Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

تین طلاق دینے کا حکم از مفتی محمد ارشاد علیمی

تین طلاق دینے کا حکم از مفتی محمد ارشاد علیمی
Reference 3 September 18, 2025 31 views
اصل سوالالسلام علیکم!
سوال منجانب مظفر احمد خان ولد محمد اسلم خان شاداب کریوہ شوپیان
کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سائل کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا دوران جھگڑا سائل نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں میں تمہیں طلاق دیتا ہوں میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اور صبح میں تمہیں فارغ کردوں گا اور جو تم نے مجھ پر شک کیا ہے پہلے میں اس کے بارے میں قسم کروں گا پھر تمہارا حساب وکتاب پوار کروں گا اب دونوں میاں بیوی شرمندہ ہیں اور باہم راضی ہیں تو کیا صورت مزکورہ میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں اور واپسی کی کیا صورت ہے براۓ کرم حکم شرع سے باخبر فرما کر عنداللہ ماجور ہوں

السلام علیکم! سوال منجانب مظفر احمد خان ولد محمد اسلم خان شاداب کریوہ شوپیان کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سائل کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا دوران جھگڑا سائل نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں میں تمہیں طلاق دیتا ہوں میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اور صبح میں تمہیں فارغ کردوں گا اور جو تم نے مجھ پر شک کیا ہے پہلے میں اس کے بارے میں قسم کروں گا پھر تمہارا حساب وکتاب پوار کروں گا اب دونوں میاں بیوی شرمندہ ہیں اور باہم راضی ہیں تو کیا صورت مزکورہ میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں اور واپسی کی کیا صورت ہے براۓ کرم حکم شرع سے باخبر فرما کر عنداللہ ماجور ہوں وعلیکم السلام الجواب بعون الھادی الی الحق والصواب:۔ صورت مسؤلہ میں سائل نے اپنی بیوی سے یہ جملہ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” تین مرتبہ کہا، مذکورہ جملہ کا تعلق صیغہ حال سے ہے اور صیغہ حال سے طلاق واقع ہوجاتی ہے لہذا سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں اب حکم یہ ہے کہ بیوی بغیر حلالہ کے شوہر کے لیے حلال نہیں۔ فتاوی رضویہ میں جواہر اخلاطی کے حوالے سے ہے: طلاق می کنم بخلاف قوله کنم لأنه يتمحض الاستقبال. طلاق می کنم، حال ہونے کی وجہ سے طلاق ہے اس کے برخلاف طلاق کنم، کہا تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ محض استقبال ہے”(ج ١٣ ص ١١٨/رضا فاؤنڈیشن لاہور) نیز فتاوی رضویہ میں ہے” جب طلاقیں تین تک پہنچ جائیں پھر وہ عورت اس کے لیے بے حلالہ حلال نہیں ہوسکتی قال الله تعالٰی فَاِنۡ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰى تَنۡكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهٗ ‌ؕ “(ج ۵ ص ۶۳۴) فتاوی امجدیہ میں ہے ” حلالہ کی صورت یہ ہے کہ اس طلاق کی عدت گزرنے کے بعد عورت دوسرے سے نکاح صحیح کرے پھر وہ دوسرا شوہر اس سے وطی کرنے کے بعد طلاق دیدے یا مرجائے پھر اس طلاق یا موت کی عدت گزر جانے کے بعد شوہر اول سے نکاح جائز ہوگا۔ حلالہ کے لیے دوسرے شوہر کا وطی یعنی دخول کرنا ضروری ہے بغیر اس کے شوہر اول کے لیے حلال نہیں ہوسکتی”(ج ۲ ص ۲۷۶)والله تعالى أعلم بالصواب کتبہ:۔ محمد ارشاد رضا علیمیؔ غفرلہ خادم دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر ۲۵/صفر المظفر ۱۴۴۷ھ مطابق ۲۰/اگست ۲۰۲۵ء الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.