01
The questionSawaal
اصل سوالروزہ رمضان کی نیت نصف نہار شرعی تک ہے | رمضان کے روزہ کی نیت کب تک کر سکتے ہیں
02
The responseAl-Jawab
روزہ رمضان کی نیت نصف نہار شرعی تک ہے
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ رات ٩ بجے کے قریب چاند کی کوئی خبر نہیں آئی میں سو گیا اور صبح ٧ بجے جب بیدار ہوا تو یہ خبر ملی کہ رات کو ٢ بجے چاند کا شرعی ثبوت مل چکا ہے دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایسی صورت میں روزہ رکھوں تو کیا روزہ ہو جائے گا؟ علماء کرام جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں سائل محمد عامر رضوی علیمی الجواب بعون الملک الوھاب روزہ ہوجائے گا،بشرطے کہ نصف نہار شرعی تک روزے کی نیت کرلیں .نصف نہار شرعی سے مراد صبح صادق اور غروب آفتاب کا درمیانی وقت ہے. درمختار مع ردالمحتار میں ہے : “(فيصح) أداء (صوم رمضان والنذر المعين والنفل بنية من الليل) فلاتصح قبل الغروب ولا عنده (إلى الضحوة الكبرى لا) بعدها” “(قوله: إلى الضحوة الكبرى) المراد بها نصف النهار الشرعي والنهار الشرعي من استطارة الضوء في أفق المشرق إلى غروب الشمس(٢/ ٣٧٧) بہار شریعت میں ہے : ”ادائے روزۂ رمضان اورنذرِ معین اور نفل کے روزوں کے لئے نیت کا وقت غروبِ آفتاب سے ضحوۂ کبریٰ تک ہے،اس وقت میں جب نیت کرلے، یہ روزے ہوجائیں گے۔ دن میں نیت کرے،تو ضرور ہے کہ یہ نیت کرے کہ میں صبح صادق سے روزہ دار ہوں اور اگر یہ نیت ہے کہ اب سے روزہ دار ہوں،صبح سے نہیں،تو روزہ نہ ہوا۔دن میں وہ نیت کام کی ہے کہ صبح صادق سے نیت کرتے وقت تک روزہ کے خلاف کوئی امر نہ پایا گیا ہو۔“ (بہارِ شریعت،ج1، ص 967 تا 969 ،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ،کراچی) واللہ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٧ رمضان المبارک ١٤٤٣/ ٩اپریل ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.