01
The questionSawaal
اصل سوالعورت نے قسم کھا کر کہا کہ میرے شوہر نے نشے کی حالت میں طلاق دی ہے تو کیا حکم ہے ؟
02
The responseAl-Jawab
عورت نے قسم کھا کر کہا کہ میرے شوہر نے نشے کی حالت میں طلاق دی ہے تو کیا حکم ہے ؟
کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ آمنہ خاتون نے اللہ کی قسم کھا کر بیان کیا کہ میرے شوہر نے شراب کے نشے کی حالت میں چار پانچ بارمجھ کو طلاق دی۔ اگر میرا یہ بیان جھوٹا ہو تو غازی میاں کوڑھی اور اندھا کر دیں۔ یہ واقعہ چار سال پہلے کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آمنہ پر طلاق پڑ گئی اور وہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــ اگر آمنہ کا بیان صحیح ہے تو اس پر طلاق مغلظہ پڑگئی ۔ بعد عدت وہ کسی دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے۔ فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ 331 میں ہے: طلاق السكران واقع اذا سكر من الخمر او النبيذ هو مذهب اصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط. یعنی اگر کسی نے شراب یا نیند کے نشے کی حالت میں طلاق دی تو ہمارے ائمہ کرام کے نزدیک طلاق پڑ جائے گی ۔ ایسا ہی محیط میں ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ کتبہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.