Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1388 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.1K Views

ہوش و حواس درست نہ ہو اور طلاق دی تو ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ہوش و حواس درست نہ ہو اور طلاق دی تو ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ہوش و حواس درست نہ ہو اور طلاق دی تو ؟

مسئلہ:- از: حسنین رضا ، نانپارہ، بہرائچ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کے کچھ دشمنوں نے زید پر سحر کرایا جس کے نتیجے میں زید بیمار ہوگیا اور زید کا دماغ خراب ہو گیا ۔ زید نے گالی گلوج بکنا مارنا پیٹنا ، بھاگنا ، کبھی ہنسنا کبھی رونا اختیار کیا ۔ ان حرکات کے پیش نظر اس کو کمرہ میں بند رکھا جاتا ، کبھی باندھ دیا جاتا . لکھنؤ کے نوری اسپتال سے اس کا دماغی علاج ہوا ہے ۔ دماغ پر بجلی کی شاٹین بھی لگائی گئی ہیں۔ کبھی حالت پرسکون ہو جاتی ہے ، کبھی سابق حال ہوجاتا ہے ،زید کے دشمنوں نے لوگوں سے یہ بھی کہا ہے کہ زید نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے ۔ بیوی کا بیان ہے کہ محض افترا اور بہتان ہے ۔ زید بھی انکار کرتا ہے ۔ صورت مستفسرہ یہ ہے کہ حالات متذکرہ بالا کی روشنی میں اگر بالفرض زید نے طلاق دی ہے تو عند الشرع طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟ جبکہ ڈاکٹر کا یہ فیصلہ ہے کہ مریض کے دماغ کی چول درست نہیں علاج جاری رہے گا بینوا توجروا۔ الجوابـــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں دشمنوں کے یہ مشہور کر دینے سے کہ زید نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے وقوع طلاق کا حکم نہیں کریں گے ۔ جب زید کی یہ حالت ہے کہ کبھی وہ پاگلوں جیسی حرکتیں کرتا ہے اور کبھی پرسکون ہو جاتا ہے تو اگر بالفرض زید نے ہوش و حواس کی درستگی میں اپنی بیوی کو طلاق دی ہے اور شرعی طور پر اس کا ثبوت ہو تو ایسی صورت میں طلاق پڑ جانے کا حکم کریں گے ۔ اور اگر اس کے ہوش و حواس درست نہیں تھے۔ عقل زائل ہوگئی تھی اور ایسی حالت میں طلاق دینے کا ثبوت ہو تو وقوع طلاق کا حکم نہیں۔ حدیث شریف میں ہے :” كل طلاق جائز الا طلاق المعتوة والمغلوب علي عقله . “ اور دوسری حدیث شریف میں ہے :” رفع القلم عن ثلثة عن النائم حتي يستيقظ وعن الصبي حتي يبلغ وعن المعتوة حتي يعقل . اھ۔ (مشكوة شريف صفحه ٢٨٤) اور فتاوی عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ ۳۵۳ میں ہے :” يقع طلاق كل زوج اذا كان بالغا عاقلا.” پھر چند سطر بعد ہے:” لا يقع طلاق الصبي والمجنون والمدهوش هكذا في فتح القدير وكذلك المعتوة لا يقع طلاقه أيضا وهذا اذا كان في حالة العتة وإما في حالة الافاقة فالصحيح أنه واقع كذا في الجوهرة النيرة . اھ ملخصا” واللہ تعالیٰ اعلم۔ الجواب الصحیح: مفتی جلال الدین أحمد الامجدی ۔۔ کتبہ : محمد ابرار احمد امجدی

Kutubahu & Verified by:

<h2>ہوش و حواس درست نہ ہو اور طلاق دی تو ؟</h2> مسئلہ:- از: حسنین رضا ، نانپارہ، بہرائچ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کے کچھ دشمنوں نے زید پر سحر کرایا جس کے نتیجے میں زید بیمار ہوگیا اور زید کا دماغ خراب ہو گیا ۔ زید نے گالی گلوج بکنا مارنا پیٹنا ، بھاگنا ، کبھی ہنسنا کبھی رونا اختیار کیا ۔ ان حرکات کے پیش نظر اس کو کمرہ میں بند رکھا جاتا ، کبھی باندھ دیا جاتا . لکھنؤ کے نوری اسپتال سے اس کا دماغی علاج ہوا ہے ۔ دماغ پر بجلی کی شاٹین بھی لگائی گئی ہیں۔ کبھی حالت پرسکون ہو جاتی ہے ، کبھی سابق حال ہوجاتا ہے ،زید کے دشمنوں نے لوگوں سے یہ بھی کہا ہے کہ زید نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے ۔ بیوی کا بیان ہے کہ محض افترا اور بہتان ہے ۔ زید بھی انکار کرتا ہے ۔ صورت مستفسرہ یہ ہے کہ حالات متذکرہ بالا کی روشنی میں اگر بالفرض زید نے طلاق دی ہے تو عند الشرع طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟ جبکہ ڈاکٹر کا یہ فیصلہ ہے کہ مریض کے دماغ کی چول درست نہیں علاج جاری رہے گا بینوا توجروا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــ</strong></span> صورت مسؤلہ میں دشمنوں کے یہ مشہور کر دینے سے کہ زید نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے وقوع طلاق کا حکم نہیں کریں گے ۔ جب زید کی یہ حالت ہے کہ کبھی وہ پاگلوں جیسی حرکتیں کرتا ہے اور کبھی پرسکون ہو جاتا ہے تو اگر بالفرض زید نے ہوش و حواس کی درستگی میں اپنی بیوی کو طلاق دی ہے اور شرعی طور پر اس کا ثبوت ہو تو ایسی صورت میں طلاق پڑ جانے کا حکم کریں گے ۔ اور اگر اس کے ہوش و حواس درست نہیں تھے۔ عقل زائل ہوگئی تھی اور ایسی حالت میں طلاق دینے کا ثبوت ہو تو وقوع طلاق کا حکم نہیں۔ حدیث شریف میں ہے :<span style="color: #ff0000;"><strong>" كل طلاق جائز الا طلاق المعتوة والمغلوب علي عقله . "</strong></span> اور دوسری حدیث شریف میں ہے :" <span style="color: #ff0000;"><strong>رفع القلم عن ثلثة عن النائم حتي يستيقظ وعن الصبي حتي يبلغ وعن المعتوة حتي يعقل . اھ۔</strong> </span>(مشكوة شريف صفحه ٢٨٤) اور فتاوی عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ ۳۵۳ میں ہے :<span style="color: #ff0000;"><strong>" يقع طلاق كل زوج اذا كان بالغا عاقلا."</strong></span> پھر چند سطر بعد ہے:<span style="color: #ff0000;"><strong>" لا يقع طلاق الصبي والمجنون والمدهوش هكذا في فتح القدير وكذلك المعتوة لا يقع طلاقه أيضا وهذا اذا كان في حالة العتة وإما في حالة الافاقة فالصحيح أنه واقع كذا في الجوهرة النيرة . اھ ملخصا"</strong></span> واللہ تعالیٰ اعلم۔ <span style="color: #339966;"><strong>الجواب الصحیح: مفتی جلال الدین أحمد الامجدی ۔۔ کتبہ : محمد ابرار احمد امجدی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...