01
The questionSawaal
اصل سوالسکہ کا تبادلہ نوٹ سے کمی بیشی کے ساتھ کیسا ہے؟
02
The responseAl-Jawab
سکہ کا تبادلہ نوٹ سے کمی بیشی کے ساتھ کیسا ہے؟
سوال :کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ آج کل بازاروں میں یہ طریقہ رائج ہے کہ مثلا سو روپے کا چلر یعنی سکہ دے کر ایک سو دس یا پانچ روپے کا نوٹ لیتے ہیں تو سکہ کا تبادلہ نوٹ سے زیادتی کے ساتھ ہوتا ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے بہرحال یہ جائز ہے یا نہیں؟ بینوا و توجروا ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــ آج کل بازاروں میں جو طریقہ رائج ہے کہ سکہ کا تبادلہ نوٹ سے کمی زیادتی کے ساتھ کرتے ہیں یہ جائز ہے بلکہ ادھار بھی جائز ہے کہ سود نہیں. یہ دونوں دو جنس سے ہیں اور جب جنس مختلف ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ نقد ادھار دونوں طرح فروخت کرنا جائز ہے. درِ مختار میں ہے : وان عدماحل كهرووی بمرویین لعدم العله فبقى على اصل الاباحۃ(ص ١٧٢ جلد ٥ باب الربوا) فتاویٰ رضویہ میں ہے “نص علماءنا قاطبۃ ان حرمۃ القدر علۃ الربوا القدر المعهود بکیل او وزن مع الجنس فان وجد احرم الفضل والنساء وان عدم حل وان وجد احدهما حل الفضل وحرم النساء. والله تعالى اعلم الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ :مفتی محمد احمد قادری مصباحی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.