Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

امام کو نوکر کہنا کیسا ہے / امام کو نوکر کہنے والے پر کیا حکم ہے ؟

امام کو نوکر کہنا کیسا ہے / امام کو نوکر کہنے والے پر کیا حکم ہے ؟
Reference 1153 September 18, 2025 10,049 views
اصل سوالامام کو نوکر کہنا کیسا ہے / امام کو نوکر کہنے والے پر کیا حکم ہے ؟

امام کو نوکر کہنا کیسا ہے / امام کو نوکر کہنے والے پر کیا حکم ہے ؟

سوال : زید یہ کہتا ہے کہ ہم امام کو پگار دیتے ہیں ہم اس کو نوکر ہی کہیں گے کیا زید کا کہنا درست ہے اور کہنے والے پر کیا حکم ہے؟ (٢) امام کی برائی بیان کرنے والے اسی امام کے پیچھے نماز پڑھیں تو کیا ان کی نماز ہو جائے گی؟ (٣) گھڑی کی زنجیر سونے چاندی یا دھاتوں کی بنی ہوئی پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ (١) زید کا کہنا درست نہیں اس لیے کہ جیسے ماں باپ کی بیوی ضرور ہے مگر اسے اس لفظ کے ساتھ یاد کرنا ماں کی توہین ہے. پگار لینے والا ضرور نوکر ہے مگر تنخواہ دار امام کو نوکر کہنا اس کی توہین ہے. لہذا زید پر لازم ہے کہ امام سے معافی مانگے اور آئندہ اس کے بارے میں اس لفظ کے بولنے سے احتراز کرے. (٢) اگر امام فاسق معلن ہے اس لیے اس کی برائی بیان کرتا ہے تو اس صورت میں اس پر کوئی گناہ نہیں اور ایسے امام کے پیچھے کسی کو نماز پڑھنا جائز نہیں. اور اگر فاسق معلن نہیں ہے تو برائی کرنے والا سخت گنہگار حق العباد میں گرفتار مگر اس کی نماز اس کے پیچھے ہو جائے گی .واللہ تعالی اعلم ۔ (٣) گھڑی سونے چاندی کی زنجیر لگی ہوئی مرد کو پہننا حرام اور دوسری دھاتوں کی ممنوع ہے ان کو پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے. ھکذا قال الامام احمد رضا البریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان ۔ واللہ تعالی اعلم والیہ المرجع والمآب ۔ کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 272

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.