01
The questionSawaal
اصل سوالجماعت سے ایک دو منٹ پہلے اگر کوئی جماعت کی جگہ سنت پڑھنا چاہے تو اسے روکنا کیسا ہے؟
02
The responseAl-Jawab
جماعت سے ایک دو منٹ پہلے اگر کوئی جماعت کی جگہ سنت پڑھنا چاہے تو اسے روکنا کیسا ہے؟
سوال : اکثر ایسا تجربہ ہوتا ہے کہ فرض نماز اور خصوصا عصر کی جماعت شروع ہونے سے کچھ قبل پہنچنے پر نماز کیلئے کھڑے ہوتے ہیں لوگ کہنے لگتے ہیں ٹائم نہیں ہے جبکہ اس دوران دو ہلکی رکعتیں بہ آسانی پڑھی جاسکتی ہیں ایسے لوگوں کو محتاط ہونا چاہیے کیونکہ دانستہ طور پر گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں. یہ صحیح ہے کہ عصر اور عشاء کے قبل کی سنتیں غیر موکدہ ہیں آپ پڑھیں یا نہ پڑھیں آپ کی مرضی لیکن پڑھنے والوں کو روکنا گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے سے منع کرنا ہے. جبکہ اللہ تعالی نے قرآن میں واضح کر دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو بولتے ہیں اپنی خواہش یا مرضی سے نہیں بولتے بلکہ وہ اللہ کی طرف سے وحی ہوا کرتی ہے. دریافت طلب امر یہ ہے کہ کسی کا مذکورہ بیان اور قرآن و حدیث کے استدلال قائم کرنا کس حد تک درست ہے؟ اور عصر وغیرہ کے وقت کی قلت کے سبب کسی کو سنت پڑھنے سے روکنا کس حد تک درست ہے اس سلسلے میں فقہائے عظام کا کیا حکم ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــ جو لوگ وقت جماعت کے قریب مسجد میں آئیں انہیں خود ہی لحاظ کرنا چاہیے تاکہ انہیں کوئی نہ روکے اور اگر وہ لوگ جماعت سے فاصلہ پر کہیں اور سنت پڑھیں تو کوئی بھی انہیں نہ روکے گا وہ سنت پڑھنے سے نہیں روکتے بلکہ جماعت کی جگہ کو مشغول کرنے سے روکتے ہیں کہ وہاں پڑھنا اقامت جماعت میں خلل کا باعث ہے. چنانچہ ارشاد رسالت ہے ” عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا اقیمت الصلوۃ فلا صلوۃ الا المکتوبۃ (ترمذی جلد اول صفحہ ٩٦) اس لیے ضرورت ہے کہ عوام کو اس طرح کے مسائل سے بہ نرمی آگاہ کریں اور ممکن حد تک ان کو گناہ سے بچائیں ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد راشد انور مصباحی رضوی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.