01
The questionSawaal
اصل سوالامام نے نماز میں آیت سجدہ تلاوت کی اور سجدہ عمدا یا سہوا نہیں کیا؟
02
The responseAl-Jawab
امام نے نماز میں آیت سجدہ تلاوت کی اور سجدہ عمدا یا سہوا نہیں کیا؟
مفتی محمد ارشد حسین فیضی۔ عرض یہ ہے کہ امام نے دوران نماز آیت سجدہ تلاوت کی لیکن نماز میں سجدہ نہیں کیا صورت معروضہ میں امر مطلوب یہ ہے کہ اگر ایسا عمدا کیا ہو یا خطأ ایساہوا ہو دونوں صورتوں میں نمازی اور نماز دونوں کا کیا حکم ہوگا ؟ نیز ایسی صورت میں جب کہ امام سجدہ کو چھوڑتاہے تو کیا مقتدی کو اجازت ہوگی کہ امام کی مخالفت کرتے ہوے سجدہ بجا لاۓ؟ تفصیلا جواب عنایت فرماکر خلجان سے نجات عطا فرماٸیں (٢) زید ایک ایسے علاقہ میں رہتا ہے جہاں مسجد نہیں ہے ۔لیکن رمضان المبارک کے مہینے میں وہاں کے رہنے والے وہیں کے ایک شخص کے مکان میں تراویح کا انتظام کر کے با جماعت تراویح ادا کرتے ہیں ۔ تو کیا وہاں کے رہنے والوں پر آخری عشرے کا اعتکاف واجب ہوگا؟بینوا توجروا المستفتی:محمد قطب الحسن نظامی متعلم:جامعۃ المدینہ فیضان صدیق اکبر موطن، نیپال الجواب بعون الملک الوھاب نماز میں آیت سجدہ پڑھی تو اس کا سجدہ نماز ہی میں واجب ہے بیرون نماز نہیں ہوسکتا اگر امام نے سجدہ نہیں کیا تو بھی نماز ہوگئی خواہ امام نے قصداً سجدہ ترک کیا ہو یا سہواً البتہ اگر قصداً سجدہ نہیں کیا تو گنہگار ہوا امام پر توبہ لازم ہے بشرطیکہ آیت سجدہ کے بعد فوراً رکوع وسجود نہ کیا ہو اور اگر سہواً نہ کیا اور سلام پھیر دیا تو جب تک کوئی منافی نماز کام نہ کیا ہو سجدہ کرکے سجدۂ سہو کرلے. درمختار میں ہے”ولوتلاھا فی الصلاۃ سجدھا فیھا لاخارجھا لما مر، وفی البدائع واذا لم یسجد اثم فتلزمہ التوبۃ”اھ(ج٢ص٧٠٥، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ) ردالمحتار میں ہے”اذا لم یسجد أثم… الخ أفاد انہ لایقضیھا قال فی شرح المنیۃ وکل سجدۃ وجبت فی الصلاۃ ولم تؤد فیھا سقطت ای لم یبق السجود لھا مشروعا لفوات محلہ اھ اقول ھٰذا اذا لم یرکع بعدھا علی الفور والا دخلت فی السجود وان لم ینو ھا کما سیأتی وھو مقید ایضاً بما اذا ترکھا عمداً حتی سلم وخرج من حرمۃ الصلاۃ، اما لو سھوًا وتذکرھا ولو بعد السلام قبل أن یفعل منافیا یأتی بھا ویسجد للسھو”اھ(ج٢ص٧٠٥، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، دار المعرفۃ بیروت لبنان) ایسی صورت میں مقتدیوں پر لازم ہے کہ امام کی متابعت کریں مخالفت کرتے ہوئے سجدہ نہ کریں اگرچہ آیت سنی ہو. غنیۃ المستملی میں ہے”وتجب علی المؤتم بتلاوۃ امامہ وان لم یسمعھا لوجوب المتابعۃ علیہ حتی لولم یسجدھا الامام لایسجد وان سمعھا لانہ مامور بالمتابعۃ وعدم المخالفۃ”اھ (ص٥٠٠، کتاب الصلاۃ، باب فی سجدۃ التلاوۃ) (٢)رمضان کے اخیر عشرے کا اعتکاف واجب نہیں بلکہ ہر بستی(شہر ہو یا گاؤں) کے لوگوں پر سنت مؤکدہ علی وجہ الکفایہ ہے جس کی ادائیگی کے لیے مسجد شرط ہے لہذا جہاں مسجد نہیں وہاں کے رہنے والوں کے لیے بھی سنت ہے اس بستی کے باشندوں پر لازم ہے کہ کسی قریب کے مسجد میں اعتکاف کریں. درمختار میں ہے”وسنۃ مؤکدۃ فی العشر الاخیر من رمضان ای سنۃ کفایۃ کما فی البرھان وغیرہ لاقترانھا بعدم الانکار علی من لم یفعلہ من الصحابۃ”اھ(ج٣ص٤٩٥،کتاب الصوم، باب الاعتکاف) اسی میں ہے”ھو شرعاً لبث ذکر ولو ممیزا فی مسجد جماعۃ ھو مالہ امام ومؤذن أدیت فیہ الخمس اولا وعن الإمام اشتراط أداء الخمس فیہ”اھ وفی ردالمحتار” صرح بھٰذا الاطلاق فی العنایۃ وکذا فی النھر وعزاہ الشیخ اسماعیل الی الفیض والبزازیۃ وخزانۃ الفتاوی والخلاصۃ وغیرھا” اھ(ج٣ص٤٩٣، کتاب الصوم، باب الاعتکاف) فتاویٰ ھندیہ میں ہے”وأما شروطہ فمنھا مسجد الجماعۃ فیصح فی کل مسجد لہ اذان واقامۃ ھو الصحیح کذا فی الخلاصۃ”اھ(ج١ ص٢١١،کتاب الصوم،الباب السابع فی الاعتکاف)وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبہ:محمد ارشد حسین الفیضی . ٢٥ربیع الثانی ١٤٤٤ھ
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.