01
The questionSawaal
اصل سوالبغیر داڑھی والے سنی کو نکاح کا گواہ بناسکتے ہیں یانہیں؟
02
The responseAl-Jawab
بغیر داڑھی والے سنی کو نکاح کا گواہ بناسکتے ہیں یانہیں؟
سوال :حضرت اگر نکاح کے وقت گواہ اول کے چہرے پر داڑھی ہے اور دوسرے کے پاس داڑھی تو ہے لیکن اہل حدیث ہے دیگر حاضرین کے پاس داڑھی نہیں ہے تو کیا بغیر داڑھی والے سنی کو گواہ بناسکتے ہیں یانہیں؟ سائل:محمد ابراہیم الجواب بتوفیق الملک الوھاب صورت مسئولہ میں داڑھی منڈے فاسق ہوتے ہیں اور فساق کی گواہی سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے ۔ فتاوی قاضی خاں مع ہندیہ (١،ص،٣٠٣) اور (فتاوی عالمگیری ج، ١، ص، ٢٥٠ میں ہے ) ”یصح بشھادة الفاسقین و الاعمیین” یعنی دو فاسقوں یا صرف دو اندھوں کی گواہی سے بھی نکاح صحیح ہو جاتا ہے۔ (اسی طرح شرح وقایہ ج، ٢ ،ص، ٩ میں ہے ) ” صح عند فاسقین “ اور عمدة الرعایۃ حاشیہ شرح وقایہ کے اسی صفحہ پر مذکور میں ہے “ان حضر فاسقان عند النکاح انعقد النکاح “ (فتاوی رضویہ ج، ٣، ص، ٢٧٤، قدیم میں ہے کہ ) اور فاسقوں کی تعظیم ناجاٸز ہے اور فاسقوں کی گواہی سے اگر چہ نکاح ہو جاتا ہے مگر ان کی گواہی سے نکاح نہیں کرنا چاہیۓ اس لیۓ کہ اگر اس صورت میں اگر عاقدین میں کسی نے نکاح کا انکار کر دیا تو فاسقوں کی گواہی سے نکاح ثابت نہیں ہوگا ۔ اور بہار شریعت میں ہے نکاح کے گواہ فاسق ہوں یا اندھے ان پر تہمت کی حد لگاٸ گٸ ہو تو ان کی گواہی سے نکاح منعقد ہو جاۓ گا مگر عاقدین میں سے اگر کوٸی انکار کر بیٹھے تو انکی شہادت سے نکاح ثابت نہیں ہوگا ۔ یعنی نکاح کے دوحکم ہیں ایک حکم انعقاد اور دوسرے حکم اظہار تو فاسقوں کی گواہیوں سے نکاح کے انعقاد کا حکم تو ثابت ہوجائیگا مگر اظہار کا حکم ثابت نہ ہوگا۔ (بہار شریعت ج، ٧، ص،۱۱ /١٢، ) الانتباہ:- مذکورہ بالا عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ فاسقوں کی گواہی سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ غیر فاسقوں کو گواہ بنایا جاۓ تاکہ انکار کی صورت میں پریشانی لازم نہ آئے۔ (بحوالہ فتاوی فیض الرسول ج اول ص ٥١٣/٥١٤ ) واللہ تعالی ورسولہ اعلم بالصواب ۔ کتبـــــــہ : مفتی منظورالقادری،خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.