01
The questionSawaal
اصل سوالعورت کی جماعت کا حکم | کیا عورت جماعت کروا سکتی ہے یا نہیں ؟
02
The responseAl-Jawab
عورت کی جماعت کا حکم | کیا عورت جماعت کروا سکتی ہے یا نہیں ؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہْ علماء کرام کی بارگاہ میں میرا سوال ہے کہ کیا عورت جماعت کروا سکتی ہے یا نہیں اگر نہی کرواسکتی تو وجہ اگر کرواسکتی ہے تو کس کس کی اور کہاں پر جماعت کرواۓ گی۔۔۔۔۔مکمل مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔۔ محمد ساجد قادری۔۔ جموں و کشمیر الجواب بعون الملک الوھاب عورتوں کی جماعت مکروہ تحریمی ہے چاہے وہ فرض نماز ہو یا غیر فرض، مسجد میں ہو یا گھر میں. اعلاءالسنن میں ہے : عن علي بن أبي طالب رضي اللّٰه عنه أنه قال: لا تؤم المرأة. (إعلاء السنن ۴؍۲۲۷ دار الکتب العلمیة بیروت) “الفتاوی الھندیۃ “میں ہے: ویکرہ امامۃ المرءۃ للنساء فی الصلوت کلھا من الفرائض والنوافل. (جلد اول،، صفحہ ۵۸) فتاوی شامی میں ہے: ” ویکره تحریماً جماعة النساء ولو في التراویح ۔ فإن فعلن تقف الإمام وسطهن فلو قدمت أثمت”.(ج ٢ /٣٠٥) “تبیین الحقائق ” میں ہے: کرہ جماعۃ النساء وحدھن لقولہ علیہ السلام صلاۃ المرءۃ فی بیتھاافضل من صلاتھا فی حجرتھا وصلاتھا فی مخدعھا افضل من صلاتھا فی بیتھا”(جلد اول،صفحہ ۸۴۳) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٣شعبان ١٤٤٣/ ٧مارچ ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.