01
The questionSawaal
اصل سوالروزہ کے کفارہ سے بچنے کی ایک صورت کا حکم
02
The responseAl-Jawab
روزہ کے کفارہ سے بچنے کی ایک صورت کا حکم
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ زید رمضان کے ادا روزے سے تھا بیوی سے بوس و کنار کیا تو شہوت اُبھر آٸ تو جماع کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا لیکن زید نے سوچا کہ اگر جماع کیا تو قضا اور کفارہ دونوں لازم آٸیں گے اور کفارہ ادا کرنا بڑا دشوار ہوگا لہذا پہلے کسی ایسے طریقے سے روزہ توڑا جاۓ جس سے کفارہ لازم نہ آۓ تو اسنے ایسی کوٸ تدبیر سوچی تو اسکے ذھن میں آیا کہ اپنا تھوک (لعاب) ہتھیلی پر تھوک کر نگل لینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے کفارہ لازم نہیں آتا تو اسنے اپنی ہتھیلی پر تھوکا اور اسکو نگل کر روزہ توڑا پھر جماع میں مشغول ہوگیا . دریافت طلب امور یہ ہیں ١ ۔ زید کا اسطرح کی چالاکی سے کام لینا کیسا ہے ؟ ٢ صورت مذکورہ میں کفارہ لازم آیا کہ نہیں ؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــ پہلے یہ معلوم ہو کہ روزہ دار کو اگر اندیشہ ہو کہ جماع میں مبتلا ہوجائے گا تو اس کو عورت سے بوس و کنار مکروہ ہے۔حضور صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: “عورت کا بوسہ لینا اور گلے لگانا اور بدن چھونا مکروہ ہے، جب کہ یہ اندیشہ ہو کہ انزال ہو جائے گا، یا جماع میں مبتلا ہوگا۔ اور ہونٹ اور زبان چوسنا روزہ میں مطلقاً مکروہ ہے۔ یوں ہی مباشرت فاحشہ۔” (بہار شریعت ح۵ ص ١٠٠٣) اور فرمان باری تعالی: “لا تبطلوا اعمالکم” کے بموجب رمضان المبارک کا روزہ رکھ کر اس طرح توڑدینا جس سے صرف قضا اور کفارہ دونوں لازم آئے یہ بھی حرام اور گناہ ہے۔ یوں ہی بلا عذرِ شرعی اس طرح روزہ توڑ دینا جس سے صرف قضا لازم آئے یہ بھی حرام اور گناہ ہے۔ تو سوال میں مذکور شخص ایک امرِ حرام سے بچنے کے لیے دوسرے امرِ حرام کا مجرم بنا، تو یہ تو ایسا ہی ہوا کہ دو نجس چیزیں ہوں اور کوئی بلا ضرورت ایک نجس کے پینے سے بچنے کے لیے دوسری نجس چیز پی ڈالے۔ اب یہاں یہ خیال صحیح نہیں کہ روزہ توڑنے کی اُس صورت کے ارتکاب میں کم گناہ ہوگا جس میں صرف قضا لازم ہے اور اس صورت کے ارتکاب میں زیادہ گناہ ہوگا جس میں قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں ۔ کیوں کہ بہت گناہ ایسے ہیں جن میں کفارہ تو نہیں لیکن نظرِ شرع میں وہ کفارہ والے گناہوں سے زیادہ برے اور سنگین ہیں حتی کہ ان کی معافی کفارہ سے نہیں ہوسکتی، بلکہ ان کی معافی کے لیے سچی توبہ ہی ضروری ہے۔مثلاِ تندرست مقیم کا رات ہی سے روزہ رمضان کی نیت سے ادا روزہ رکھ کر بلا عذر قصداً توڑ دینا یقیناً ایک سنگین جرم ہے، جس کی معافی کفارہ سے ہوجاتی ہے۔ لیکن اس سے بدتر اور بڑا سنگین جرم یہ ہے کہ جس پر رمضان المبارک کا روزہ فرض ہو وہ سرے سے روزہ ہی نہ رکھے ۔ لہذا اس دوسری صورت میں کفارہ سے معافی نہ ہوگی، بلکہ قضا کے ساتھ سچی توبہ ہی سے معافی ہوسکتی ہے۔ امامِ اہلِ سنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “کفارہ ان گناہوں میں رکھا گیا ہے، جن کا معاوضہ اس سے ہوجائے۔ اور جو گناہ حد سے گزرے ہوئے ہیں، ان کے لئے کفارہ نہیں ہوتا۔ مثلاً صحیح مقیم بلا عذر شرعی ماہ مبارک کا ادا روزہ جس کی نیت رات سے کی ہو دوا یا غذا یا جماع سے قصداً بلا اکراہ توڑ دے تواس کا کفارہ ہے ۔اور سرے سے رکھے ہی نہیں کہ یہ جرم اعظم ہے اس کا کوئی کفارہ نہیں، مگر توبہ اور اس روزے کی قضا۔ یوں ہی اگر معاذ ﷲ کسی مسلمان کے ہاتھ سے کوئی مسلمان براہِ خطا ماراجائے، مثلاً شکار پر فائر کرے اور اس کے لگ جائے تو اس کا کفارہ ہے، لیکن اگر عیاذا باللہ قصداً قتل کرے کہ یہ جرم اعظم ہے اس کا کوئی کفارہ نہیں ، مگر توبہ و قصاص”۔ (فتاوی رضویہ ج٦ ص۴٣) ایک دوسرے مقام پر تحریر فرماتے ہیں: “در شرع مطہر کفارہ مر گناہے را باشد کہ در شناعت از حد نگزرد ، وہرچہ قبحش از حد گزشت تطہیر بکفارہ را نپذیرد ، وبے توبہ صادقہ حکم بمحویتش صورت نگیرد ۔ آں چنانکہ اگر کسے زنِ خود را بمادر و خواہر خویش تشبیہ دہد او را کفارہ است کہ بعد ادایش قربتِ زن برو مباح گردد فاما آنکہ مادر و خواہر خود را زنِ خود سازد ایں جرم را ہیچ کفارہ نیست جز آنکہ بتوبہ صادقہ گرید۔” (فتاوی رضویہ ج ۵ ص ٩٧١) اس لیے سوال میں جس چیز کو زید کی چالاکی قرار دیا گیا ہے وہ مجسّٙم حماقت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ہاں! اس صورت میں ایک یا دو مرتبہ کفارہ کے وجوب کا حکم تو نہ ہوگا۔ لیکن اگر کفارہ سے بچنے کے لیے مزید اس طرح کی معصیت کی حماقت کرے گا تو کفارہ سے بچ نہ پائے گا اور پھر قضا اور کفارہ دونوں لازم ہونے کا حکم ہوگا۔ امام المدققین علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: “وَاعْلَمْ أَنَّ كُلَّ مَا انْتَفَى فِيهِ الْكَفَّارَةُ مَحَلُّهُ مَا إذَا لَمْ يَقَعْ مِنْهُ ذَلِكَ مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَى لِأَجْلِ قَصْدِ الْمَعْصِيَةِ فَإِنْ فَعَلَهُ وَجَبَتْ زَجْرًا لَهُ بِذَلِكَ أَفْتَى أَئِمَّةُ الْأَمْصَارِ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى قُنْيَةٌ وَهَذَا حَسَنٌ نَهْرٌ”۔ (در مختار مع شامی ج٣ص٣٨٢ ، ٣٨٣) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “مفطرات غیرمکفرات مثل حقنہ وغیرہا کا مطلقاً دوبارہ کرنا موجبِ کفارہ نہیں ،جب تک بقصدِ معصیت نہ ہو۔درمختار میں ہے: “کل ما انتفی فیہ الکفارۃ محلہ ما اذا لم یقع ذلک منہ مرّۃ بعد اخری لاجل قصد المعصیۃ ، فان فعلہ وجبت زجرالہ”۔ اور اس عبارت سے اگرچہ علامہ طحطاوی نے یہ استظہار کیا کہ دو ہی بار کرنے میں کفارہ واجب کردیں گے اور علامہ شامی نے اسے نقل کرکے مقرّٙر رکھا، مگر اس معنی پر جزم اُنہیں بھی نہیں، اتنا ہی فرمایا ہے: “ظاھرہ انہ بالمرۃ الثانیۃ تجب علیہ الکفارۃ ولوحصل فاصل بایام”۔اور فقیر کے نزدیک یہ ہنوز محتاجِ مراجعت ہے، اگر یہ مراد ہوتی تو “مرۃ اخری” کہنا کافی تھا، “مرۃ بعد اخری” ظاہراً باربار تکرار کی طرف ناظر ہے۔ فلیراجع ولیحرر۔” (فتاوی رضویہ ج ۴ ص٦٣۵ ) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٣/رجب المرجب ١۴۴٣ھ//۵/فروری٢٠٢٢ء
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.