Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

غسل میت کے بعد بچے ہوئے صابن کو پھینک دینا ناجائز ہے از مفتی محمد نظام الدین قادری

غسل میت کے بعد بچے ہوئے صابن کو پھینک دینا ناجائز ہے از مفتی محمد نظام الدین قادری
Reference 1393 September 18, 2025 8,669 views
اصل سوالغسل میت کے بعد بچے ہوئے صابن کو پھینک دینا ناجائز ہے از مفتی محمد نظام الدین قادری

غسل میت کے بعد بچے ہوئے صابن کو پھینک دینا ناجائز ہے۔

السلام علیکم۔ ۱۔۔۔۔سوال۔۔۔۔۔۔میت کو غسل کے وقت اکثر صابن کا استعمال کرتے ہیں اور اگر صابن آدھی رہ گئی تو اس صابن کو کیا ہم اپنے لے استعمال کر سکتے ہیں؟ سائل ثاقب احمد ڈار ولرامن ضلع بارہ مولہ۔ الجواب: میت کے غسل میں صابن کے استعمال کی اجازت ہے، صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی رحمہ اللہ القوی غسل میت کا طریقہ بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: “کوئی کپڑا یا روئی کی پھریری بھگو کر دانتوں اور مسوڑوں اورہونٹوں اور نتھنوں پر پھیر دیں، پھر سر اور داڑھی کے بال ہوں تو گِلِ خیرو سے دھوئیں ، یہ نہ ہو تو پاک صابون اسلامی کارخانہ کا بنا ہوا، یا بیسن یا کسی اور چیز سے، ورنہ خالی پانی بھی کافی ہے۔” (بہارِ شریعت ح۴ ص٨١٦) اور غسل میت میں استعمال ہونے والا صابن اگر بچ جائے تو اس کو کسی طور پر استعمال کرنا ہی چاہیے ۔کیوں کہ اس کو پھینک دینا مال ضائع کرنے کے باعث ناجائز وحرام ہے۔صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ اسی طرح کی غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: “بعض جگہ دستور ہے کہ عموماً میّت کے غسل کے لیے کورے گھڑے بدھنے لاتے ہیں اس کی کچھ ضرورت نہیں ۔ گھر کے استعمالی گھڑے لوٹے سے بھی غسل دے سکتے ہیں ۔ اور بعض یہ جہالت کرتے ہیں کہ غسل کے بعد توڑ ڈالتے ہیں ، یہ ناجائز و حرام ہے کہ مال ضائع کرنا ہے ۔ اور اگر یہ خیال ہو کہ نجس ہو گئے تو یہ بھی فضول بات ہے کہ اولاً تو اُس پر چھینٹیں نہیں پڑتیں اور پڑیں بھی تو راجح یہ ہے کہ میّت کا غسل نجاست حکمیہ دُور کرنے کے لیے ہے تو مستعمل پانی کی چھینٹیں پڑیں اور مستعمل پانی نجس نہیں ۔ جس طرح زندوں کے وضو و غسل کا پانی اور اگر فرض کیا جائے کہ نجس پانی کی چھینٹیں پڑیں، تو دھو ڈالیں ، دھونے سے پاک ہو جائیں گے ۔ اور اکثر جگہ وہ گھڑے بدھنے مسجدوں میں رکھ دیتے ہیں۔ اگر نیت یہ ہو کہ نمازیوں کو آرام پہنچے گا اور اُس کا مُردے کو ثواب، تو یہ اچھی نیت ہے اور رکھنا بہتر۔ اور اگر یہ خیال ہو کہ گھر میں رکھنا نحوست ہے تو یہ نری حماقت۔ اور بعض لوگ گھڑے کا پانی پھینک دیتے ہیں بھی حرام ہے۔” (بہار شریعت ح۴ ص٨٢١ ، ٨٢٢) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ١١/رجب المرجب ١۴۴٣ھ/١٣/فروری ٢٠٢٢ء ۔

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.