Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #989 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.1K Views

گورمینٹ کی رقم مسجد و امام صاحب کے تنخواہ میں خرچ کرنا کیسا ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

گورمینٹ کی رقم مسجد و امام صاحب کے تنخواہ میں خرچ کرنا کیسا ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

گورمینٹ کی رقم مسجد و امام صاحب کے تنخواہ میں خرچ کرنا کیسا ؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں۔۔۔ مسئلہ اگر مسجد میں سرکاری گورمینٹ کی طرف سے روپے ملے تو وہ روپے امام کودینا کیساہے؟ جواب عنایت فرمائیں۔۔ محمد حیدر علی اتردیناج پور (بنگال) وعليـــــــكم الســـــلام ورحمة اللّہ وبرکاتہ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ سرکاری گورمینٹ کی طرف سے اگر مسجد میں پیسہ آتا ہو‌ں تو وہ پیسہ مسجد میں خرچ کرنا جائز ہے لیکن اگر یہ رقم صرف مسجد کے نام سے ہی ملتا ہے تو اس رقم سے امام کو تنخواہ دینا جائز نہیں ۔ اس رقم کو مسجد میں ہی خرچ کرسکتے ہیں” البتہ اگر سرکاری گورمینٹ کے پیسے امام صاحب کے لیے بھی آتا ہوں تو جائز ہے ورنہ نہیـــــــں ۔ فتاویٰ فقیہ ملت ج 2 ص 160 پر ہے کہ” گورمینٹ کا پیسہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتاتو اسے مسجد وغیرہ بنانے میں خرچ کرنا جائز ہے بشرطیکہ کسی مصلحت شرعیہ کے خلاف نہ ہو: ایساہی فتاویٰ رضویہ ج 6 ص 460 پرہے). اور آگے فتاوٰی فقیہ ملت، میـں ہے کہ اگر خاص تعمیر کے لئے چندہ ہوا ہے تو اس چندہ کی رقم سے امام و مئوذن کو تنخواہ دینا جائز نہیں ” (فتاویٰ فقیہ ملت، ج 2 ص 166) واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب ✍🏻محمــــــــد نورجمال رضــوی منجانب سنی مسـائل شـرعیـہ گـــروپ

Kutubahu & Verified by:

<h3>گورمینٹ کی رقم مسجد و امام صاحب کے تنخواہ میں خرچ کرنا کیسا ؟</h3> السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں۔۔۔ مسئلہ اگر مسجد میں سرکاری گورمینٹ کی طرف سے روپے ملے تو وہ روپے امام کودینا کیساہے؟ جواب عنایت فرمائیں۔۔ محمد حیدر علی اتردیناج پور (بنگال) وعليـــــــكم الســـــلام ورحمة اللّہ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> سرکاری گورمینٹ کی طرف سے اگر مسجد میں پیسہ آتا ہو‌ں تو وہ پیسہ مسجد میں خرچ کرنا جائز ہے لیکن اگر یہ رقم صرف مسجد کے نام سے ہی ملتا ہے تو اس رقم سے امام کو تنخواہ دینا جائز نہیں ۔ اس رقم کو مسجد میں ہی خرچ کرسکتے ہیں" البتہ اگر سرکاری گورمینٹ کے پیسے امام صاحب کے لیے بھی آتا ہوں تو جائز ہے ورنہ نہیـــــــں ۔ فتاویٰ فقیہ ملت ج 2 ص 160 پر ہے کہ" گورمینٹ کا پیسہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتاتو اسے مسجد وغیرہ بنانے میں خرچ کرنا جائز ہے بشرطیکہ کسی مصلحت شرعیہ کے خلاف نہ ہو: ایساہی فتاویٰ رضویہ ج 6 ص 460 پرہے). اور آگے فتاوٰی فقیہ ملت، میـں ہے کہ اگر خاص تعمیر کے لئے چندہ ہوا ہے تو اس چندہ کی رقم سے امام و مئوذن کو تنخواہ دینا جائز نہیں " (فتاویٰ فقیہ ملت، ج 2 ص 166) واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>✍🏻محمــــــــد نورجمال رضــوی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>منجانب سنی مسـائل شـرعیـہ گـــروپ</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...