Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #720 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9K Views

گورنمنٹ ملازمین کو جو جی، پی، ایف کا پیسہ کٹتا ہے اس کی زکوۃ کب اور کیسے ادا کی جائے

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

گورنمنٹ ملازمین کو جو جی، پی، ایف کا پیسہ کٹتا ہے اس کی زکوۃ کب اور کیسے ادا کی جائے

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

گورنمنٹ ملازمین کو جو جی، پی، ایف کا پیسہ کٹتا ہے اس کی زکوۃ کب اور کیسے ادا کی جائے

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس میں دو صورتیں ہیں اور فنڈ یعنی جی پی ایف میں جو روپے حکومت تنخواہ سے ہر ماہ کاٹ کاٹ کر جمع کرتی ہے اس میں دو طرح کے روپے شامل کرتی ہے، ایک وہ روپے جو اپنے ملازم کی تنخواہ سے کاٹ کر جمع کرتی ہے یہ اصل رقم ہے اور دوسرے وہ روپے جو حکومت اس پر اپنی طرف سے نفع کے طور پر شامل کرتی رہتی ہے ۔ تو جو رقم تنخواہ سے کٹ کر جمع ہوئی یا ہو رہی ہے یا کوئی بونس ملا ہے ایسے تمام رقم پر سال بسال زکوۃ واجب ہے ۔ رہ گیا نفع کا مسئلہ تو جب نفع کی پوری رقم قبضے میں آ جائے تو اس سال کے مال نصاب کے ساتھ اسے جوڑ کر اس کی زکوۃ دیں ۔ یہاں یہ امر واضح رہے کہ نفع پر زکوۃ کے وجوب وعدم وجوب کی بنیاد اس امر پر ہے کہ کھاتے میں اس کا اندراج شرعا قبضہ ہے یا نہیں. اصل مذہب کی بنا پر تحقیق یہی ہے کہ وہ قبضہ نہیں ہے اس لیے قبضہ سے پہلے اس کے زکاۃ واجب نہ ہوگی، لیکن حالات بدل رہے ہیں لوگ اپنے طور پر اس اندراج کو ہی قبضہ کے لیے کافی ہے سمجھتے ہیں ممکن ہے آگے چل کر حالات اس قدر بدل جائیں کہ عوام و خواص اس کے ساتھ قبضہ جیسامعاملہ کرنے لگیں تو اس وقت حکم بدل سکتا ہے فی الحال یہی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h3>گورنمنٹ ملازمین کو جو جی، پی، ایف کا پیسہ کٹتا ہے اس کی زکوۃ کب اور کیسے ادا کی جائے</h3> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> اس میں دو صورتیں ہیں اور فنڈ یعنی جی پی ایف میں جو روپے حکومت تنخواہ سے ہر ماہ کاٹ کاٹ کر جمع کرتی ہے اس میں دو طرح کے روپے شامل کرتی ہے، ایک وہ روپے جو اپنے ملازم کی تنخواہ سے کاٹ کر جمع کرتی ہے یہ اصل رقم ہے اور دوسرے وہ روپے جو حکومت اس پر اپنی طرف سے نفع کے طور پر شامل کرتی رہتی ہے ۔ تو جو رقم تنخواہ سے کٹ کر جمع ہوئی یا ہو رہی ہے یا کوئی بونس ملا ہے ایسے تمام رقم پر سال بسال زکوۃ واجب ہے ۔ رہ گیا نفع کا مسئلہ تو جب نفع کی پوری رقم قبضے میں آ جائے تو اس سال کے مال نصاب کے ساتھ اسے جوڑ کر اس کی زکوۃ دیں ۔ یہاں یہ امر واضح رہے کہ نفع پر زکوۃ کے وجوب وعدم وجوب کی بنیاد اس امر پر ہے کہ کھاتے میں اس کا اندراج شرعا قبضہ ہے یا نہیں. اصل مذہب کی بنا پر تحقیق یہی ہے کہ وہ قبضہ نہیں ہے اس لیے قبضہ سے پہلے اس کے زکاۃ واجب نہ ہوگی، لیکن حالات بدل رہے ہیں لوگ اپنے طور پر اس اندراج کو ہی قبضہ کے لیے کافی ہے سمجھتے ہیں ممکن ہے آگے چل کر حالات اس قدر بدل جائیں کہ عوام و خواص اس کے ساتھ قبضہ جیسامعاملہ کرنے لگیں تو اس وقت حکم بدل سکتا ہے فی الحال یہی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...