01
The questionSawaal
اصل سوالبینک سے لون لے کر کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں؟ / بینک سے لون لینا کیسا
02
The responseAl-Jawab
بینک سے لون لے کر کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بینک پالیسی کا کیا حکم ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ(۱) بینک سے لون لے کر کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) بینک پالیسی کا کیا حکم ہے؟ یعنی کوئی شخص دس لکھ روپے بینک میں جمع کرائے تو دس سال بعد بینک اس کو چودہ لاکھ روپے دے اس کا لینا کیسا ہے- جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی- سائل:- محمد شبیر ورک شاپ ماڑی ریاسی الجواب بعون الملك الوهاب (۱) بینک سے لون لینے میں چوں کہ بینکوں کو انٹرسٹ دینا پڑتا ہے اس لیے لون لیکر کاروبار کرنا اسی صورت میں جائز ہے جبکہ شدید ضرورت ہو کہ اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو اور نہ ہی بے سودی کہیں سے روپیہ مل سکتا ہو بشرطیکہ بینک کو جو زائد رقم دینی پڑتی ہے اس کے برابر یا اس سے زیادہ نفع مسلمان کو حاصل ہو ورنہ لینا جائز نہ ہوگا- الاشباہ والنظائر میں ہے ” يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح”( الاشباہ والنظائر، الفن الاول القاعده الخامسه، ص : ۱۰۰) فتاوی شامی میں ہے” الظاهر أن الاباحة يفیدنيل المسلم الزيادة وقد الزم الاصحاب فى الدرس أن مرادهم من حل الربا والقمار ما اذا حصلت الزيادة للمسلم”(رد المحتار، ج ۷، ص: ۳۲۲) اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز رقمطراز ہیں:- محتاج کے یہ معنی جو واقعی حقیقی ضروریات قابل قبول شرع رکھتا ہو کہ نہ اس کے بغیر چارہ ہو نہ کسی طرح بے سودی روپیہ ملنے کا یارا- ورنہ ہرگز جائز نہ ہوگا جیسے لوگوں میں رائج ہے کہ سودوسو کی تجارت کرتے ہیں قوت اہل وعیال بقدر کفایت ملتا ہے نفس نے بڑا سوداگر بننا چاہا پانچ چھ سو سودی نکلوا کر لگا دئے یہ ضرورتیں نہیں تو ان میں حکم جواز نہیں ہوسکتا” (فتاوی رضویہ، ج ۷ ص ۹۲)واللہ تعالی أعلم بالصواب (۲) ہمارے ملک ہندوستان کے کفار حربی ہیں اور یہاں کے بینک بھی انہیں کے ماتحت ہیں مسلمان اور حربی کے درمیان چونکہ سود نہیں ہوتا، یہاں کے بینکوں میں کچھ سالوں کے لیے پیسے فیکس کروانے کے بعد جو زائد رقم ملتی ہے وہ لینا جائز ہے بشرطیکہ سود سمجھ کر نہ لیں اسے اپنے نجی(ذاتی) کاروبار میں بھی لگا سکتے ہیں البتہ بہتر یہ ہے کہ وہ زائد رقم دینی مدارس یا غربا ومساکین کو دیدیں- فتح القدیر میں ہے”ولنا قوله عليه الصلاة والسلام(لاربا بين المسلم والحربي في دار الحرب)”ولأن مالهم غير معصوم فباى طريق أخذه المسلم أخذ مالا مباحا مالم يكن غدرا”(ج ۷ ص ۳۹/ کتاب البیوع/دار الکتب العلمیه،بیروت،لبنان) فتاوی رضویہ میں ہے:- “یہاں کے ہندو وغیرہ جتنے کفار ہیں ان میں نہ کوئی ذمی ہے کہ سلطنت اسلام میں مطیع الاسلام وجزیہ گزار ہوکر رہے نہ مستامن ہیں کہ بادشاہ اسلام سے کچھ دنوں کے لئے امان لے کر دار الاسلام میں آئے اور جو کافر نہ ذمی ہو نہ مستامن سوا غدر وبدعہدی کے کہ مطلقا ہر کافر سے حرام ہے باقی اس کی رضا سے اس کا مال جس طرح ملے جس عقد کے نام سے ہو مسلمان کے لیے حلال ہے”(ج ۷ ص ۱۰۵) فتاوی رضویہ میں ایک اور جگہ ہے” سوال:-کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین دریں باب کہ گورنمنٹ جو قرضہ کا منافع دے رہی ہے اس کا لینا جائز ہے یا نہیں؟ الجواب:- سود کی نیت سے لینا جائز نہیں لاطلاق قوله عزوجل وحرم الربا، چند سطر بعد ہے” اور اسے سود نہ سمجھے بلکہ یہ تصور کرے کہ ایک جائز مال برضائے مالک بلا غدر وبدعہدی ملتا ہے تو وہ بھی روا ہے”(ج ۷ ص ۱۲۳)واللہ تعالی أعلم بالصواب کتبہ:-محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ مدرس دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر۱۶/ جمادی الاولی ۱۴۴۴ھ مطابق ۱۱/دسمبر ۲۰۲۲ء الجواب صحيح : محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.