Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

اپنی بات نہ ماننے والے کو شیطان سے تشبیہ دینا کیسا ہے از مفتی محمد ارشاد علیمی

اپنی بات نہ ماننے والے کو شیطان سے تشبیہ دینا کیسا ہے از مفتی محمد ارشاد علیمی
Reference 2 September 18, 2025 125 views
اصل سوالبخدمت مفتی بورڈ دار الافتاء پونچھ، مبارکپور(یوپی) سرینگر کشمیر

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام وعلمائے دین بسوال ذیل کہ ایک شخص ریاض احمد امام و خطیب جامع مسجد گلزار مدینہ میدان گگڑیاں ہے، مذکور(امام) نے بروز جمعہ اپنے خطاب میں کہا کہ اگر مولوی مسجد شریف میں ایک صف ڈالنے کے لیے کہے اور میراج دین اور جہانگیر احمد اور مولوی صاحب کے حکم کی خلاف ورزی جو کرے وہ اس طرح ہے جس طرح عزازیل کو خداوند قدوس نے فرمایا تھا کہ آدم کو سجدہ کر مگر اس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا۔ وہ شخص جو مولوی اور میراج دین اور جہانگیر احمد کے حکم کو نہ مانے وہ بھی اسی طرح راندا جائے گا، مولوی صاحب نے اپنے آپ اور معراج دین اور جہانگیر احمد کی تشبیہ خداوند کریم سے دی اور مسجد میں صف ڈالنے والوں کو شیطان کہا۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں فرمائیں کہ ایسے مولوی صاحب کے متعلق کیا حکم ہے اور اس کے ساتھیوں کے متعلق کیا حکم ہے۔ جوابا مشکور فرمائیں
تحریر 3/8/2025
عرض سائلین:(۱) عبد الحمید ولد عبد الخالق میر (۲) شبیر احمد ولد محمد میر (۳) جاوید اقبال غلام محمد میر (۴) عاشق حسین ولد شبیر احمد میر (۵) عبد الحمید ولد نثار میر (۶) غلام محمد ولد عبد الخالق میر (۷) محمد اسلم ولد نمی بٹ
ساکنان : گگڑیاں میدان تحصیل منڈی ضلع پونچھ جموں وکشمیر الھند

باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب: مسجد میں کوئی چیز دینا باعث اجر و ثواب ہے نہ دینے پر کوئی گناہ نہیں۔ برتقدیر صدق سوال مولوی مذکور فی السوال(ایک امام وخطیب کو ایسی نازیبا حرکات جن سے وقار علما مجروح ہو زیب نہیں دیتیں، ان سے اجتناب لازم ہے) کا اپنے اور اپنے ساتھیوں معراج دین اور جہانگیر احمد کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ابلیس کی طرح راندہ ہوا قرار دینا ہرگز ہرگز درست نہیں، مولوی مذکور اور انکے ساتھیوں بشرطیکہ وہ اس کی بات پر راضی ہوں نے یہ کہہ کر مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے، ان کو چاہیے کہ جنکی کی دل آزاری کی ہے ان سے معافی مانگیں، نیز اللہ رب العزت کی بارگاہ میں توبہ صادقہ کریں ورنہ حقوق العباد میں گرفتار ہوکر مستحق غضب جبار وعذاب نار ہوں گے۔ حضورﷺ کا فرمان مبارک ہے: مَنْ اٰذٰی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَ مَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی الله” جس نے کسی مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی۔(المعجم الاوسط للطبرانی/ ج۴ ص ۶۱/ المکتبۃ الشیعیۃ) یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی بالآخر اللہ تعالیٰ اسے عذاب میں گرفتار فرمائے گا۔ نیز فرمان مبارک ہے: “لَیْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ مُسْلِمًا اَوْضَرَّہٗ اَوْمَاکَرَہٗ” وہ شخص ہمارے گروہ میں سے نہیں ہے جو مسلمان کو دھوکا دے یا تکلیف پہنچائے یا اس کے ساتھ مکر وفریب کرے۔ (کنزالعمال/ کتاب الاخلاق/ج ۲ ص ۲۱۸/بیروت،لبنان) حضور محدث اعظم پاکستان علامہ سردار احمد چشتی قادری نور اللہ مرقدہ علما و مبلغین کو ہدایات فرماتے ہوئے رقمطراز ہیں: “(۱)وقار علم وعلماء کو ہمیشہ مد نظر رکھیں کوئی ایسا کام نہ کریں کہ وقار علماء مجروح ہو۔ (۲)آپ دین کے مبلغ اور ترجمان ہیں آپ کا کردار بے داغ ہونا چاہیے۔(۳)دنیاداروں سے بے تکلفانہ روابط قائم نہ کریں۔(۴)بے ضرورت بازار میں نہ جائیں اور نہ کسی دکان پر بیٹھیں۔(۵)آپ ہوں اور کتابوں کا مطالعہ۔(۶)بیان ٹھوس کریں۔مسئلہ جو بیان کریں اس کا ثبوت تحقیقا یا الزاما آپ کے پاس ہو۔(۷)لباس ہمیشہ اجلا اور اعلی پہنیں۔(۸)شیروانی استعمال کریں اس سے علماء کا وقار بلند ہوتا ہے۔(۹)عمدہ جوتا استعمال کریں تاکہ دنیاداروں کی نگاہ عالم کے جوتوں پر رہے۔(۱۰)نمازیوں سے اخلاق سے پیش آئیں۔(۱۱) جو سنی دھوکے میں ہیں انکی اصلاح کی کوشش جاری رکھیں “(حیات محدث اعظم ص۸۴تا ۸۵/ناشر: رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ،اندرون لوہاری گیٹ،لاہور) والله تعالى أعلم بالصواب کتبہ:۔ محمد ارشاد رضا علیمیؔ عفی عنہ خادم دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر ۱۰/ربیع الاول ۱۴۴۷ھ مطابق ۴/ستمبر ۲۰۲۵ء الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.