01
The questionSawaal
اصل سوالالکحل ملی ہوئی دوا کا استعمال جائز ہے یاناجائز؟
02
The responseAl-Jawab
الکحل ملی ہوئی دوا کا استعمال جائز ہے یاناجائز؟
ہومیوپیتھک دوا کاکھانا کیسا ہے ، میں نے سنا ہے اس میں الکحل ملا رہتا ہے. المستفتی:قاری عرفان بھجواری ضلع سدھارتھ نگر یوپی انڈیا الجواب بعون الملک الوھاب الکحل آمیز دواؤں کا استعمال جائز ہے یا نہیں اس مسئلہ پر جامعہ اشرفیہ مبارک پور یوپی انڈیا میں فقہی سیمینار ہوا جس کا نتیجہ مفتی نظام الدين صاحب نے ان الفاظ میں تحریر فرمایا: “مجلس شرعی کی ساری ابحاث اور حضرات مفتیان کرام کے موصولہ مقالات پرغورکرنےکےبعدفیصل بورڈاس نتیجے پر پہو نچا ہے: اس دورمیں انگریزی دواؤوں میں اسپرٹ،الکحل اورٹنکچرآمیزدواؤوں کااستعمال عموم بلوی کی حدتک پہنچ چکاہے ۔ مجدداعظم اعلی حضرت قدس سرہ نےپڑیاکی رنگت کے بارےمیں عموم بلوی اوردفع حرج کی بنیادپرطہارت اورجوازکافتوی دیاہےجیساکہ فتاوی رضویہ ج:2ص:45اورص:50نیزفتاوی رضویہ جلدیازدہم ص:45رسالہ الفقہ التسجلی فی عجین النارجلی میں ہے. اس ارشادکی روشنی میں فیصل بورڈکے ارکان اس بات پرمتفق ہیں کہ مذکورہ انگریزی دواؤوں کےاستعمال کی بھی بوجہ عموم بلوی دفع حرج کےلئے اجازت ہے ۔ البتہ یہ اجازت صرف انہیں صورتوں کےساتھ خاص ہےجن میں ابتلاءعام(یعنی اکثروبیشتر لوگ مبتلاہوں) اور حرج متحقق ہو” فیصل بورڈتین علماپرمشتمل تھا: (1)جانشین مفتی اعظم حضورتاج الشریعہ حضرت علامہ ازہری صاحب قبلہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ. (2)محدث کبیرحضرت علامہ ضیاءالمصطفی صاحب قادری دام ظلہ العالی. (3)فقیہ ملت حضرت مولانامفتی جلال الدين احمدامجدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ. (مجلس شرعی کےفیصلے ج:1ص:511،512ناشر:مجلس شرعي جامعہ اشرفیہ مبارک پور) ناقل: گدائے حضور رئیس ملت مفتی محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.