Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

زیر ناف بال صاف کرنے سے غسل واجب نہیں | غسل کے مسائل

زیر ناف بال صاف کرنے سے غسل واجب نہیں | غسل کے مسائل
Reference 324 September 18, 2025 10,657 views
اصل سوالزیر ناف بال صاف کرنے سے غسل واجب نہیں | غسل کے مسائل

زیر ناف بال صاف کرنے سے غسل واجب نہیں Gusl ke masail

السلام علیکم ورحمۃاللہ

سوال : ناف کے نیچے کے بال صاف کرنے کے بعد اگر کوئی شخص غسل نہ کرے تو اس صورت میں پاک ہوگا یا نہیں اس کاجواب عطا کریں عنایت ہوگی۔

سائل:محمد قاسم علی

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواببعون الملک الوہاب :

موے زیر ناف صاف کرنے سے غسل واجب نہیں ہوتا ، پہلے پاک تھا تو اب بھی پاک رہے گا اور اگر ناپاک تھا تو اب بھی ناپاک کہ موے زیر ناف زائل کرنا موجبات غسل سے نہیں۔

ہندیہ میں ہے “اﻟﻔﺼﻞ اﻟﺜﺎﻟﺚ ﻓﻲ اﻟﻤﻌﺎﻧﻲ اﻟﻤﻮﺟﺒﺔ ﻟﻠﻐﺴﻞ ﻭﻫﻲ ﺛﻼﺛﺔ ﻣﻨﻬﺎ اﻟﺠﻨﺎﺑﺔ ﻭﻫﻲ ﺗﺜﺒﺖ ﺑﺴﺒﺒﻴﻦ ﺃﺣﺪﻫﻤﺎ ﺧﺮﻭﺝ اﻟﻤﻨﻲ ﻋﻠﻰ ﻭﺟﻪ اﻟﺪﻓﻖ ﻭاﻟﺸﻬﻮﺓ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺇﻳﻼﺝ ﺑﺎﻟﻠﻤﺲ ﺃﻭ اﻟﻨﻈﺮ ﺃﻭ اﻻﺣﺘﻼﻡ ﺃﻭ اﻻﺳﺘﻤﻨﺎء کذا ﻓﻲ ﻣﺤﻴﻂ اﻟﺴﺮﺧﺴﻲ ﻣﻦ اﻟﺮﺟﻞ ﻭاﻟﻤﺮﺃﺓ ﻓﻲ اﻟﻨﻮﻡ ﻭاﻟﻴﻘﻈﺔ کذا ﻓﻲ اﻟﻬﺪاﻳﺔ۔

اﻟﺴﺒﺐ اﻟﺜﺎﻧﻲ اﻹﻳﻼﺝ اﻹﻳﻼﺝ ﻓﻲ ﺃﺣﺪ اﻟﺴﺒﻴﻠﻴﻦ ﺇﺫا ﺗﻮاﺭﺕ اﻟﺤﺸﻔﺔ ﻳﻮﺟﺐ اﻟﻐﺴﻞ ﻋﻠﻰ اﻟﻔﺎﻋﻞ ﻭاﻟﻤﻔﻌﻮﻝ ﺑﻪ ﺃﻧﺰﻝ ﺃﻭ ﻟﻢ ﻳﻨﺰﻝ ﻭﻫﺬا ﻫﻮ اﻟﻤﺬﻫﺐ ﻟﻌﻠﻤﺎﺋﻨﺎ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻤﺤﻴﻂ ﻭﻫﻮ اﻟﺼﺤﻴﺢ ﻛﺬا ﻓﻲ ﻓﺘﺎﻭﻯ ﻗﺎﺿﻲ ﺧﺎﻥ۔

ﻭﻣﻨﻬﺎ اﻟﺤﻴﺾ ﻭاﻟﻨﻔﺎﺱ ﻳﺠﺐ اﻟﻐﺴﻞ ﻋﻨﺪ ﺧﺮﻭﺝ ﺩﻡ ﺣﻴﺾ ﺃﻭ ﻧﻔﺎﺱ ﻭﻭﺻﻮﻟﻪ ﺇﻟﻰ ﻓﺮﺟﻬﺎ اﻟﺨﺎﺭﺝ ﻭﺇﻻ ﻓﻠﻴﺲ ﺑﺨﺎﺭﺝ ﻭﻻ ﻳﻜﻮﻥ ﺣﻴﻀﺎ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺘﺒﻴﻴﻦ”ملتقطا۔یعنی غسل واجب کرنے والی چیزیں تین ہیں(١)جنابت(٢)آگے یا پیچھے سر ذکر یعنی حشفہ کا داخل ہونا(٣)حیض و نفاس)۔

(ہندیہ،ج١، ص١٤،١٥،١٦)۔

واللہ تعالی اعلم

کتبہ : مفتی شان محمدالمصباحی القادری

٢١فروری٢٠١٩

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.