Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

اسلام میں ناچ گانے اور ڈھول باجے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

اسلام میں ناچ گانے اور ڈھول باجے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
Reference 1623 September 18, 2025 6,229 views
اصل سوالاسلام میں ناچ گانے اور ڈھول باجے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

اسلام میں ناچ گانے اور ڈھول باجے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ مسمی حاجی عبدالرحمن ولد حاجی کاشم دین قوم گجر ساکن رانی بڈھیتر وارڈ نمبر ۳ تحصیل نوشہرہ ضلع راجوری کے صاحبزادے کی شادی کے موقع پر بذات خود دولہا حاجی عاشق حسین ولد حاجی عبدالرحمن خوب ناچے اور دوسروں کو بھی نچایا۔ جس میں عورتیں بھی موجود تھیں اور ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ڈیک کی آواز پر ایک نوجوان لڑکی بھی خوب دل کھول کر ناچیں بطور ثبوت ویڈیو موجود ہے یعنی اسلامی احکامات کی دھجیاں اڑائی گئی یہ حاجیوں کا حال ہے علاقہ ھذا میں متقی پرہیزگار لوگ حیران و پریشان ہیں اگر شریعت اسلامیہ نے ایسے بےلگام حاجی حضرات پر لگام نہ کسی تو عوام مزید بے راہ روی کا شکار ہو جائے گی وقت رہتے میں ان کو نہ روکا گیا تو شریعت اسلامیہ کا مزید مذاق اڑایا جائے گا لہذا قرآن و حدیث کی روشنی میں ان کا یہ عمل قابل گرفت ہے یا نہیں ؟ اور تا توبہ عوام ان کا حقہ پانی بند کریں یا نہیں؟   المستفتی۔ عوام اہلِ سنت بذریعہ قاری طالب حسین رضوی  الجواب بعون الملك الوهاب: ناچ ،گانا یونہی ڈھول،باجا بجانا حرام سخت حرام ہے لہذا جن لوگوں نے ناچ،گانے کی مجلس منعقد کی اور جنہوں نے ایسی بری مجلس میں شرکت کی، یقینا سب کے سب فاسق وفاجر حرام کبیرہ کے مرتکب مستحق غضب جبار وعذاب نار ہیں جب تک یہ لوگ اپنی اس قبیح حرکت سے باز نہ آجائیں اور علی الاعلان توبہ نہ کرلیں مسلمانوں کو چاہیے کہ انکا بائیکاٹ کریں نہ تو ان کے ساتھ کھائیں پئیں اور نہ نشست وبرخاست رکھیں. ارشاد باری تعالی ہے”ومن الناس من يشترى لهو الحديث ليضل عن سبيل الله بغير علم ويتخذها هزوا آولئك لهم عذاب مهين”(سورہ لقمان:آیت:۶)ترجمہ:-اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے بہکا دیں بے سمجھے اور اسے ہنسی بنالیں ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے”(کنز الایمان ص ۷۴۰) لهو الحديث،سے متعلق تفسیر الجامع لأحكام القران للقرطبي میں ہے”الغناء والمزامیر”(ج ۱۴ ص ۵۱/المكتبة الشيعية) یعنی لھوالحدیث سے مراد ناچ گانا اور آلات موسیقی(ڈھول،باجا،سارنگی وغیرہ) ہیں- لفظ “لھو” کے متعلق حضور صدر الافاضل فخر الاماثل علامہ نعیم الملة والدین قدس سرہ العزیر تحریر فرماتے ہیں”لہو یعنی کھیل ہر اس باطل کو کہتے ہیں جو آدمی کو نیکی سے اور کام کی باتوں سے غفلت میں ڈالے کہانیاں افسانے اسی میں داخل ہیں”(تفسیر خزائن العرفان مع کنز الایمان ص ۷۴۰) مذکورہ آیت کریمہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے”اس آیت سے علماء کرام نے گانے بجانے کی حرمت پر استدلال کیا ہے”(ج ۷ ص ۴۷۵) حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں”ليكونن من امتى اقوام يستحلون الحر والحرير والخمر والمعازف”(صحیح بخاری: کتاب الاشربہ: باب ماجاء فیمن یستحل الخمر ویسمیه بغير اسمه:رقم الحدیث : ۵۵۹۰) یعنی ضرور میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہونے والے ہیں کہ حلال ٹھہرائیں گے عورتوں کی شرمگاہ یعنی زنا اور ریشمی کپڑوں اور شراب اور باجوں کو- در مختار میں ہے”قلت:وفي البزازية:استماع صوت الملاهى كضرب قصب ونحوه حرام لقوله عليه الصلاة والسلام:استماع صوت الملاهى معصيةوالجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر:أي، بالنعمة”(درمختار مع رد المحتار ج۹ ص ۵۰۴/ دارعالم الكتب الرياض) البحر الرائق میں ہے”(قوله أو يغنى للناس) لأنه يجمع الناس على ارتكاب كبيرة كذا فى الهداية وظاهره ان الغناء كبيرة”(ج ۷ ص ۱۴۸/ دار الكتب العلمية،بيروت،لبنان) فتح القدیر میں ہے “ولذا عللہ في الكتاب بأنه يجمع الناس على ارتكاب كبيرة وفي النهاية أن الغناء في حقهن مطلقا حرام لرفع صوتهن وهو حرام”(ج ۷ ص ۳۸۱/دار الکتب العلمیة،بیروت،لبنان) فتاوی رضویہ میں ہے “مختصرا اسی طرح یہ گانے باجے کہ ان بلاد میں معمول ورائج ہیں بلاشبہ ممنوع وناجائز ہیں”(ج ۹ ص ۷۷ نصف اول) فتاوی امجدیہ میں ہے”ڈھول بجانا،عورتوں کا گانا،ناچ،باجا،یہ سب حرام ہیں”(ج۴ ص۷۵) واللہ تعالی اعلم بالصواب. کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر۔مقیم حال اجمیر معلی زادہ اللہ تعالى فضلا وشرفا

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.