Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

جوا تاش کھیلنے والوں سے جرمانہ وصول کرنا اور اسے مسجد یا مدرسہ یا اس کے ٹوائلیٹ میں لگانا کیسا ہے۔

جوا تاش کھیلنے والوں سے جرمانہ وصول کرنا اور اسے مسجد یا مدرسہ یا اس کے ٹوائلیٹ میں لگانا کیسا ہے۔
Reference 1753 September 18, 2025 11,864 views
اصل سوالجوا تاش کھیلنے والوں سے جرمانہ وصول کرنا اور اسے مسجد یا مدرسہ یا اس کے ٹوائلیٹ میں لگانا کیسا ہے۔

جوا تاش کھیلنے والوں سے جرمانہ وصول کرنا اور اسے مسجد یا مدرسہ یا اس کے ٹوائلیٹ میں لگانا کیسا ہے۔

مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ کیا فرماتے ہیں علماۓ دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں جوا اور تاش کھیلنے اور شادی بیاہ میں ڈھول تاشہ بجوانے پر پابندی عائد ہے اور اس کے خلاف کرنے والے پر گاؤں کے کچھ معززین نے متفقہ طور پر جرمانہ عائد کیا ہے کہ اگر کوئی جوا تاش کھیلتے ہوۓ پکڑاگیا یا شادی وغیرہ میں ڈھول تاشہ بجوایا تو اسے ایک ہزار روپیہ جرمانہ اداکرنا پڑے گا نیز پورے گاؤں کے سامنے معافی بھی مانگنی پڑے گی۔ اور یہ قانون لگے تقریباً تین سال ہوگئے اس بیچ کافی لوگوں سے جرمانہ وصول کیا گیا جو تقریباً چالیس ہزار روپیے ہوگئے ہیں۔ آیا ایسی صورت میں اب جوۓ کا وصول کیا گیا جرمانہ مدرسہ میں یا مسجد کے ٹوائلیٹ بنوانے میں استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں تو پھر اس کا استعمال کن امور میں کیا جاسکتا ہے؟ اور ڈھول تاشہ بجوانے یا جوا تاش کھیلنے پر جرمانہ اصول کرنا کیا شرعا جائزہے؟ المستفتی: محمد حذیفہ علوی سدھارتھ نگر یوپی الجواب-بعون الملک الوھاب- صورت مستفسرہ میں بطور جرمانہ مال وصول کرنا ناجائز اسے مسجد یا مدرسہ یا اس کے ٹوائلیٹ میں لگانا ناجائز ہے جنہوں نے وصول کیا ان پر لازم ہے کہ جن جن سے وصول کیا ہے انہیں واپس کریں اگر وہ نہ رہے تو ان کے ورثہ کو واپس کریں۔ کہ تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کرنا ناجائز ہے. اعلی حضرت علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: ” تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں۔ درمختار میں ہے:لاباخذ مال فی المذھب (مال لینے کا جرمانہ مذہب کی رو سے جائز نہیں ہے۔) ” اھ (فتاوی رضویہ مترجم, ج ٥, ص١١٢, کتاب الصلاۃ , مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) فتاوی فیض الرسول میں ہے: ” سزا کے طور پر جرمانہ وصول کرنا حرام و ناجائز ہے لان التعزیر بالمال منسوخ والعمل علی المنسوخ حرام۔ لہٰذا برادری والوں پر جرمانہ کی رقم واپس کرنا لازم ہے اگر نہیں واپس کریں گے تو سخت گنہگار مستحق عذاب نار ہوں گے۔” اھ (ج١, ص٦٢٠, کتاب النکاح, فصل فی المحرمات, مطبوعہ شبیر برادرز لاہور) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.