Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

شادی اور بچہ پیدا ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ بیوی رضاعی بہن ہے تو لڑکا ثابت النسب ہوگا یا نہیں؟

شادی اور بچہ پیدا ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ بیوی رضاعی بہن ہے تو لڑکا ثابت النسب ہوگا یا نہیں؟
Reference 1394 September 18, 2025 8,776 views
اصل سوالشادی اور بچہ پیدا ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ بیوی رضاعی بہن ہے تو لڑکا ثابت النسب ہوگا یا نہیں؟

شادی اور بچہ پیدا ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ بیوی رضاعی بہن ہے تو لڑکا ثابت النسب ہوگا یا نہیں؟

سوال: اگر میرا ۱یک بچہ پیدا ہوا تھا اور اس کے بعد مجھے پتا چلا کہ میری بیوی کو میری ماں، نانی یا میری بہن نے دودھ پلایا تھا تو جو وہ بچہ پیدا ہوا کیا وہ بچہ حلال کا ہے ،اور اس نکاح کا کیا حکم ہے ہم پر؟۔ ثاقب احمد ڈار ولرامن ضلع بارہ مولہ۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــ صورتِ مسئولہ میں وہ بچہ امامِ اعظم علیہ الرحمہ کے نزدیک ثابت النسب ہوگا۔شریعتِ طاہرہ بچہ کو ضائع اور بے سہارا ہونے سے بچانے کے لیےاثباتِ نسب میں بہت توسع رکھتی ہے۔ لیکن یہ معلوم ہونے کے بعد کہ دونوں کے مابین دودھ کا مذکورہ بالا رشتہ ہے ان دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا حرام حرام حرام ہے۔ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے: “واخواتکم من الرضاعة”(سورہ نساء: ٢٣) نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے: “یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب”(صحیح البخاری، باب الشہادة علی الانساب والرضاع) فتاوی عالم گیری میں ہے: “رجل مسلم تزوج بمحارمہ، فجئن بأولاد یثبت نسب الأولاد منہ عند أبي حنیفة رحمہ اللہ تعالی خلافا لھما بناء علی أن النکاح فاسد عند أبي حنیفة رحمہ اللہ تعالی، باطل عندھما کذا فی الظھیریة ۔ (فتاوی عالم گیری، باب ثبوت النسب ج١ ص۵۴٠) اسی میں ہے۔ “وإن تزوجھما في عقدتین فنکاح الأخیرة فاسدة ویجب علیہ أن یفارقھا ولو علم القاضي بذلک یفرق بینھما فإن فارقھا قبل الدخول لا یثبت شییٴ من الأحکام وإن فارقھا بعد الدخول فلھا المھر ویجب الأقل من المسمی ومن مھر المثل وعلیھا العدة ویثبت النسب ویعتزل عن امرأتہ حتی تنقضی عدة أختھا کذا فی محیط السرخسي (فتاوی عالم گیری ج ۱ص ۲۷۷، ۲۷۸) مدقق علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: “(وَ) لَا حَدَّ أَيْضًا (بِشُبْهَةِ الْعَقْدِ) أَيْ عَقْدِ النِّكَاحِ (عِنْدَهُ) أَيْ الْإِمَامِ (كَوَطْءِ مَحْرَمٍ نَكَحَهَا)وَقَالَا إنْ عَلِمَ الْحُرْمَةَ حُدَّ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى خُلَاصَةٌ، لَكِنْ الْمُرَجَّحُ فِي جَمِيعِ الشُّرُوحِ قَوْلُ الْإِمَامِ فَكَانَ الْفَتْوَى عَلَيْهِ أَوْلَى قَالَهُ قَاسِمٌ فِي تَصْحِيحِهِ، لَكِنْ فِي الْقُهُسْتَانِيِّ عَنْ الْمُضْمَرَاتِ عَلَى قَوْلِهِمَا الْفَتْوَى، وَحَرَّرَ فِي الْفَتْحِ أَنَّهَا مِنْ شُبْهَةِ الْمَحِلِّ وَفِيهَا يَثْبُتُ النَّسَبُ كَمَا مَرَّ۔” (در مختار،کتاب الحدود، باب الوطء الذی یوجب الحد والذی لا یوجبہ) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ١۵/رجب المرجب ١۴۴٣ھ/١٧/فروری ٢٠٢٢ء ۔

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.