Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

گھیگھا والے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟

گھیگھا والے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟
Reference 1787 September 18, 2025 7,588 views
اصل سوالگھیگھا والے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟

گھیگھا والے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟

مسلہ:گھیگھا والے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟ المستفتی: قاضی اطیعواالحق عثمانی،سعد اللہ نگر،بلرام پور(یوپی)

الجوابـــــــــــــ

جس جانور کا گلا پھول آیا اگر وہ اس قدر پھولا ہے کے اس کی وجہ سے اس کی قیمت میں کمی آتی ھے تو یہ عیب ہے اور اس جانور کی قربانی ناجائز ہے اور قیمت کم نہ ہو تو قربانی جائز ہے مگر کراھت کے ساتھ – اور عیب اس کو کہتے ہیں جس کے سبب تاجروں کی نگاہ میں جانور کی قیمت کم ہو جائے – ہدایہ میں ہے”کل ما اوجب نقصان الثمن فی عادۃ التجار فھوعیب ،،(باب خیار العیب ج ٣ ص ٢٣ ۔ ردالمحتار میں ہے “واعلم ان الکل لا یخلو عن عیب والمستحب ان یکون سلیما عن العیوب الظاہر فما ذکر ھھنا جوز مع الکراھۃ کما فی المضمرات ۔ (کتاب الاضحیتہ ج ٦ ص ٣٢٣۔ واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی کتبہ: محمد انوارالحق قادری ١٠ / رجب ال مرجب ١٤٣١ھ

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.