Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

عورت سے نکاح کے لیے اجازت لیتے وقت گواہ موجود نہ ہوں اور ایجاب وقبول کے وقت موجود ہوں تو کیا نکاح ہوگا یا نہیں؟

عورت سے نکاح کے لیے اجازت لیتے وقت گواہ موجود نہ ہوں اور ایجاب وقبول کے وقت موجود ہوں تو کیا نکاح ہوگا یا نہیں؟
Reference 1822 September 18, 2025 12,520 views
اصل سوالعورت سے نکاح کے لیے اجازت لیتے وقت گواہ موجود نہ ہوں اور ایجاب وقبول کے وقت موجود ہوں تو کیا نکاح ہوگا یا نہیں؟

عورت سے نکاح کے لیے اجازت لیتے وقت گواہ موجود نہ ہوں اور ایجاب وقبول کے وقت موجود ہوں تو کیا نکاح ہوگا یا نہیں؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عرض یہ ہے حضرت ایک جگہ نکاح ہوا تھا اور وہاں کئی لوگ موجود تھے دو آدمی گواہ بنائے گئے جن کے سامنے یہ سب کاروائی ہوئی اور نکاح نامے پر انکے سائن بھی کروائے گئے پھر رخصتی کے بعد جبکہ میاں بیوی دونوں راضی برضا رہ رہے ہیں ایک گواہ نے کہا کہ لڑکی نے میرے سامنے اجازت نہیں دی تھی تو اس کے بعد پھر میں نے نکاح یہاں دوبارہ کروا دیا تو اب یہ دنیا والے اس مسئلے پر آواز اٹھا رہے ہیں کہ دوبارہ یہ نکاح کیوں کیا گیا کیا جو پہلا تھا وہ غلط تھا اگر دوبارہ کروایا تو اس کو غلط ثابت کرو لوگوں نے گواہ سے کہا کہ آپ نے اس پر گواہی دینی نہیں تھی اس وقت سائن کر دیا وہاں بات آپ نے کیوں نہیں اٹھائی اب کیا کرنا پڑے گا اس بارےمیں لوگ اس گواہ کو یہ بات بول رہے ہیں کہ آپ وہاں کیوں نہیں بولے مجھے یہ بول رہا ہے کہ میں نے فتنے کی وجہ سے جھوٹ بولا تھا یہاں پھر مجھے بولا میں نے نکاح کروا دیا اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ صورت میں جو نکاح دوبارہ کروایا گیا اسمیں کوئی حرج تو نہیں؟ اور ایسا کرنے میں مجھے پر شرعا کوئی مؤاخذه تو نہیں؟ کیا فتنے کی وجہ سے گواہ جھوٹ بول سکتا ہے؟ کیا غلطی گواہ کی ہے وہاں نہیں بولا؟ المستفتی:- مولانا غلام ربانی ساکن لام گنی الجواب بعون الهادي الى الحق والصواب عورت سے نکاح کے لیے اذن(اجازت) لیتے وقت گواہوں کا ہونا ضروری نہیں البتہ ایجاب وقبول کے وقت ہونا ضروری ہے لیکن اگر بعد عقد عورت اذن سے انکار کردے تو اس وقت اسے ثابت کرنے کے لیے گواہوں کی ضرورت پڑے گی-صورت مسؤلہ میں چونکہ یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ ایجاب وقبول کے وقت دونوں گواہ مجلس میں موجود تھے اور ہمارے ہاں کا عام رواج بھی یہی ہے کہ لڑکی سے اذن لینے کے لیے قاضی یا وکیل کے ساتھ دو گواہ بھی جاتے ہیں وہاں سے اذن لے کر جب یہ لوگ مجلس میں آتے ہیں اور کئی لوگوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول ہوتا ہے اور نکاح خواں اہل مجلس سے کہتا ہے کہ تم سب لوگ اس عقد کے گواہ ہو لیکن نکاح نامے پر رسما دو گواہوں کے نام لکھے جاتے ہیں اس طرح جب عقد ہوا اور عقد کے بعد لڑکی بغیر جبر واکراہ کے رخصت ہوکر شوہر کے گھر