Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

عام مسلمان اور اولیاے کرام کے ایصال ثواب کے کھانے وشیرینی کا حکم

عام مسلمان اور اولیاے کرام کے ایصال ثواب کے کھانے وشیرینی کا حکم
Reference 202 September 18, 2025 8,132 views
اصل سوالعام مسلمان اور اولیاے کرام کے ایصال ثواب کے کھانے وشیرینی کا حکم

عام مسلمان اور اولیاے کرام کے ایصال ثواب کے کھانے وشیرینی کا حکم

صورت مسئولہ:

میت دفن کرنے کے بعد دوسرے دن ختم کلمۂ طیبہ جمع ہوکر پڑھتے ہیں جس میں اغنیا اقربا سبھی رہتے ہیں ۔ صاحب میت شیرینی تقسیم کرتے ہیں ۔وہ شیرینی اغنیا کو لینا، کھانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:

          یہ شیرینی اس لیے تقسیم کی جاتی ہے کہ اس کا ثواب میت کو پہنچے تو جس شخص کے کھانے اور کھلانے میں ثواب ہے اسے یہ شیرینی کھانا اور کھلانا جائز ہے، اور تحقیق یہ ہے کہ ثواب کی نیت سے مسلمان جو کچھ بھی کھائے، کھلائے ثواب ملے گا چاہے وہ فقیر ومحتاج ہو، یا امیر ومال دار، یہاں تک کہ اپنی بیوی اور بچوں کو بھی ثواب کی نیت سے کھلانا ثواب ہے۔ چنانچہ صحابیِ رسول حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مَا اَطْعَمْتَ زَوْجَکَ فَھُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ وَمَا اَطْعَمْتَ وَلَدَکَ فَھُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ وَمَا اَطْعَمْتَ خَادِمَکَ فَھُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَمَا اَطْعَمْتَ نَفْسَکَ فَھُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ۔

جو کچھ تواپنی بیوی کو کھلائے وہ تیرے لیے صدقہ ہے اور جو کچھ اپنے بچوں کو کھلائے وہ تیرے لیے صدقہ ہے، اور جو کچھ اپنے خادم کو کھلائے وہ تیرے لیے صدقہ ہے اور جو کچھ تو خود کھائے وہ تیرے لیے صدقہ ہے۔ (یعنی جب کہ ثواب مقصود ہو۔)

(مسند احمد بن حنبل وطبرانی کبیر بسند صحیح)

یہ حدیث مطلق ہے جس میں امیر وغریب کی کوئی قید نہیں ہے اس لیے امیر، غریب، محتاج، مال دار ہر مسلمان کو ثواب کی نیت سے کھلانا اجر وثواب کا باعث ہے۔

اس باب میں اصل یہ ہے کہ صدقہ کی دو قسمیں ہیں۔ واجبہ، نافلہ۔ صدقۂ واجبہ وہ ہے جو بندے پر شرعاً واجب ولازم ہو جیسے زکوٰۃ، عشر، صدقۂ فطر وغیرہ۔ اس کا مصرف صرف فقیر ومحتاج مسلمان ہیں۔ یہ صدقہ صرف محتاج وفقیر کے لیے ہی جائز ہے اور امیر وغنی کے لیے ناجائز وگناہ ہے۔ اور صدقۂ نافلہ وہ ہے جو بندے پر شرعاً واجب ولازم نہ ہو، صرف مندوب ومستحسن ہو جیسے حدیث نبوی کے مطابق اپنی بیوی، بال بچے اور خادم کو ثواب کی نیت سے کھلانا حتیٰ کہ خود کھانا عام مسلمانوں کا مالی تعاون ۔ یہ امیر غریب سب کے ساتھ جائز ہے اور ساتھ ہی باعث اجر وثواب بھی ہے، البتہ محتاج وفقیر پر تصدق کا ثواب امیر وغنی پر تصدق کے ثواب سے زیادہ ہے۔ توسط شرح سنن ابی داؤد میں ہے:

اَلصَّدْ قَۃُ عَلَی الْغَنِیّ جَائِزَۃٌ عِنْدَناَ، یُثَابُ بَہٖ بِلَا خِلَافٍ

ہمارے نزدیک صدقۂ نافلہ مال دار کو بھی دینا جائز ہے اور دینے والا بالاتفاق مستحق ثواب ہوگا۔

(مجمع بحار الانوار)

رد المحتار میں بحر الرائق سے ہے:صَرَّحَ فِی الذَّخَیْرَۃِ بِاَنَّ التَّصدُّقَ عَلَی الْغَنِی نَوْعُ قُرْبَۃٍ دُوْنَ قُرْبَۃِ الْفَقِیْرِ

