01
The questionSawaal
اصل سوالاسلام قتل ناحق اور ظلم کا مخالف ہے (تحریر حالیہ یوکرین اور روس کے جنگی تناظر میں)
02
The responseAl-Jawab
اسلام قتل ناحق اور ظلم کا مخالف ہے (تحریر حالیہ یوکرین اور روس کے جنگی تناظر میں)
کسی بھی مسئلہ کا حل جنگ وجدال اور خون خرابا سے نہیں ہونے والا، مسائل خواہ آپسی ہوں ملکی ہوں انفرادی ہوں یا پھر اجتماعی اس کے تدارک کے لیے پہلے حکمت عملی ممکنہ تدابیر اپنائے جائیں، مشاورت باہم گفت وشنید سے حل کی کوشش ہو اور جب بات نہ بنے تو کسی دیانت دار حق گو کو ثالث مقرر کرکے باہم نزاع کا سدباب کریں، دنیا کے تمام مذاہب میں تقریبا ایسی تعلیمات اور ہدایات موجود ہیں، جس پر عمل کرکے بغیر کسی مزاحمت اور جنگی کاروائی کے باہم اختلافات کا خاتمہ اور تشدد کی حوصلہ شکنی کی جاسکتی ہے، ہاں جب کسی بھی صورت مفاہمت نہ ہوتو مسائل کے حل اور ظلم سے فروکش ہونے کی آخری صورت ہے، جنگ Fight اسلام کے موثر اور مثبت تعلیمات کا تعلق انسانی زندگی کے ہر فرد سے ہے،اور فروغ امن و آشتی کے لیے تمام مذاہب میں اسلام کی تعلیمات نمایاں ہیں، قارئین! ادھر دیکھیں جہاد، قتل،جنگ اور ظلم سے متعلق اسلامی نظریہ کیاہے؟ اسلام فساد فی الارض ظلم و جبر اور جنگ و تصادم کو پسند نہیں کرتا، قیام امن کی خاطر معرکہ آرائی، ظالم وفاسق شرپسندوں کے مقابل دفاعی مورچہ سنبھالنے سے بھی نہیں روکتا، اسلام میں جنگ و غزوات کی جو بھی تاریخ ملتی ہے، اس کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کرینگے، تو نتیجتاً آپ یہ کہنے پر حق بجانب ہونگے کہ ان سب کے پیچھے امن انصاف حقوق کی بازیابی باطل کی سرکوبی،اور اپنی جان و مال کے تحفظ کا مقصد کار فرما رہاہے، اور وہ بھی کہ جب ایسی صورت پیش آئی ہے، تو کچھ ضروری شرائط اور قرآنی احکامات نبوی ارشادات کے ساتھ مسلمان رزم میں اترے ہیں، مطلب صاف ہے کہ اسلام ہر طرح کے ظلم اور ظالم کی معاونت سے روکتا ہے، مذہبی وطنی کسی بھی قید کے بغیر تمام انسانوں کے لیے ایک الٰہی ضابطہ ہے، ”مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًاؕ:“ ترجمہ جس نے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بدلے کے بغیر کسی شخص کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک جان کو (قتل سے بچا کر) زندہ رکھا اس نے گویا تمام انسانوں کو زندہ رکھا(سورہ مائدہ آیۃ ۳۲) ہاں اسلام میں قتل و قتال کی چند جائز صورتیں یہ ہیں، :قاتل کو قصاص میں قتل کرنا، زمین میں فساد پھیلانے والے کو قتل کرنا، شادی شدہ مرد یا عورت کو زنا کرنے پر بطورِ حد رجم کرنا، مرتد کو قتل کرنا۔