01
The questionSawaal
اصل سوالخطبہ کی اذان کے دوران انگوٹھا چومنا کیسا ہے ؟
02
The responseAl-Jawab
خطبہ کی اذان کے دوران انگوٹھا چومنا کیسا ہے ؟
سوال :کیا فرماتے ہیں علمائے کرام درج ذیل مسئلہ میں کہ خطبہ کی اذان کے دوران انگوٹھا چومنا کیسا ہے ۔ حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں ۔ سائل ۔۔۔۔ شقیق احمد الجواب بعون الملک الوہاب پیر طریقت رہبر راہ شریعت مصطفی جان رحمت کی رحمت سرکار اعلٰی حضرت رضی اللہ تعالٰی عنہ (فتاوی رضویہ شریف) جلد ٣ صفحہ ٦٩٥ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ جو کام نماز کی حالت میں حرام و منع ہیں وہ خطبہ کی حالت میں بھی حرام و منع ہیں ۔ اور اسی جلد کے صفحہ ٦٩٨ میں فرماتے ہیں کہ خطبہ سننا فرض ہے اور خطبہ اس طرح سننا فرض ہے کہ ہمہ تن اسی طرف متوجہ ہو اور کسی کام میں مشغول نہ ہو، سراپا تمام اعضائے بدن اسی طرف متوجہ ہونا واجب ہے ۔ اگر کسی خطبہ سننے والے تک خطیب کی آواز نہ بھی پہونچتی ہو تب بھی اسے چپ رہنا اور خطبہ کی طرف متوجہ رہنا واجب ہے اسے بھی کسی اعمال میں مشغول ہونا حرام ہے ۔ اور (فتاوی فیض الرسول) کہ صفحہ ٤١٧ اور ٤١٨ میں بھی اسی طرح کے کچھ مسئلہ میں فقیہ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ نے بھی کلام کیا ہے چاہیں تو مطالعہ فرمالیں ۔۔۔ ان تمام حوالوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ دوران خطبہ انگوٹھے کا چومنا جائز نہیں ہے لہٰذا سنی صحیح العقیدہ مسلمانوں کو اس فعل سے بچنا چاہیے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.