Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

طہارت سے بچے ہوے پانی سے وضو و غسل کا حکم

طہارت سے بچے ہوے پانی سے وضو و غسل کا حکم
Reference 283 September 18, 2025 13,555 views
اصل سوالطہارت سے بچے ہوے پانی سے وضو و غسل کا حکم

طہارت سے بچے ہوے پانی سے وضو و غسل

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ وضو یا غسل کا پانی جو بچ جائے اس سے دوسرا شخص وضو یا غسل کر سکتا ہے یا نہیں؟

المستفتی:

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب۔

وضو یا غسل سے بچے ہوے پانی سے وضو و غسل کر سکتے ہیں مگر عورت کے وضو یا غسل سے بچے ہوے پانی سے مرد وضو و غسل نہ کرے کہ مکروہ تنزیہی ہے۔

در مختار مع ردالمحتار میں ہے “ﻭﻣﻦ ﻣﻨﻬﻴﺎﺗﻪ اﻟﺘﻮﺿﺆ ﺑﻔﻀﻞ ﻣﺎء اﻟﻤﺮﺃﺓ”

(قوﻟﻪ اﻟﺘﻮﺿﺆ ﺇﻟﺦ) ﻗﺎﻝ ﻓﻲ اﻟﺴﺮاﺝ ﻭﻻ ﻳﺠﻮﺯ ﻟﻠﺮﺟﻞ ﺃﻥ ﻳﺘﻮﺿﺄ ﻭﻳﻐﺘﺴﻞ ﺑﻔﻀﻞ اﻟﻤﺮﺃﺓ اﻩـ ﻭﻣﻔﺎﺩﻩ ﺃﻧﻪ ﻳﻜﺮﻩ ﺗﺤﺮﻳﻤﺎ”

(ردالمحتار ،ج١، ص١٣٣)

فتاوی رضویہ میں ہے” اقول والاقرب الی الصواب ان لانسخ ولا تحریم بل النھی للتنزیہ والفعل لبیان الجواز وھو الذی مشی علیہ القاری فی المرقاۃ نقلا عن السید جمال الدین الحنفی وبہ اجاب الشخ عبدالحق الدھلوی فی لمعات التنقیح ان النھی تنزیہ لاتحریم فلا منافاۃ”

میں کہتا ہوں زیادہ صحیح بات یہ ہوگی کہ نہ تو نسخ ہے اور نہ ہی تحریم ہے بلکہ نہی محض تنزیہی ہے اور فعل بیان جواز کے لئے ہے ملا علی قاری نے بھی مرقاۃ میں سید جمال الدین حنفی سے یہی نقل کیا ہے اور لمعات التنقیح میں محدث عبدالحق دہلوی نے بھی یہی جواب دیا ہے کہ نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں تو کوئی منافاۃ نہیں (فتاوی رضویہ، ج٢، ص٤٦٩)

بہار شریعت مکروہات وضو کے بیان میں ہے” عورت کے غسل یا وُضو کے بچے ہوئے پانی سے وُضو کرنا”(ح٢، ص٣٠٣)

واللہ تعالی اعلم

 کتبہ : شان محمد المصباحی القادری

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.