01
The questionSawaal
اصل سوالرات میں ناخن کاٹنا کیسا ؟
02
The responseAl-Jawab
رات میں ناخن کاٹنا کیسا ؟
مفتی صاحب کیا رات میں ناخن کاٹنا درست ہے ؟ المستفتی: مولانا جاوید فیضی مہراج گنج یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب درست ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: “حكي أن هارون الرشيد سأل أبا يوسف – رحمه الله تعالى – عن قص الأظافير في الليل؟ فقال: ينبغي، فقال: ما الدليل على ذلك؟ فقال: قوله عليه السلام: الخير لايؤخر” اھ (ج٥، ص٣٥٨، کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر فی الختان والخصاء وقلم الاظفار…) عبّاسی خلیفہ ہارون رَشید نے امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ سے رات مىں ناخن تراشنے (یعنی کاٹنے)کے بارے میں دَرْیافْت کیا تو آپ نے فرمایا: جائز ہے۔ ہارون رشید نے کہا: اس پر کیا دلیل ہے؟تو آپ نے فرمایا:حدیثِ پاک میں ہے:”اَلْخَيْرُ لَا يُؤَخَّرُ“یعنی بھلائى کے کام مىں تاخیر نہ کى جائے۔ واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.