Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

فاقہ کی نوبت ہو قرض حسن نہ ملے تو اس صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے یا نہیں؟

فاقہ کی نوبت ہو قرض حسن نہ ملے تو اس صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے یا نہیں؟
Reference 1126 September 18, 2025 6,975 views
اصل سوالفاقہ کی نوبت ہو قرض حسن نہ ملے تو اس صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے یا نہیں؟

فاقہ کی نوبت ہو قرض حسن نہ ملے تو اس صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے یا نہیں؟

سوال : اگر بہت زیادہ محتاج ہو کہ فاقہ کی نوبت ہو اور کہیں سے قرض حسن نہ ملے تو اس صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ فقہائے کرام نے سود سے بچنے کی جو صورتیں بیان کی ہیں جن میں سے بعض کا ذکر بہار شریعت کے گیارہویں حصہ میں ہے اگر اس طرح بھی قرض نہ مل سکے تو صحیح شرعی مجبوری کی صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے ۔ الا شباہ والنظائر صفحہ ٩٢ میں ہے۔ فی القنیۃ والبغیۃ یجوز للمحتاج الا ستقراض بالربح ۔ اور اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں سود دینے والا اگر حقیقتاً صحیح شرعی مجبوری کے سبب دیتا ہے اس پر الزام نہیں ہے ۔ ردمختار میں ہے ۔ یجوز للمحتاج الا ستقراض بالربح “ اور اگر بلا مجبوری شرعی سود دیتا ہے مثلا تجارت بڑھانے یا جائیداد میں اضافہ کرنے یا اونچا محل بنوانے یا اولاد کی شادی میں بہت کچھ لگانے کے واسطے سودی قرض لیتا ہے تو وہ بھی سود کھانے والے کے مثل ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ ٢٤٣) وھو تعالی ورسولہ الا علیٰ اعلم جل مجدہ وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کتبـــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.