- گود لی ہوئی لڑکی یا لڑکا چونکہ حقیقی بیٹی بیٹا نہیں ہوتے اس لئے اولاد حقیقی کے شرعی احکام بھی ان پر جاری نہ ہوں گے، لہٰذا متبنی بیٹا یا بیٹی متبنی بنانے والے کی میراث کے حقدار نہ ہوں گے، ہاں اگر مذکور شخص اپنی حیات میں اس لڑکی کو بطریقہ ہبہ کچھ دے گیا ہے تو یہ اس کے لیے جائز ہے- تفسیرات احمدیہ میں ہے:”خلاصہ یہ کہ “متبنی” حقیقی بیٹا نہیں ہوتا لہذا اس کی بیوی پالنے والے کے لیے حرام نہیں ہوتی اور نہ ہی پالنے والے پر اس کا نفقہ واجب ہوتا ہے اور نہ ہی اس پر حقیقی بیٹے کے شرعی احکام جاری ہوتے ہیں- رہی ہمارے زمانے کے رسم کہ لوگ کسی شخص کو اپنے قائم مقام کردیتے ہیں اور اسے مال عطا کرتے ہیں اور اسے وارث گردانتے ہیں تو یہ در حقیقت وراثت کے طریقہ پر نہیں بلکہ ہبہ کے طریقہ پر ہے اور یہ طریقہ بالکل جائز ہے جبکہ انعامی زمین کے علاوہ اشیاء میں ہو” (ص ۸۱۸/ مترجم) تفسیر خزائن العرفان میں ہے: “زمانہ جاہلیت میں جب کوئی اپنی عورت سے ظہار کرتا تھا تو لوگ اس ظہار کو طلاق کہتے اور اس عورت کو اس کی ماں قرار دیتے تھے اور جب کوئی شخص کسی کو بیٹا کہہ دیتا تو اس کو حقیقی بیٹا قرار دے کر شریک میراث ٹھہراتے اور اس کی زوجہ کو بیٹا کہنے والے کے لیے صلبی بیٹے کی بیوی کی طرح حرام جانتے ان سب کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی” ( خزائن العرفان مع کنز الایمان ص ۷۷۲) واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ مدرس دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر ۲/ جمادی الاولی ۱۴۴۴ھ مطابق ۲۷/ نومبر ۲۰۲۲ء الجواب صحيح :کمال احمد علیمی نظامی دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Kutubahu & Verified by:

<h3>گود لی ہوئی لڑکی کو اس کے حقیقی باپ کے علاوہ کی طرف منسوب کرنا شرعا کیسا ہے؟ کیا گود لی ہوئی لڑکی گود لینے والے کی میراث سے حصہ پائے گی یا نہیں؟</h3> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص نے کسی کی لڑکی کو گود لیا اور اب اس شخص کا انتقال ہوگیا ہے، اب اس لڑکی کی شادی ہونے جا رہی ہے۔ اور شادی کے کارڈ پر ولدیت میں گود لینے والے باپ کا نام ڈالا گیا ہے۔ جبکہ اس لڑکی کا حقيقی والد باحیات ہے۔ حاصل طلب یہ ہے کہ کیا حقیقی والد کو چھوڑ کر لڑکی کی ولدیت کسی اور کی طرف منسوب کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں۔؟ اور کیا گود لینے والے کی میراث سے لڑکی حصہ کی حق دار ہے یا نہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماٸیں۔جزاک اللہ خیرا واحسن الجزاء المستفتی: محمد شکيل خان۔ مراداباد،یوپی۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملك الوهاب:-</strong> </span> گود لی ہوئی لڑکی کو اس کے حقیقی والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرنا شرعا ہرگز درست نہیں- ارشادِ باری تعالی ہے: مَّا جَعَلَ اللّـٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَيْنِ فِىْ جَوْفِهٖ ۚ وَمَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ اللَّآئِىْ تُظَاهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهَاتِكُمْ ۚ وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ ۚ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ ۖ وَاللّـٰهُ يَقُوْلُ الْحَقَّ وَهُوَ يَـهْدِى السَّبِيْلَ"(پارہ ۲۱:سورہ الاحزاب، آیت: ۴) ترجمہ کنز الایمان "الله نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے اور تمہاری ان عورتوں کو جنہیں تم ماں کے برابر کہہ دو تمہاری ماں نہ بنایا اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنایایہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے اور الله حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے" تفسیر صراط الجنان میں ہے: "زمانۂ جاہلیّت میں جب کوئی شخص اپنی بیوی سے ظِہار کرتا تھا تو وہ لوگ اس ظہار کو طلاق کہتے اور اس عورت کو اس کی ماں قرار دیتے تھے اور جب کوئی شخص کسی کو بیٹا کہہ دیتا تھاتو اس کو حقیقی بیٹا قرار دے کر میراث میں شریک ٹھہراتے اور اس کی بیوی کو بیٹا کہنے والے کے لئے حقیقی بیٹے کی بیوی کی طرح حرام جانتے تھے۔ ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ جن بیویوں کو تم نے ’’ماں جیسی‘‘کہہ دیا ہے تو ا س سے وہ تمہاری حقیقی مائیں نہیں بن گئیں اور جنہیں تم نے اپنا بیٹا کہہ دیا ہے تو وہ تمہارے حقیقی بیٹے نہیں بن گئے اگرچہ لوگ انہیں تمہارا بیٹا کہتے ہوں ۔ بیوی کو ماں کے مثل کہنا اور لے پالک بچے کو بیٹا کہنا ایسی بات ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ، نہ بیو ی شوہر کی ماں ہو سکتی ہے نہ دوسرے کا فر زند اپنا بیٹا اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ حق بیان فرماتا ہے اور وہی حق کی سیدھی راہ دکھاتا ہے، لہٰذانہ بیوی کو شوہر کی ماں قرار دو اور نہ لے پالکوں کو ان کے پالنے والوں کا بیٹا ٹھہراؤ"(ج ۷ ص ۵۵۶ تا ۵۵۷) دوسری آیت میں فرمان باری تعالی ہے:"اُدْعُوْهُـمْ لِاٰبَآئِهِـمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّـٰهِ ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوٓا اٰبَآءَهُـمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِى الدِّيْنِ وَمَوَالِيْكُمْ ۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيْمَآ اَخْطَاْتُـمْ بِهٖ وَلٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ ۚ وَكَانَ اللّـٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا( پارہ ۲۱، سورہ الاحزاب،آیت:۵) ترجمۂ کنز الایمان "انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور بشریت میں تمہارے چچا زاد اور تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں جو نا دانستہ تم سے صادر ہوا ہاں وہ گناہ ہے جو دل کے قصد سے کرو اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے" تفسیر صراط الجنان میں ہے: {اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ: انہیں ان کے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارو۔} اس سے پہلی آیت میں لے پالک بچے کو پالنے والوں کا بیٹا قرار دینے سے منع کیا گیا اور اس آیت میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تم ان بچوں کو ان کے حقیقی باپ ہی کی طرف منسوب کر کے پکارو، یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے ،پھر اگر تمہیں ان کے باپ کا علم نہ ہو اور اس وجہ سے تم انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب نہ کر سکو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں اور انسانیت کے ناطے تمہارے چچا زاد ہیں ، تو تم انہیں اپنا بھائی یا اے بھائی کہو اور جس کے لے پالک ہیں اس کا بیٹا نہ کہو اور ممانعت کا حکم آنے سے پہلے تم نے جو لا علمی میں لے پالکوں کو ان کے پالنے والوں کا بیٹا کہا اس پر تمہاری گرفت نہ ہو گی البتہ اس صورت میں تم گناہگار ہو گے جب ممانعت کا حکم آ جانے کے بعد تم جان بوجھ کر لے پالک کو اس کے پالنے والے کا بیٹا کہو۔ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ بخشنے والا مہربان ہے، اسی لئے وہ غلطی سے ایسا ہو جانے پر گرفت نہیں فرماتا اور جس نے جان بوجھ کر ایساکیاہو ا س کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ گود لئے ہوئے بچے کے حقیقی باپ کے طور پر اپنا نام استعمال کرنے کا شرعی حکم: بچے کو گود لینا جائز ہے لیکن یہ یاد رہے کہ گود میں لینے والا عام بول چال میں یاکاغذات وغیرہ میں اس کے حقیقی باپ کے طور پر اپنا نام استعمال نہیں کر سکتا بلکہ سب جگہ حقیقی باپ کے طور پر اس بچے کے اصلی والد ہی کا نام استعمال کرنا ہوگا اور اگر اصلی باپ کا نام معلوم نہیں تو اس کو معلوم کروا کر باپ کے طورپر حقیقی باپ کا نام لکھنا ہو گا اور اگر کوشش کے باوجود کسی طرح اس کے اصلی باپ کا نام معلوم نہ ہو سکے تو گود لینے والا گفتگو میں حقیقی باپ کے طور پر اپنا نام ہر گز استعمال نہ کرے اور نہ ہی بچہ اسے حقیقی والد کے طور پراپنا باپ کہے ،اسی طرح کاغذات وغیرہ میں سر پرست کے کالم میں اپنا نام لکھے حقیقی والد کے کالم میں ہر گز نہ لکھے،اگر جان بوجھ کر خود کو حقیقی باپ کہے یالکھے گا تو یہ بھی درج ذیل دو وعیدوں میں داخل ہے- (۱)عن سعد بن أبي وقاص ، أن النبي ﷺ قال: من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنةعليه حرام" حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص کو یہ معلوم ہو کہ اس کا باپ کوئی اور ہے اور اس کے باوجود اپنے آپ کو کسی غیر کی طرف منسوب کرے تو اس پرجنت حرام ہے۔