باغی کو قتل کرنا، غور کریں! اسلام کس قدر انسانی جان کی حرمت کا پاسبان اور جارحیت قتل وغارت گری کا مخالف ہے، اسلامی جہاد کے نام پر پوری دنیا فریب دینے دیکر انسانوں کو اسلام سے متنفر کرنے والے دھشت گرد اور آتنکواد کا ناجائز لیبل قوم مسلم کے ساتھ چسپاں کرنے والوں کو دعوت فکر دی جارہی ہے،کہ وہ ذرہ قومی ذاتی عناد و عصبیت سے نکل کر کبھی اسلام اور اس کے قوانین کا غائرانہ مطالعہ کریں تو سمجھ میں آئیگا، اسلام ہی نجات دہندہ دین فطرت ہے اسی میں دنیاوی اخروی قرار ہے، اسلام کا تصور جہاد!یہ ایک دفاعی defense قوت ہے، یہ دراصل اپنے دین وایمان عزت نفس جان و مال کے تحفظ اور ظلم و جبر فساد فی الارض کے خاتمہ کے لیے ہے، اسلام میں جہاد بالنفس بالمال جہاد باللسان والقلم ہر مسلمان کی زندگی کا لازمی حصہ ہے، ہاں جہاد بالسیف کے مقابل ڈٹ جانا اور اسلحے ہتھیار سے دشمنوں کا جواب دینا، بعض سنگین صورتوں میں اسلام نے اس کی اجازت دی ہے،اس لیے بھی کہ کوئی قوم آپ حملہ کرے آپ کی جان مال ایمان سب خطرے میں ہوں تو ایسے موقع سے خاموش تماشائی بن کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا انسانی اسلامی غیرت کے خلاف اور احمقانہ عمل ہے، اسی کو عرف عام میں بزدلی کہتے ہیں، اور بزدلی ایک مذموم عمل ہے، ایسی صورت میں جیسے کو تیسا جواب دینا انسان کا اپنا فریضہ ہوتا ہے، لیکن اس کے بھی شرائط ہیں،جیساکہ میں نے اوپر ذکر کیا، اگر کبھی کوئی قوم جنگ پر امادہ کرے اور آپ میدان جنگ میں ہوں تو کیا حکم ہے، پیغمبر اسلام ﷺ ارشاد فرماتے ہیں، وَلَا تَقْتُلُوا شَيْخًا فَانِيًا، وَلَا طِفْلًا، وَلَا صَغِيرًا، وَلَا امْرَأَةً نہ کسی بوڑھے کو قتل کرو، نہ شیر خوار بچے کو، اور نہ نابالغ کو اور نہ عورت کو، ( سنن ابی داود کتاب الجہاد ) اس مفہوم کی بہت سی روایات موجود ہیں، لیکن آپ تعجب کرینگے کہ ایسے موقع سے صرف خواتین بزرگ اور بچوں کے قتل کی شدید ممانعت نہیں بلکہ بہقی سنن کبریٰ میں ایک روایت یہ بھی ہے، کہ ”بچے عورت اورکسی بوڑھے کو قتل نہ کرنا اور چشموں کو خشک و ویران نہ کرنا جنگ میں حائل درختوں کے سوا کسی دوسرے درخت کونہ کاٹنا، کسی انسان کا مثلہ نہ کرنا کسی جانور کا مثلہ نہ کرنا، بد عہدی نہ کرنااور چوری وخیانت نہ کرنا“! ﷲ اکبر نبوی ہدایات پر قربان جائیں پیغمبر اسلام ﷺ نےانسانوں کے ساتھ ساتھ حیوانات اور نباتات اور پھر اس موقع پر اپنے جانی دشمنوں سے عہد شکنی اور چوری وخیانت سے بھی منع فرمایا، کیا کسی مذہب میں اس طرح کے قوانین موجود ہیں؟ہرگز نہیں بلکہ قوموں کا تومزاج ہے کہ جب کوئی قوم کسی قوم پر کوئی ملک کسی ملک پر حملہ آور ہو اور دو قوتوں کا تصادم ہوتو بچے بوڑھے اور خواتین کسی کی رعایت نہیں ہوتی، جو سامنے آیا اسی کو قتل کردیا،تاکہ پوری نسل مجبور محتاج ہو جائے۔ جیساکہ ابھی دنیا کا منظر نامہ آپ کے سامنے ہے،روس اور یوکرین دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی بڑھتی جارہی ہے، جدید تکنیکی ایٹمی ذرائع سے یوکرین پر زمینی سمندری اور فضائی راستوں سے حملے ہورہے ہیں،گھر کا گھر تبا ہورہا ہے، کئی شہر برباد کردیے گیے، تعلیمی تربیتی اور صنعتی تجارتی مقامات سفارت خانے کھنڈرات میں تبدیل ہورہے ہیں، گولہ باری کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے،یوکرین اپنی آزادی خود مختاری اور مسلسل دفاع میں لگا ہوا ہے، خیر یہ تو آج یہ یوکرین کے ساتھ ہوا، لیکن المیہ یہ ہے کہ آئے دن مسلمانوں کے ساتھ دنیا کی جابر قوموں کا یہی رویہ دیکھنے کو آتا ہے، عراق ،شام، لیبیا، افغانستان،یمن، فلسطین برما کے حالات ہمارے سامنے ہیں،کتنی زندگیاں اجڑ گئی، ظالموں نے کتنے چمن تاراج کیے، امن کے جھوٹے دعویداروں کو انسانی اقدار کا کوئی پاس لحاظ نہیں رہا، خود غرضی طبقاتی کشمکش نسلی امتیاز گروہی عصبیت اور اس سے بڑھ کر اسلام دشمنی نے مغرور قوتوں کو ظالم بناکر رکھ دیا ہے،جبکہ اسلام دشمنی درحقیقت انسانیت اور امن دشمنی ہے، مسلمانوں کے تئیں دنیا بھر کے حالات کسی سے پوشیدہ نہیں،ایسا لگتاہے کہ سب سے بڑی انصاف پسند ظلم مخالف قوم مسلمان آج سب سے بڑی مظلوم قوم ہے،روح فرسا اذیت ناک مناظر دیکھ کر کلیجہ منھ کو آتاہے ۔ اور ملک عزیز میں بھی تشدد کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، اقتصادی معاشی سماجی نا انصافی کے ساتھ فرقہ وارانہ فسادات بھڑکائے جارہے ہیں،مسلمان گائے حجاب کلمہ کے نام پر ماب لنچنگ کا شکار ہورہا ہے، ابھی بہار سمستی پور میں گائے کے گوشت کا بہانہ بناکر خلیل رضوی نوجوان کا بہیمانہ قتل ہوا، اور متواتر اس طرح کے حادثات ہورہے ہیں، ہر طرف خوف ہے وحشت ہے تاریکی ہے، افسوس مسلمانوں کو ستایا جارہاہے، اور برسر اقتدار حکومت سب کا ساتھ وکاش وشواس کا نعرہ تو لگا رہی ہے، لیکن معاملہ بالکل برعکس ہے، دنگائی شرپسند عناصر کا عروج ہے، حالات بتارہے ہیں یاتو حکومت ناکام ہے، یا پھر یہ سارا کچھ حکومت کے شہ پر ہورہا ہے ۔ مسلمانوں کو اس حوالے سے کوئی موثر لائحہ عمل اپنانا چاہئیے، خیر ہر رات کی صبح ہوتی ہے، اور ظلم کی عمر مختصر ہوتی ہے، حق و انصاف کا بول بالا ہوتاہے، ان شاء ﷲ ہمارے کان بھی نوید سحرسے روشناس ہونگے، انقلاب آئیگا بایں شرط کہ ہم بھی کوشش کریں، رنگ محفل چاہتا ہے اک مکمل انقلاب چند شمعوں کے بھڑکنے سے سحر ہوتی نہیں آگے پڑھیں!ظالموں کا انجام
”وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ“ اور (اے سننے والے)ہرگز ﷲ کو ان کاموں سے بے خبر نہ سمجھنا جو ظالم کررہے ہیں ۔ﷲ انہیں صرف ایک ایسے دن کیلئے ڈھیل دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی(سورۃ ابراہیم آیۃ ۴۲) دوسرے مقام پر ہے ”وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠: اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلّط کرتے ہیں بدلہ اُن کے کیے کا(سورہ انعام ۱۲۹) اور ایک جگہ ہے، ”وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ“:اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر بےشک