01
The questionSawaal
اصل سوالایک مشت سے کم داڑھی کرنے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم
02
The responseAl-Jawab
ایک مشت سے کم داڑھی کرنے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم
سوال: جو شخص داڑھی ایک مٹھی سے کم کرے اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ الجواب بعون الملک الوھّاب پوری ایک مُشت داڑھی رکھنا واجب ہے اور منڈانا یا ایک مٹھی سے کم کروانا دونوں حرام و گناہ ہیں اور ایسا کرنے والا فاسقِ مُعلِن ہے اور فاسقِ مُعلِن کو امام بنانا یا اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے- (سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ داڑھی منڈانا اور کُتَروا کر حدِ شرع سے کم کرانا دونوں حرام و فسق ہیں اور اس کا فسق باِلاِعلان ہونا ظاہر کہ ایسوں کے منہ پر جلی قلم سے فاسق لکھا ہوتا ہے اور فاسقِ مُعلِن کی امامت ممنوع و گناہ ہے- (فتاویٰ رضویہ جلد6صفحہ505- رضا فاؤنڈیشن لاہور) (فتاویٰ رضویہ جلد6 میں ہے، کہ فاسق وہ کہ کسی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا اور وہی فاجر ہے، اور کبھی فاجر خاص کو کہتے ہیں، فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے پھر اگر معلن نہ ہو یعنی وہ گناہ چھُپ کر کرتا ہو معروف و مشہور نہ ہو تو کراہت تنزیہی ہے یعنی خلاف اولیٰ ،اگر فاسق معلن ہے کہ علانیہ کبیرہ کا ارتکاب یاصغیرہ پر اصرار کرتا ہے تو اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کے پڑھنی گناہ اور پڑھ لی تو پھیرنی واجب- (مزید اسی جلد میں اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں، کہ اگر علانیہ فسق و فجور کرتا ہے اور دوسرا کوئی امامت کے قابل نہ مل سکے تو تنہا نماز پڑھیں( فان تقدیم الفاسق اثم والصلاۃ خلفہ مکروھۃ تحریما والجماعۃ واجبۃ فھما فی درجۃ واحدۃ ودرء المفاسد اھم من جلب المصالح- (یعنی: کیونکہ تقدیم ِ فاسق گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور جماعت واجب ہے، پس دونوں کو درجہ ایک ہوا، لیکن مصالح کے حصول سے مفاسد کو ختم کرنا اہم اور ضروری ہوتا ہے، اور اگر کوئی گناہ چھپا کر کرتا ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں اور اس کے فسق کے سبب جماعت نہ چھوڑیں( لان الجماعۃ واجبۃ والصلاۃ خلف فاسق غیر معلن لاتکرہ الاتنزیھا- (یعنی: کیونکہ جماعت واجب ہے اور فاسق غیر معلن کے پیچھے نماز پڑھنا زیادہ سے زیادہ مکروہ تنزیہی ہے- (فتاویٰ رضویہ جلد6 صفحہ 600- رضا فاؤنڈیشن لاہور) (فتاویٰ رضویہ جلد22 میں ہے، کہ داڑھی حد شرع سے کم نہ کروانا واجب، اور حضور سرور عالم ﷺ اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت دائمی اور اہل اسلام کے شعار سے ہے اور اس کا خلاف ممنوع و حرام اور کفار کا شعار ہے- سیدی اعلیٰ حضرت اشعۃ اللمعات کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں- (حلق کردن لحیہ حرام ست وروش افرنج و ہنود وجوالقیان کہ ایشاں راقلندریہ نیز گویند و گزاشتن آں بقدر قبضہ واجب ست وآں کہ آنرا سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوك دردین ست یا بجہت آنکہ ثبوت آں بہ سنت ست چنانکہ نماز عید را سنت گفتہ اند- (یعنی: دااڑھی منڈانا حرام ہے یہ افرنگیوں،ہندؤوں اور جوالقیوں کا طریقہ ہے جو قلندریہ بھی کہلاتے ہیں، اور داڑھی بمقدار ایك مٹھی چھوڑنا واجب ہے اور داڑھی کے متعلق جو کہا جاتاہے کہ یہ سنت ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ دین میں ایك جاری طریقہ ہے یا یہ وجہ ہے کہ اس کا ثبوت سنت کے ساتھ ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہتے ہیں- (اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ کتاب الطہارۃ باب السواك مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر جلد1صفحہ212) (فتاویٰ رضویہ جلد22 صفحہ570 تا 571- رضا فاؤنڈیشن لاہور) کتبــــــہ : ابورضا محمد عمران عطاری مدنیسارا سال داڑھی مونڈوانے والے حفاظ کی امامت جائز ہے یا نہیں ؟
اگرکسی مسلمان کی داڑھی ایک مٹھی سےکم ہو یا وہ داڑھی کترواتا ہوتو اسکی اذان ہوجائے گی یا نہیں
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.