Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1591
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
12.6K Views
گورنمنٹ سے کمیشن کی شکل میں اجرت لینا کیسا ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
گورنمنٹ سے کمیشن کی شکل میں اجرت لینا کیسا ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
گورنمنٹ سے کمیشن کی شکل میں اجرت لینا کیسا ہے؟
السلام و علیکم و رحمتہ الله سوال عرض ھے ایک أدمی ھے جس کا سرکاری لیسنس ھے وہ سرکاری کام کراتا ھے جیسے روڈ کا کا م اور سرکاری اسکول کا کام وغیرہ جسے اسکو کمیشن ملتا ھے عرض ھے کی کمیشن کھا ں تک لینا جا ئز ھے اور اسکا جا ئز طریقہ کیا ھے رہنمائ فرمائیں . اور دوسرا سوال ھے کی اس کے لیسنس سے دوسرے لوگ بھی پیسے نکالتے ھیں اور اسکو کمیشن دیتے ھیں تو کمیشن لینا کیسا ھے اس کا جائز طریقہ بتا دیجے مھربانی ھوگی. السلام و علیکم . . محمد فروز عالم قادری کرناٹک الجوابـــــــــــــــــــــ سرکاری لائسنس حاصل کرنے کے بعد اسکول وغیرہ کی تعمیر پر گورنمنٹ سے کمیشن کی شکل میں اجرت لینا جائز ہے جب کہ کسی طرح سے غدر وفریب نہ ہو اور نہ ہی خلافِ قانون ایسا کام کرنا ہو جس سے جیل کی سزا وغیرہ ذلت اٹھانی پڑے۔وذلک لان الحکومة ہہنا فی الہند للحربیین،واموالہم مباح، یجوز لنا اخذہا بطریق العقود الفاسدة اذا لم یکن حصولہا بطریق الغدر۔ وکذا لا یجوز للمسلم تعریض نفسہ علی اماکن الذل۔ امام اہلِ سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: ” فلا یحرم علینا معھم الاالغدر ،فاذا جاوزتہ واخذت منھم مااخذت باسم ای عقد اردت فقد اخذت مالا مباحا، لا تبعۃ علیک فیہ، کما راھن الصدیق الاکبر علیہ الرضوان الاکبر کفار مکۃ فی غلبۃ الروم واخذ مالھم باذنہ علیہ وعلی اٰلہ افضل الصلوٰۃ والسلام ، فانما جاز لعدم العصمۃ والا لکان قمارا محرما، فہذا ھو الاصل المطرد فی ھذا الباب، ومن اتقنہ تیسر علیہ استخراج الجزئیات، وقد فصلنا القول فیہ فی فتاوٰنا” (فتاوی رضویہ ج ٧ص١١۵) اور تحریر فرماتے ہیں: “جو کافرنہ ذمی ہو نہ مستامن سوا غدر و بدعہدی کے کہ مطلقاً ہر کافر سے بھی حرام ہے باقی اس کی رضا سے اس کا مال جس طرح ملے جس عقد کے نام سے ہو مسلمان کے لئے حلال ہے ،وقد فصلناہ فی فتوٰنا بمالامزید علیہ۔” (فتاوی رضویہ ج٧ ص ١٠۵) نیز تحریر فرماتے ہیں: “نعم ھنا دقیقتان یجب التنبہ لھما۔ الاولی: ینبغی التحرز عن مواقف التھم ممن جاھر باخذ الفضل منھم بالنیۃ الصحیحۃ المذکورۃ انما یاخذ حلالا ولکن یتھمہ العوام باکل الربا فینبغی التحرز عنہ لذوی الھیأت فی الدین۔ والثانیۃ : ان من الصور المباحۃ مایکون جرما فی القانون ففی اقتحامہ تعریض النفس للاذی والاذلال وھو لایجوز فیجب التحرز عن وما عداذٰلک مباح لاحجر فیہ”۔(فتاوی رضویہ ج٧ص١١۵) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم (٢) کسی غیر مسلم کو اس لیے لائسنس دینا کہ وہ اس سے کام لے کر کمیشن دے تو اگر اس میں بھی غدر و بد عہدی نہ ہو اور نہ ہی خلافِ قانون کوئی ایسا کام ہو جس سے ذلت اٹھانی پڑے تو اس پر بھی کمیشن لینے میں حرج نہیں، لیکن کسی مسلم کو لائسنس دے کر کمیشن لینا جائز نہ ہوگا، وذلک لفساد الاجارة فیما اذا کانت بین المسلمین لجہالة الاجرة۔ ھذا ما ظھر لی واللہ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ١۴/شعبان المعظم ١۴۴٣ھ/١٨/مارچ ٢٠٢٢ء
