Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #209 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.1K Views

گھر میں پٙلے ہوئے بکرے کی قربانی کی نیت کرلینے سے قربانی واجب ہوجاتی ہے یا نہیں

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

گھر میں پٙلے ہوئے بکرے کی قربانی کی نیت کرلینے سے قربانی واجب ہوجاتی ہے یا نہیں

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

گھر میں پٙلے ہوئے بکرے کی قربانی کی نیت کرلینے سے قربانی واجب ہوجاتی ہے یا نہیں

 

السلام عليكم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضور مفتی صاحب ایک سوال عرض ہے کہ

اگر کسی کے پاس 6 بکرے تھے جسمیں انہوں نے یہ نیت کی کی اگر سب بچ گئے تو میں ان میں سے دو کی قربانی کرونگا , لیکن اب وہ یہ چاہتے ہیں کی ایک کی کروایں تو کیا قربانی ہو جاے گی یا دونوں میں کروانی پڑے گی ۔

سائل ۔ سرفراز احمد


الجواب:

آدمی جس جانور کا مالک ہو محض اس کی قربانی کی نیت کرنے سے اُس پر اُس جانور کی قربانی واجب نہیں ہوجاتی ہے ۔ چاہے نیت کرنے والا مالکِ نصاب ہو یا فقیر۔ ہاں! اگر فقیر (یعنی: جو مالکِ نصاب نہیں ہے) قربانی کی نیت سے کوئی جانور خریدے تو اُس پر اُسی خریدے ہوئے جانور کی قربانی واجب ہوجاتی ہے ۔ اور اگر مال دار کسی جانور کو قربانی کی نیت سے خریدے تو اس پر اسی خریدے ہوئے جانور کی قربانی واجب نہیں ہے وہ بدل کر دوسرے جانور کی قربانی کرسکتاہے ۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں محض دو بکروں کی نیت کر لینے سے اس پر دو بکروں کی قربانی واجب نہیں ہے ۔ چاہے یہ نیت کرنے والا فقیر ہو یا غنی۔

ہاں! اگر نذرِ شرعی کی صورت پائی گئی ہو یعنی: اس آدمی نےنذر کے الفاظ(مثلاً: ﷲ (عزوجل) کے لیے مجھ پر دو بکروں کی قربانی کرنا ہے یا اِن دو بکروں کو قربانی کرنا ہے) اتنی آواز سے زبان سے ادا کیے ہوں جس کو کوئی مانعِ سماعت امر نہ ہونے پر خود سُن سکتا ۔ تو اس پر دو قربانی لازم ہوگئی، چاہے یہ نذر ماننے والا فقیر ہو یا غنی۔

صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:

“قربانی کئی قسم کی ہے۔

غنیؔ اور فقیر دونوں پر واجب ہو ۔

فقیر پر واجب ہو غنی پر واجب نہ ہو۔

غنی پر واجب ہو فقیر پر واجب نہ ہو۔

دونوں پر واجب ہو اُس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کی منت مانی یہ کہا کہ ﷲ (عزوجل) کے لیے مجھ پر بکری یا گائے کی قربانی کرنا ہے یا اس بکری یا اس گائے کو قربانی کرنا ہے۔ فقیر پر واجب ہو غنی پر نہ ہو اس کی صورت یہ ہے کہ فقیر نے قربانی کے لیے جانور خریدا اس پر اس جانور کی قربانی واجب ہے اور غنی اگر خریدتا تو اس خریدنے سے قربانی اوس پر واجب نہ ہوتی۔” (بہارِ شریعت ح١۵ ص٣٣٣)

نیز تحریر فرماتے ہیں:

 “بکری کا مالک تھا اور اوس کی قربانی کی نیت کر لی یا خریدنے کے وقت قربانی کی نیت نہ تھی بعد میں نیت کر لی تو اس نیت سے قربانی واجب نہیں ہوگی”

(بہارِ شریعت ح ١۵ ص ٣٣۴)

