01
The questionSawaal
اصل سوالروزے کی حالت میں ڈائلیسِس(خون کی صفائی)کرانے سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں
02
The responseAl-Jawab
روزے کی حالت میں ڈائلیسِس(خون کی صفائی)کرانے سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟
جواب: ڈائلیسس(خون کی صفائی) کے دو طریقے ہیں ۔ (۱)ہیمو ڈائلیسِس(۲) پیری ٹو نیل ڈائلیسِس ہیمو ڈائلے سِس میں خون سے فاسد مادوں ، اضافی نمک اور زائد پانی مشین کے ذریعہ نکال لیا جاتاہے ۔ پھر دواؤں اور کیمیاوی وغذائی مواد کے اضافہ کے ساتھ رگوں کے ذریعہ خون جسم میں واپس لوٹادیا جاتاہے ۔ اس طریقۂ کارمیں کوئی چیز منفذ سے جسم کے اندر نہیں جاتی اور نہ ہی جوف معدہ یا دماغ میں جاتی ہے اس لیے اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا ۔ پیری ٹو نیل ڈائلیسِس میں مریض کے پیٹ میں موٹی تہہ تک سوراخ کرکے اندر معدے سے متصل بیرونی جھلی تک ایک پائپ ڈالا جاتا ہے ۔ اور پھر اس کے ذریعہ ایک خاص قسم کا پانی پیری ٹونیل فلوڈپیٹ کی جھلی میں ڈالا ۔ پھر باہر نکالا جاتاہے ۔ تو جرّاحی اور دوا رسانی کا یہ عمل جائفہ (زخم شکم) میں دوارسانی کے عمل کی طرح ہے جس کا حکم مذہب امام اعظم پر فساد صوم ہے ۔ جیسا کہ سوال(۲)کے جواب میں بدائع کی درج عبارت شاہد ہے اور قضا احتیاطاً واجب ہے جیسا کہ تحفۃ الفقہا میں صراحت ہے ۔ عبارت یہ ہے: وأما الجائفۃ والآمۃ إذا داووہما: فإن کان الدواء یابسا فلا یفسد؛ لأنہ لا یصل إلی الجوف.وأما إذا کان رطبا فیفسد عند أبی حنیفۃ، وعندہما لا یفسد.فأبو حنیفۃ اعتبر ظاہر الوصول بوصول المغذی إلی الجوف حقیقۃ.وہما یعتبران الوصول بالمخارق الأصلیۃ، لا غیر. ویقولان: فی المخارق الأصلیۃ یتیقن الوصول، فأما فی المخارق العارضۃ فیحتمل الوصول إلیالجوف، ویحتمل الوصول إلی موضع آخر، لا إلی محل الغذاء والدواء ، فلا یفسد الصوم مع الشک والاحتمال، وأبوحنیفۃ یقول: الوصولُ إلی الجوف ثابت ظاہرا، فکفی لوجوب القضاء احتیاطا(۳) (تحفۃ الفقہاء: ص171، کتاب الصوم، دار الفکر ، بیروت) فتاویٰ عالمگیری میں ہے: وفی دَوَاء ِ الْجَائِفَۃِ وَالْآمَّۃِ أَکْثَرُ الْـمَشَایِخِ علی أَنَّ الْعِبْرَۃَ لِلْوُصُولِ إلَی الْجَوْفِ وَالدِّمَاغِ لَا لِکَوْنِہٖ رَطْبًا أو یَابِسًا حتی إذَا عَلِمَ أَنَّ الْیَابِسَ وَصَلَ یُفْسِدُ صَوْمَہُ وَلَوْ عَلِمَ أَنَّ الرَّطْبَ لم یَصِلْ لم یُفْسِدْ ہٰکَذَا فی الْعِنَایَۃِ، وإذا لم یَعْلَمْ أَحَدَہُمَا وکان الدَّوَاء ُ رَطْبًا فَعِنْدَ أبی حَنِیفَۃَ رَحِمَہُ اللہُ تَعَالیٰ یُفْطِرُ لِلْوُصُولِ عَادَۃً. وَقَالَا: لَا، لِعَدَمِ الْعِلْمِ بِہٖ فَلَا یُفْطِرُ بِالشَّکِّ وَإِنْ کان یَابِسًا فَلَا فِطْرَ اتِّفَاقًا. ہٰکَذَا فی فَتْحِ الْقَدِیرِ. (فتاوی عالمگیری:ج1، ص224، کتاب الصوم ، الباب الرابع فیما یفسد و ما لا یفسد ، دار الکتب العلمیۃ، بیروت) بہار شریعت میں ہے: دماغ یا شکم کی جھلّی تک زخم ہے، اس میں دوا ڈالی ۔ اگر دماغ یا شکم تک پہنچ گئی روزہ جاتا رہا (۴)خواہ وہ دوا تر ہویا خشک ،اور اگر معلوم نہ ہو کہ دماغ یا شکم تک پہنچی یا نہیں اور وہ دوا تر تھی جب بھی جاتا رہا ،اور خشک تھی تو نہیں ۔ ہندیہ ۔ (حصہ پنجم، ص۹۸۷:، روزہ توڑنے والی چیزوں کا بیان، مکتبۃ المدینہ) ان فقہی عبارات کے پیش نظر یہ حکم دیا جاتا ہے کہ گردے کا مریض پہلے تو یہ کوشش کرے کہ پیری ٹونیل ڈائلے سِس رات میں ہو تا کہ روزے کے فساد پھر قضا کا سوال ہی نہ اٹھے اور اگر کسی مجبوری کی وجہ سے دن میں ہی یہ ڈائلے سِس کرائے تو احتیاطاً روزے کی قضا بھی کرے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ مزید مطالعہ کریں ۔۔۔۔۔۔روزے کی حالت میں گلوکوز یا انسولین لینے سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.