اس کی پکڑ دردناک کرّی(سخت) ہے(سورہ ھودآیۃ ۱۰۲) حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک ﷲ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے اور جب اس کی پکڑ فرما لیتا ہے تو پھر اسے مہلت نہیں دیتا(بخاری کتاب التفسیر) یاد رہے! ظلم حرام ہے، مظلوم کی آہ بارگاہ کبریا تک پہونچ کر رہتی ہے، آخرت میں ظالم کے لیے دردناک عذاب ہے، لیکن دنیا میں بھی ظلم کا انجام بھگتنے مغرور ظالم لوگوں کو دیکھا گیا ہے، دیکھ لیں! یوکرین اور روس کی رسہ کشی آپسی محاربت جنگ آپ کے سامنے ہے، یوکرین کی پکار سننے والا کوئی نہیں اگر کوئی پکار بھی رہا ہے تو ان کی آواز میں کوئی دم اور خم نہیں، یوکرین بھی اپنے دور میں بڑا ظالم رہا ہے،بتایا جاتا ہے کہ امریکہ اور عراق 2003کی جنگ میں یوکرین نے ظلم کرنے میں امریکا کا بڑا ساتھ دیا اور بے قصور لوگوں کے خون سے اپنے ہاتھ کو رنگین کرنے کے لیے اس نے امریکا کی حمایت میں اپنی فوج بھی بھیجی تھی، لیکن آج خود مظلومیت سے دوچار ہے، ہر طرف آہ و فغاں اور خون کی ندیاں جاری ہیں، درس عبرت! اب بھی وقت ہے کہ زمام حکومت سنبھالنے والے ہوش کے ناخن لیں موجودہ حالات ظالم وجابر مغرورحکمرانوں کے لیے باعث عبرت ہے، ظلم تو ظلم ہے چاہے کوئی فرد کرے یا افراد کرے حکمراں کرے یا پھر رعایا کرے، اپنوں پر ہو یا بیگانوں پر ہو، خدائی قانون ہے، دیر سے ہی سہی ظالم اپنے انجام کو پہونچ کر رہتاہے، ہمیں وہ دعا کرنی چاہیے جو ہمیں سکھائی گئی ہے، ربنا لاتجعلنا مع القوم الظلمین:اے ہمارے رب تو ہمیں ظالموں کے ساتھ نہ کر اسلام میں ظلم پر خاموشی بھی ظلم ہے،ظلم پر خاموشی دراصل ظالم کی خاموش حمایت ہے، اسلام میں مجرمانہ خاموشی کی کوئی گنجائش نہیں اسلام احتجاج کاحکم دیتاہے،حدیث نبویﷺ ہے *انصر اخاك ظالما او مظلوما بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم“(سنن ترمذی کتاب الفتن) صحابہ نے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں عرض کیا ہم نے مظلوم ہونے کی صورت میں تو اس کی مدد کی لیکن ظالم ہونے کی صورت میں اس کی مدد کیسے کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے ظلم سے باز رکھو، اس کے لیے یہی تمہاری مدد ہے، دنیا کے تمام پڑھے لکھے لوگوں کو چاہئیے کہ وہ مظلوم کی آواز بنیں اور ظلم کے خلاف سراپا احتجاج بن جائیں، تاکہ دنیا سے ظلم کا خاتمہ ہو انسانیت محفوظ رہ سکے،ہم دنیا بھر میں ہونے والے مظالم کی مذمت کرتے ہیں، ﷲ کریم ظالموں کو ہدایت دے یا پھر نشان عبرت بنائے، مظلوموں کی حفاظت فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ یہ کہہ رہی ہے اشاروں میں گردش گردوں کہ جلد ہم کوئی سخت انقلاب دیکھیں گے ان شاء ﷲ عزوجل مفتی محمد صابررضامحب القادری نعیمی کشنگنجوی حال مقام سورجاپور اتردیناجپور بنگال
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.