Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1147
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
9.4K Views
ہوم لون یا بزنس لون لینا کیسا ہے ؟ / دوکان یا مکان کے لئے بینک سے قرضہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
ہوم لون یا بزنس لون لینا کیسا ہے ؟ / دوکان یا مکان کے لئے بینک سے قرضہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
ہوم لون یا بزنس لون لینا کیسا ہے ؟
سوال (١) دوکان یا مکان کے لئے بینک سے قرضہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ (٢) ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندوستان کے کافروں سے سود لینا جائز ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ (١) بینک اگر مسلمان کا ہے یا مسلم اور غیر مسلم کا مشترکہ ہے تو ایسے بینک سے سود دینے کی شرط پر قرض لینا حرام ہے ۔ اور سود دینے والا بھی سود لینے والے کی مثل گنہگار ہے ۔ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے ۔ لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم “آکل الربواوموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء”۔ یعنی سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والوں, سود دینے والوں, سودی دستاویز لکھنے والوں اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ سب گناہ میں برابر کے شریک ہیں ۔ (مسلم شریف) اور اگر بینک یہاں کے خالص کافروں کا ہے تو اگرچہ ایسے بینک سے زائد رقم دینے کی شرط پر دوکان وغیرہ کے لئے روپیہ لینا شرعاً سود نہیں کہ یہاں کے کفار حربی ہیں اور مسلمان و حربی کے درمیان سود نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے“لاربابین المسلم والحربی” مگر ایسے بینک سے بھی بلا ضرورت شدیدہ قرض لینا اور انہیں نفع دینا منع ہے۔ (٢) یہاں کے کافروں کو قرض دے کر زائد رقم لینا جائز ہے کہ وہ حربی ہیں جیسا کہ رئیس الفقہاء حضرت ملا جیون رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں۔ ان ھم الا حربی وما یعقلھا الا العالمون ( تفسیرات احمدیہ صفحہ ٣٠٠) مگر زائد رقم سود کی نیت سے نہ لے کہ سود مطلقا حرام ہے ۔ قال اللہ تعالی وحرم الربوا۔ اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں : کہ اگر قرض دیا اور زیادہ لینا قرار پایا تو مسلمان سے حرام قطعی اور ہندو سے جائز ہے جب کہ اسے سود سمجھ کر نہ لے ۔ (فتاوی رضویہ جلد ہفتم صفحہ ٩٣) وھو سبحانہ و اعلم بالصواب کتبــــــــہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی
Kutubahu & Verified by:
<h2>ہوم لون یا بزنس لون لینا کیسا ہے ؟</h2> سوال (١) دوکان یا مکان کے لئے بینک سے قرضہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ (٢) ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندوستان کے کافروں سے سود لینا جائز ہے یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> (١) بینک اگر مسلمان کا ہے یا مسلم اور غیر مسلم کا مشترکہ ہے تو ایسے بینک سے سود دینے کی شرط پر قرض لینا حرام ہے ۔ اور سود دینے والا بھی سود لینے والے کی مثل گنہگار ہے ۔ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے ۔ لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم <span style="color: #ff0000;"><strong>"آکل الربواوموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء"۔</strong> </span>یعنی سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والوں, سود دینے والوں, سودی دستاویز لکھنے والوں اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ سب گناہ میں برابر کے شریک ہیں ۔ (مسلم شریف) اور اگر بینک یہاں کے خالص کافروں کا ہے تو اگرچہ ایسے بینک سے زائد رقم دینے کی شرط پر دوکان وغیرہ کے لئے روپیہ لینا شرعاً سود نہیں کہ یہاں کے کفار حربی ہیں اور مسلمان و حربی کے درمیان سود نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>"لاربابین المسلم والحربی"</strong></span> مگر ایسے بینک سے بھی بلا ضرورت شدیدہ قرض لینا اور انہیں نفع دینا منع ہے۔ (٢) یہاں کے کافروں کو قرض دے کر زائد رقم لینا جائز ہے کہ وہ حربی ہیں جیسا کہ رئیس الفقہاء حضرت ملا جیون رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں۔ ان ھم الا حربی وما یعقلھا الا العالمون ( تفسیرات احمدیہ صفحہ ٣٠٠) مگر زائد رقم سود کی نیت سے نہ لے کہ سود مطلقا حرام ہے ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>قال اللہ تعالی وحرم الربوا۔</strong></span> اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں : کہ اگر قرض دیا اور زیادہ لینا قرار پایا تو مسلمان سے حرام قطعی اور ہندو سے جائز ہے جب کہ اسے سود سمجھ کر نہ لے ۔ (فتاوی رضویہ جلد ہفتم صفحہ ٩٣) وھو سبحانہ و اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...