01
The questionSawaal
اصل سوالدو آدمیوں کی جماعت کا کیا طریقہ ہے اور آنے والا کیسے شامل ہوگا؟
02
The responseAl-Jawab
دو آدمیوں کی جماعت کا کیا طریقہ ہے اور آنے والا کیسے شامل ہوگا؟
ابورضا محمد عمران عطاری عفی عنہ متخصص فی الفقہ الجواب بعون الملک الوھاب مذکورہ صورت میں دو افراد کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے اس صورت میں مقتدی امام کے دائیں طرف تھوڑا پیچھے کھڑا ہوگا، بائیں طرف یا پیچھے کھڑا ہونا مکروہ تنزیہی ہے، اور اگر دو مقتدی ہوں تو پیچھے کھڑے ہوں کیونکہ دوکا برابر کھڑا ہونا بھی مکروہ تنزیہی ہے، دو سے زائد کا امام کے برابر میں کھڑا ہونا مکروہ تحریمی ہے، اور اس صورت میں مقتدی امام کے دائیں طرف اس طرح کھڑا ہو کہ مقتدی کے قدم امام سے آگے نہ بڑھنے پائیں، اور جب ایک اور نیا نمازی آئے تو افضل یہ ہے کہ مقتدی پیچھے ہٹے ہاں مقتدی کو مسئلہ کا علم نہ ہو یا پیچے ہٹنے کی جگہ نہ ہو تو امام خود آگے بڑھ جائے- (سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ جب امام کے ساتھ ایک مقتدی ہو اور دوسرا آئے تو افضل یہ ہے کہ مقتدی پیچھے ہٹے، ہاں اگر مقتدی مسئلہ نہ جانتا ہو یا پیچھے ہٹنے کو جگہ نہیں، تو ایسی صورت میں امام کو بڑھنا چاہئے کہ ایک کا بڑھنا دو کے ہٹنے سے آسان ہے، پھر اگر مقتدی مسئلہ جانتا ہو، تو جب کوئی دوسرا ملانا چاہتاہے، تو خود ہی پیچھے ہٹنا چاہئے، خواہ امام خود ہی آگے بڑھ جائے، ورنہ اس آنے والے شخص کو چاہئے کہ مقتدی کو اور وہ مسئلہ نہ جانتاہو تو امام کو اشارہ کرے، انہیں مناسب ہے کہ معاً اشارہ کے ساتھ ہی حرکت نہ کریں کہ امتثال امرِ غیر کا شبہہ نہ ہو، بلکہ ایک تامل خفیف کے بعد اپنی رائے سے اتباعِ حکم شرع وادائے سنت کے لئے، نہ اس کا اشارہ ماننے کی نیت سے حرکت کریں، اس صورت میں برابر ہے کہ یہ آنے والا مقتدی نیت باندھ کر اشارہ کرے خواہ بلانیت کے، بہرحال وہ اطاعتِ حکمِ شرع کریں گے، نہ اس کے حکم کی اطاعت اور جو جاہل اس کا حکم ماننے کی نیت کرے گا، تو اس کا تکبیر تحریمہ کے بعد اشارہ کرنا کیا نفع دے گا، کہ امام یا مقتدی کو دوسرے مقتدی کا حکم ماننا کب جائز ہے، لقمہ قراءت میں یا افعال میں لینا کہ امام کو جائز ہے وہ بھی بحکم شرع ہے، نہ کہ اطاعتِ حکم مقتدی، جو اس کی نیت کرے گا، اس کی نماز خود ہی فاسد ہوجائے گی اور جب وہ امام ہے، تو اس کے ساتھ سب کی جائے گی- (فتاویٰ رضویہ جلد7،صفحہ138- مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور) واللہ اعلم عزوجل و ر سولہ اعلم ﷺ
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.