Kutubahu & Verified by:
<h2>گورنمنٹ سے کمیشن کی شکل میں اجرت لینا کیسا ہے؟</h2> السلام و علیکم و رحمتہ الله سوال عرض ھے ایک أدمی ھے جس کا سرکاری لیسنس ھے وہ سرکاری کام کراتا ھے جیسے روڈ کا کا م اور سرکاری اسکول کا کام وغیرہ جسے اسکو کمیشن ملتا ھے عرض ھے کی کمیشن کھا ں تک لینا جا ئز ھے اور اسکا جا ئز طریقہ کیا ھے رہنمائ فرمائیں . اور دوسرا سوال ھے کی اس کے لیسنس سے دوسرے لوگ بھی پیسے نکالتے ھیں اور اسکو کمیشن دیتے ھیں تو کمیشن لینا کیسا ھے اس کا جائز طریقہ بتا دیجے مھربانی ھوگی. السلام و علیکم . . محمد فروز عالم قادری کرناٹک <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــ</strong></span> سرکاری لائسنس حاصل کرنے کے بعد اسکول وغیرہ کی تعمیر پر گورنمنٹ سے کمیشن کی شکل میں اجرت لینا جائز ہے جب کہ کسی طرح سے غدر وفریب نہ ہو اور نہ ہی خلافِ قانون ایسا کام کرنا ہو جس سے جیل کی سزا وغیرہ ذلت اٹھانی پڑے۔وذلک لان الحکومة ہہنا فی الہند للحربیین،واموالہم مباح، یجوز لنا اخذہا بطریق العقود الفاسدة اذا لم یکن حصولہا بطریق الغدر۔ وکذا لا یجوز للمسلم تعریض نفسہ علی اماکن الذل۔ امام اہلِ سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: " فلا یحرم علینا معھم الاالغدر ،فاذا جاوزتہ واخذت منھم مااخذت باسم ای عقد اردت فقد اخذت مالا مباحا، لا تبعۃ علیک فیہ، کما راھن الصدیق الاکبر علیہ الرضوان الاکبر کفار مکۃ فی غلبۃ الروم واخذ مالھم باذنہ علیہ وعلی اٰلہ افضل الصلوٰۃ والسلام ، فانما جاز لعدم العصمۃ والا لکان قمارا محرما، فہذا ھو الاصل المطرد فی ھذا الباب، ومن اتقنہ تیسر علیہ استخراج الجزئیات، وقد فصلنا القول فیہ فی فتاوٰنا" (فتاوی رضویہ ج ٧ص١١۵) اور تحریر فرماتے ہیں: "جو کافرنہ ذمی ہو نہ مستامن سوا غدر و بدعہدی کے کہ مطلقاً ہر کافر سے بھی حرام ہے باقی اس کی رضا سے اس کا مال جس طرح ملے جس عقد کے نام سے ہو مسلمان کے لئے حلال ہے ،وقد فصلناہ فی فتوٰنا بمالامزید علیہ۔" (فتاوی رضویہ ج٧ ص ١٠۵) نیز تحریر فرماتے ہیں: "نعم ھنا دقیقتان یجب التنبہ لھما۔ الاولی: ینبغی التحرز عن مواقف التھم ممن جاھر باخذ الفضل منھم بالنیۃ الصحیحۃ المذکورۃ انما یاخذ حلالا ولکن یتھمہ العوام باکل الربا فینبغی التحرز عنہ لذوی الھیأت فی الدین۔ والثانیۃ : ان من الصور المباحۃ مایکون جرما فی القانون ففی اقتحامہ تعریض النفس للاذی والاذلال وھو لایجوز فیجب التحرز عن وما عداذٰلک مباح لاحجر فیہ"۔(فتاوی رضویہ ج٧ص١١۵) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم (٢) کسی غیر مسلم کو اس لیے لائسنس دینا کہ وہ اس سے کام لے کر کمیشن دے تو اگر اس میں بھی غدر و بد عہدی نہ ہو اور نہ ہی خلافِ قانون کوئی ایسا کام ہو جس سے ذلت اٹھانی پڑے تو اس پر بھی کمیشن لینے میں حرج نہیں، لیکن کسی مسلم کو لائسنس دے کر کمیشن لینا جائز نہ ہوگا، وذلک لفساد الاجارة فیما اذا کانت بین المسلمین لجہالة الاجرة۔ ھذا ما ظھر لی واللہ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١۴/شعبان المعظم ١۴۴٣ھ/١٨/مارچ ٢٠٢٢ء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...