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔

کتبہ : مفتی محمد نظام الدین قادری استاذ و مفتی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">گھر میں پٙلے ہوئے بکرے کی قربانی کی نیت کرلینے سے قربانی واجب ہوجاتی ہے یا نہیں</h2>   <p style="direction: rtl;">السلام عليكم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضور مفتی صاحب ایک سوال عرض ہے کہ</p> <p style="direction: rtl;">اگر کسی کے پاس 6 بکرے تھے جسمیں انہوں نے یہ نیت کی کی اگر سب بچ گئے تو میں ان میں سے دو کی قربانی کرونگا , لیکن اب وہ یہ چاہتے ہیں کی ایک کی کروایں تو کیا قربانی ہو جاے گی یا دونوں میں کروانی پڑے گی ۔</p> <p style="direction: rtl;">سائل ۔ سرفراز احمد</p> <hr /> <h2 style="direction: rtl;">الجواب:</h2> <p style="direction: rtl;">آدمی جس جانور کا مالک ہو محض اس کی قربانی کی نیت کرنے سے اُس پر اُس جانور کی قربانی واجب نہیں ہوجاتی ہے ۔ چاہے نیت کرنے والا مالکِ نصاب ہو یا فقیر۔ ہاں! اگر فقیر (یعنی: جو مالکِ نصاب نہیں ہے) قربانی کی نیت سے کوئی جانور خریدے تو اُس پر اُسی خریدے ہوئے جانور کی قربانی واجب ہوجاتی ہے ۔ اور اگر مال دار کسی جانور کو قربانی کی نیت سے خریدے تو اس پر اسی خریدے ہوئے جانور کی قربانی واجب نہیں ہے وہ بدل کر دوسرے جانور کی قربانی کرسکتاہے ۔</p> <p style="direction: rtl;">لہذا صورتِ مسئولہ میں محض دو بکروں کی نیت کر لینے سے اس پر دو بکروں کی قربانی واجب نہیں ہے ۔ چاہے یہ نیت کرنے والا فقیر ہو یا غنی۔</p> <p style="direction: rtl;">ہاں! اگر نذرِ شرعی کی صورت پائی گئی ہو یعنی: اس آدمی نےنذر کے الفاظ(مثلاً: ﷲ (عزوجل) کے لیے مجھ پر دو بکروں کی قربانی کرنا ہے یا اِن دو بکروں کو قربانی کرنا ہے) اتنی آواز سے زبان سے ادا کیے ہوں جس کو کوئی مانعِ سماعت امر نہ ہونے پر خود سُن سکتا ۔ تو اس پر دو قربانی لازم ہوگئی، چاہے یہ نذر ماننے والا فقیر ہو یا غنی۔</p> <p style="direction: rtl;">صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:</p> <p style="direction: rtl;">"قربانی کئی قسم کی ہے۔</p> <p style="direction: rtl;">غنیؔ اور فقیر دونوں پر واجب ہو ۔</p> <p style="direction: rtl;">فقیر پر واجب ہو غنی پر واجب نہ ہو۔</p> <p style="direction: rtl;">غنی پر واجب ہو فقیر پر واجب نہ ہو۔</p> <p style="direction: rtl;">دونوں پر واجب ہو اُس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کی منت مانی یہ کہا کہ ﷲ (عزوجل) کے لیے مجھ پر بکری یا گائے کی قربانی کرنا ہے یا اس بکری یا اس گائے کو قربانی کرنا ہے۔ فقیر پر واجب ہو غنی پر نہ ہو اس کی صورت یہ ہے کہ فقیر نے قربانی کے لیے جانور خریدا اس پر اس جانور کی قربانی واجب ہے اور غنی اگر خریدتا تو اس خریدنے سے قربانی اوس پر واجب نہ ہوتی۔" <strong><span style="color: #0000ff;">(بہارِ شریعت ح١۵ ص٣٣٣)</span></strong></p> <p style="direction: rtl;">نیز تحریر فرماتے ہیں:</p> <p style="direction: rtl;"> "بکری کا مالک تھا اور اوس کی قربانی کی نیت کر لی یا خریدنے کے وقت قربانی کی نیت نہ تھی بعد میں نیت کر لی تو اس نیت سے قربانی واجب نہیں ہوگی"</p> <p style="direction: rtl;"><strong><span style="color: #0000ff;"> (بہارِ شریعت ح ١۵ ص ٣٣۴)</span> </strong></p> <p style="direction: rtl;">واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔</p> <h3 style="direction: rtl;">کتبہ : مفتی محمد نظام الدین قادری استاذ و مفتی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</h3>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...