چلی گئی اور اب زوج وزوجہ دونوں راضی برضا رہ رہے ہیں تو اس صورت میں پہلا ہی نکاح درست تھا دوسرے کی بالکل ضرورت نہ تھی اور گواہ کی اس بات سے “کہ لڑکی نے میرے سامنے اجازت نہیں دی تھی” مذکورہ نکاح میں کوئی فرق نہ پڑا- لیکن گواہ کے شک اور تردد کو دور کرنے کے لیے مولانا صاحب نے لڑکی کا نکاح اسی شوہر کے ساتھ دوبارہ پڑھا دیا تو اسمیں کوئی حرج نہیں اور ایسا کرنے میں مولانا صاحب پر شرعا کوئی مؤاخذه نہیں-لہذا اب لوگوں کا اس مسئلہ کو طول دینا اور اس پر شور وغل کرنا ہرگز درست نہیں- بہار شریعت میں ہے”عورت سے اذن لیتے وقت گواہوں کی ضرورت نہیں یعنی اس وقت اگر گواہ نہ بھی ہوں اور نکاح پڑھاتے وقت ہوں تو نکاح ہوگیا،البتہ اذن کے لیے گواہوں کی یوں حاجت ہے کہ اگر اس نے انکار کردیا اور یہ کہا کہ میں نے اذن نہیں دیا تھا تو اب گواہوں سے اس کا اذن دینا ثابت ہوجائے گا”(ج ۲ ح ۷ ص ۱۴/مکتبةالمدينه دعوت اسلامی) نیز اسی میں ہے” گواہوں کا ایجاب وقبول کے وقت ہونا شرط ہے، فلہذا اگر نکاح اجازت پر موقوف ہے اور ایجاب وقبول گواہوں کے سامنے ہوئے اور اجازت کے وقت نہ تھے ہوگیا اور اس کا عکس ہوا تو نہیں”(حوالہ سابق) فتاوی بحر العلوم میں ہے “صورت مسؤلہ میں جب لڑکی اطلاع کے بعد اس نکاح سے راضی ہوگئی تو نکاح ہوگیا،اگر چہ اجازت کے وقت گواہ بدل گئے بلکہ سرے سے گواہ نہ ہوں تب بھی نکاح صحیح ہو جاتا ہے گواہ کا ایجاب وقبول کے وقت ہونا ضروری ہے”(ج ۲ ص ۳۳۸) نیز بہار شریعت میں ہے” گواہ اسی کو نہیں کہتے جو دو شخص مجلس عقد میں مقرر کر لیے جاتے ہیں،بلکہ وہ تمام حاضرین گواہ ہیں جنہوں نے ایجاب وقبول سنا اگر قابل شہادت ہوں(حوالہ سابق) فتاوی رضویہ میں اسی کے مثل سوال کے جواب میں ہے “صورت مستفسرہ میں وہ دونوں زوج وزوجہ ہیں،ان کا نکاح صحیح وثابت ہے،دوبارہ نکاح کی اصلا حاجت نہیں،اگر چہ دونوں گواہ انکار کرجائیں- فان الشهود شرط النكاح في الابتداء دون البقاء-گواہوں کا ہونا نکاح کی ابتدا میں شرط ہے اس کے بقاء کے لیے شرط نہیں(ت) جبکہ وہ دونوں باہم مقر نکاح ہیں،یہ اسے اپنی بی بی وہ اسے اپنا شوہر بتاتی ہے تو کسی کو اعتراض کی ہرگز گنجائش نہیں بلکہ ان کا صرف یہ باہمی اقرار ہی ثبوت نکاح کے لیے کافی ہے اگر چہ کوئی گواہ گواہی نہ دے،فی رد المحتار صرحوا أن النكاح يثبت بالتصادق (رد المحتار میں ہے کہ علماء نے تصریح کی ہے کہ ایک دوسرے کی تصدیق سے نکاح ثابت ہوجاتا ہے-ت) پھر ان کا باہم زن وشوہر کی طرح رہنا دوسرا مثبت نکاح ہے یہاں تک کہ جتنے لوگ اس حال سے واقف ہیں سب کو ان کے زوج وزوجہ ہونے پر گواہی دینی جائز ہے”(ج ۱۱ ص ۱۹۱/مترجم /رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان)والله سبحانہ وتعالی أعلم کتبہ:-محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر -مقیم حال اجمیر معلی زادھا اللہ تعالی فضلا وشرفا الجواب صحيح : محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.