‘‘( بخاری، کتاب الفرائض، باب من ادعی الی غیر ابیہ، ۴ / ۳۲۶، الحدیث: ۶۷۶۶) (۲)خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةً - قَالَ: وَصَحِيفَةً مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ - فَقَدْ كَذَبَ، فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ، وَأَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ، وَفِيهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا" حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے خود کواپنے باپ کے غیرکی طرف منسوب کیایاجس غلام نے اپنے آپ کواپنے مولیٰ کے غیرکی طرف منسوب کیااس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ،فرشتوں کی اورتمام لوگوں کی لعنت ہو،قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کاکوئی فرض قبول فرمائے گانہ نفل۔‘‘( مسلم، کتاب الحج، باب فضل المدینۃ ودعاء النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فیہا بالبرکۃ۔۔۔ الخ، ص۷۱۱، الحدیث: ۴۶۷ (۱۳۷۰)) اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو اپنے ہاں اولاد نہ ہونے کی وجہ سے یا ویسے ہی کسی دوسرے کی اولاد گود میں لیتے ہیں اور اپنے زیرِ سایہ اس کی پرورش کرتے اور اس کی تعلیم و تربیت کے اخراجات برداشت کرتے ہیں ۔ان کا یہ عمل تو جائز ہے لیکن ان کی یہ خواہش اور تمناہر گزدرست نہیں کہ حقیقی باپ کے طور پر پالنے والے کا نام استعمال ہو اور نہ ہی ان کا یہ عمل جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرما دیا ہے کہ ’’اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ‘‘ (انہیں ان کے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارو۔) اور جب اللہ تعالیٰ نے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارنے کاحکم فرما دیا اور اَحادیث میں ایسا نہ کرنے پر انتہائی سخت وعیدیں بیان ہو گئیں تو کسی مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ اپنے رب تعالیٰ کے حکم کے برخلاف اپنی خواہشات کو پروان چڑھائے اور خود کو شدید وعیدوں کا مستحق ٹھہرائے۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔ نوٹ: یاد رہے کہ اَحادیث میں بیان کی گئی وعیدوں کا مِصداق وہ صورت ہے جس میں بچے کا نسب حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کیا جائے جبکہ شفقت کے طور پر کسی کو بیٹا یابیٹی کہہ کر پکارنا یا کوئی معروف ہی کسی اور کے نام سے ہو تو پہچان کے لئے ا س کابیٹا یا بیٹی کہنا ان وعیدوں میں داخل نہیں-(حوالہ سابق) لہذا صورت مسؤلہ میں گود لی ہوئی لڑکی کو اپنے حقیقی والد کے علاوہ گود لینے والے کی بیٹی کہنا یا کاغذات وغیرہ میں لکھنا سخت منع ہے جن لوگوں نے شادی کارڈ پر ولدیت میں گود لینے والے کا نام ڈالا ہے ان پر لازم ہے کہ آئندہ اس سے اجتناب کریں- گود لی ہوئی لڑکی یا لڑکا چونکہ حقیقی بیٹی بیٹا نہیں ہوتے اس لئے اولاد حقیقی کے شرعی احکام بھی ان پر جاری نہ ہوں گے، لہٰذا متبنی بیٹا یا بیٹی متبنی بنانے والے کی میراث کے حقدار نہ ہوں گے، ہاں اگر مذکور شخص اپنی حیات میں اس لڑکی کو بطریقہ ہبہ کچھ دے گیا ہے تو یہ اس کے لیے جائز ہے- تفسیرات احمدیہ میں ہے:"خلاصہ یہ کہ "متبنی" حقیقی بیٹا نہیں ہوتا لہذا اس کی بیوی پالنے والے کے لیے حرام نہیں ہوتی اور نہ ہی پالنے والے پر اس کا نفقہ واجب ہوتا ہے اور نہ ہی اس پر حقیقی بیٹے کے شرعی احکام جاری ہوتے ہیں- رہی ہمارے زمانے کے رسم کہ لوگ کسی شخص کو اپنے قائم مقام کردیتے ہیں اور اسے مال عطا کرتے ہیں اور اسے وارث گردانتے ہیں تو یہ در حقیقت وراثت کے طریقہ پر نہیں بلکہ ہبہ کے طریقہ پر ہے اور یہ طریقہ بالکل جائز ہے جبکہ انعامی زمین کے علاوہ اشیاء میں ہو" (ص ۸۱۸/ مترجم) تفسیر خزائن العرفان میں ہے: "زمانہ جاہلیت میں جب کوئی اپنی عورت سے ظہار کرتا تھا تو لوگ اس ظہار کو طلاق کہتے اور اس عورت کو اس کی ماں قرار دیتے تھے اور جب کوئی شخص کسی کو بیٹا کہہ دیتا تو اس کو حقیقی بیٹا قرار دے کر شریک میراث ٹھہراتے اور اس کی زوجہ کو بیٹا کہنے والے کے لیے صلبی بیٹے کی بیوی کی طرح حرام جانتے ان سب کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی" ( خزائن العرفان مع کنز الایمان ص ۷۷۲) واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ مدرس دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر ۲/ جمادی الاولی ۱۴۴۴ھ مطابق ۲۷/ نومبر ۲۰۲۲ء الجواب صحيح :کمال احمد علیمی نظامی دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...