01
The questionSawaal
اصل سوالافطار کی دعا بعد افطار پڑھنا سنت ہے | افطار کی دعا کب پڑھنا چاہئیے؟
02
The responseAl-Jawab
افطار کی دعا بعد افطار پڑھنا سنت ہے
افطار کی دعا کب پڑھیں بعد میں افطار کے یا اس سے پہلے مدلل جواب ارسال فرمائیں. المستفتی مجاہد رضا ڈوکمی الجواب بعون الملک الوہاب دعائے افطار بعد افطار پڑھنا چاہئے یہی سنت ہے :سنن ابی داؤد شریف میں حضرت معاذ بن زہرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: ” أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ “. (سنن أبي داود, رقم الحدیث:٢٣٥٨, كِتَابٌ الصَّوْمُ, بَابٌ الْقَوْلُ عِنْدَ الْإِفْطَارِ ) یعنی حضرت معاذ بن زہرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو خبر پہنچی کہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم جب افطار کرلیتے تو یہ دعا پڑھتے : اے اﷲ! میں نے تیری رضا کی خاطر روزہ رکھا اور تیرے رزق پر افطار کیا۔ امام محمد بن عبد اللطیف المعروف ابن الملک اور امام حسین بن محمود المظہری رحمہمااللہ تعالی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں :’’يقرأ هذا الدعاء بعد الإفطار‘‘ اھ(شرح المصابیح لابن الملک ج٢ ص٥١٩, المفاتیح شرح المصابیح للمظھری ج٣, ص,٢٤, مطبوعہ دار النوادر قطر) یعنی یہ دعا افطار کرنے کے بعد پڑھی جائے گی۔ حضرت علامہ علی قاری رحمہ اللہ تعالیٰ مرقاۃ المفاتیح میں فرماتے ہیں : “(کان إذاأفطر قال) أی دعا، وقال ابن الملک :أی قرأبعد الإفطار ” اھ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج٤, ص١٣٨٧, مطبوعہ دار الفکر بیروت ) یعنی: (جب افطار کرتے تو کہتے) یعنی دعا کرتے، علامہ ابن الملک نے کہا : یعنی افطار کرنے کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے۔ حضور اعلی حضرت تحریر فرماتے ہیں :’’مقتضائے سنّت یہی ہے کہ بعد غروب جو خرمے یا پانی وغیرہ از قبل نماز افطار معجل کرتے ہیں اُس میں اور علم بغروب شمس میں اصلافصل نہ چاہئے یہ دعائیں اس کے بعد ہوں ۔(فتاویٰ رضویہ مترجم ج١٠, ص٦٤٩, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.