ذخیرہ میں یہ صراحت ہے کہ مال دار کو صدقۂ نافلہ دینا بھی ایک طرح کا کارِ ثواب ہے، ہاں فقیر پر تصدق کے لحاظ سے اس کا ثواب کم ہے۔

اور کھلی ہوئی بات ہے کہ ایصال ثواب کی شیرینی یا طعام بھی صدقۂ نافلہ ہی ہے کیوںکہ یہ بندے پر شرعاً واجب ولازم نہیں ہے صرف مندوب ومستحسن ہے اس لیے اس کا کھانا بھی امیر وغریب سب کے لیے جائز ہوگا۔لیکن چوںکہ فقیر کو کھلانے میں ثواب زیادہ ہے اس لیے افضل یہ ہے کہ یہ شیرینی صرف غربا کو دی جائے اور اُمرا اس سے احتراز کریں۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے:

عند التحقیق صرف فقرا ہی پر تصدق میں ثواب نہیں بلکہ اغنیا پر بھی مورث ثواب ہے ۔ اگرچہ افضل وہی تھا کہ صرف فقرا پر تصدق کرتے کہ جب مقصود ایصال ثواب، تو وہی کام مناسب تر جس میں ثواب اکثر و وافر۔ پھر بھی اصل مقصود مفقود نہیں جب کہ نیت ثواب پہنچانا ہے ۔

(فتاویٰ رضویہ: ۲۲۸ تا ۲۳۰، ج۴)

یہ حکم عام مومنین ومومنات کے ایصال ثواب کے کھانے اور شیرینی کا ہے اور اولیاے کرام کے ایصال ثواب کا کھانا اور شیرینی تبرک ہے اس کا حکم امیر غریب سب کے لیے یکساں ہے چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے:یہ حکم عام فاتحہ کا ہے نیازِاولیاے کرام طعام موت نہیں، وہ تبرک ہے، فقیر وغنی سب لیں۔

(ص۲۲۵، ج۴)

مجدد اعظم امام احمد رضا ایک دوسرے مقام پر رقم طراز ہیں:

وہ طعام کہ نذر ارواحِ طیبہ حضراتِ انبیا واولیا علیہم الصلاۃ والثناء کیا جاتا ہے یہ سب کو بلا تکلف روا ہے اور وہ ضرور باعثِ برکت ہے۔ برکت والوں کی طرف جو چیز نسبت کی جاتی ہے اس میں آجاتی ہے، مسلمان اس کھانے کی تعظٰیم کرتے ہیں اور وہ اس میں مصیب ہیں۔

(ص۲۱۴، ج۴)

حاصل کلام یہ کہ:

(الف) عام اَموات مسلمین ومسلمات کے فاتحہ وایصال ثواب کی شیرینی اور طعام صدقۂ نافلہ ہے جس کا کھانا امیر وغریب سب کے لیے جائز ہے۔

(ب) البتہ امیر کے لیے افضل یہ ہے کہ یہ شیرینی نہ لے، نہ کھانا کھائے کہ اس کے لیے یا کھانے سے میت کو ثواب کم ملے گا، اور یہ اغنیا کی شان کے لائق بھی نہیں کہ صدقہ کھائیں۔

(ج) اولیاے کرام اور انبیاے عظام کی بارگاہ میں جو طعام یا شیرنی نذر کی جاتی ہے وہ تبرک ہے اسے لینا اور کھانا سب کے لیے بلا تکلف روا ہے۔ امیر کے حق میں بھی خلاف افضل نہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم۔

تیجہ کے کھانایعنی سوئم کے طعام وشیرینی کا حکم

صورت مسئولہ:

تیسرے دن ختم کلام مجید پڑھایا جاتا ہے اس میں بھی تمام عزیز واقربا، پڑوسی، اغنیا سب کی شرکت ہوتی ہے۔ کیا اس شیرینی کو اغنیا لے کر کھائیں تو جائز ہے؟

الجواب:

فاتحہ وایصال ثواب کے لیے طعام پیش کیا جائے یا شیرینی، دفن کے دوسرے روز، یا تیسرے روز، یا کسی اور روز، سب کا حکم شرعی ایک ہے کہ امیر وغریب سب کو لینا جائز ہے اور امیر کے لیے اس سے احتراز افضل ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔

واللہ تعالیٰ اعلم۔

محقق مسئل جدیدہ حضرت علامہ مفتی نظام الدین رضوی استاذ جامعہ اشرفیہ

kya baap ki mojoodgi me bete par qurbani farz hai? Qurbani ke masail

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.