01
The questionSawaal
اصل سوالسجدہ تلاوت کا آسان طریقہ اور ایک ساتھ سجدہ کرنا کیسا؟
02
The responseAl-Jawab
سجدہ تلاوت کا آسان طریقہ اور ایک ساتھ سجدہ کرنا کیسا؟
سوال : میں قرآن مجید کی تلاوت کرتاہوں، کبھی دوکان میں ہوتاہوں کبھی گھر پر اس لیے سجدۂ تلاوت کاموقع نہیں ملتا اور بعد میں میں بھول جاتاہوں، ابھی بہت سارے سجدے جمع ہوگئے ہیں، اداکرنے کاطریقہ بتادیجیے. مہربانی ہو گی؟؟ سائل: محمد عارف رضا، تنظیم نگر رضا گروپ مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب بہتر یہ ہے کہ جس وقت آیتِ سجدہ کی تلاوت کی جائے اسی وقت سجدہ تلاوت ادا کرلیا جائے، فقہاءِ کرام نے کسی عذر کے بغیر سجدۂ تلاوت کو مؤخر کرنے کو مکروہِ تنزیہی (نا پسندیدہ) قرار دیا ہے، البتہ اگر کسی وجہ سے آیتِ سجدہ پڑھنے کے ساتھ سجدہ تلاوت کرنا رہ جائے تو ایک ساتھ متعدد سجدہ تلاوت کرنا بھی درست ہے۔ اور ان سجدوں سے پہلے اس طرح نیت (دل میں ارادہ) کر لینا کافی ہو گا کہ میرے اوپر جو سجودِ تلاوت واجب ہیں وہ سجدے ادا کر رہا ہوں۔ ✍جتنے سجدے آپ پر واجب ہیں اگر ان کی تعداد متعین ہے تو بہتر، ورنہ اندازے سے کچھ زیادہ سجدے متعین کرکے سجدے ادا کرلیجیے۔ سجدۂ تلاوت کے لیے ہر سجدے سے پہلے کھڑے ہوکر سجدہ کرنا اور سجدہ کرنے کے بعد کھڑا ہونا ضروری نہیں ہے، بیٹھے بیٹھے بھی سجدے کیے جاسکتے ہیں، البتہ ہر سجدے میں جاتے اور اٹھتے ہوئے زبان سے تکبیر (اللہ اکبر) پر تلفظ کرنا ضروری ہے، اور سجدے میں کم از کم تین مرتبہ سبحان ربی الاعلیٰ پڑھنا چاہیے۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 109): “(وهي على التراخي) على المختار ويكره تأخيرها تنزيها، ويكفيه أن يسجد عدد ما عليه بلا تعيين ويكون مؤديا وتسقط بالحيض والردة (إن لم تكن صلوية) فعلى الفور لصيرورتها جزءاً منها. (قوله: على المختار) كذا في النهر والإمداد، وهذا عند محمد وعند أبي يوسف على الفور هما روايتان عن الإمام أيضا كذا في العناية قال في النهر: وينبغي أن يكون محل الخلاف في الإثم وعدمه حتى لو أداها بعد مدة كان مؤديا اتفاقا لا قاضيا. اهـ. قال الشيخ إسماعيل وفيه نظر أي لأن الظاهر من الفور أن يكون تأخيره قضاء. قلت: لكن سيذكر الشارح في الحج الإجماع على أنه لو تراخى كان أداء مع أن المرجح أنه على الفور ويأثم بتأخيره فهو نظير ما هنا، تأمل. (قوله: تنزيهاً) لأنه بطول الزمان قد ينساها، ولو كانت الكراهة تحريميةً لوجبت على الفور و ليس كذلك، ولذا كره تحريماً تأخير الصلاتية عن وقت القراءة إمداد واستثنى من كراهة التأخير ما إذا كان الوقت مكروها كوقت الطلوع. [فرع] في التتارخانية: يستحب للتالي أو السامع إذا لم يمكنه السجود أن يقول :سمعنا وأطعنا غفرانك ربنا وإليك المصير . (قوله: ويكفيه إلخ) مكرر مع ما قدمه في قوله خلا التحريمة ونية التعيين”. سجدہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کھڑا ہو کر اَللّٰہُ اَکْبَرْ کہتا ہوا سجدہ میں جائے اور کم سے کم تین بار سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہے، پھر اَللّٰہُ اَکْبَرْ کہتاہوا کھڑا ہو جائے، سجدۂ تلاوت کے شروع اور آخر میں دونوں بار اَللّٰہُ اَکْبَرْ کہنا سنت ہے اور کھڑے ہو کر سجدہ میں جانا اور سجدہ کے بعد کھڑا ہونا یہ دونوں قیام مستحب ہیں ۔( بہار شریعت، حصہ چہارم، ۱ / ۷۲۸-۷۳۱) نوٹ:سجدۂ تلاوت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے بہارِ شریعت،جلد نمبر1، حصہ نمبر 4 سے ’’سجدۂ تلاوت کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں ۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــــــــــہ:محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.