Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

فضائل شعبان المعظم | شب براءت کی فضیلت اور عبادت

فضائل شعبان المعظم | شب براءت کی فضیلت اور عبادت
Reference 1528 September 18, 2025 4,834 views
اصل سوالفضائل شعبان المعظم | شب براءت کی فضیلت اور عبادت

فضائل شعبان المعظم | شب براءت کی فضیلت اور عبادت

اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میرے سرتاج،صاحبِ معراج صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پورے شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کے روزے رکھا کرتے تھے۔فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی:یارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!کیاآپ کوسب مہینوں میں سے شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کے مہینے میں روزے رکھنا زیادہ پسند ہے؟ ارشاد فرمایا:بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سال مرنے والی ہر جان کو لکھ دیتا ہے اور مجھے یہ پسند ہے کہ میرا وَقْتِ رخصت آئے اور میں روزہ دار ہوں.

شب براءت کی فضیلت

شب برات یعنی پندرہویں شعبان کی رات کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے. حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شعبان کی پندرھویں شب میں اللہ عزوجل اپنی تمام مخلوق کی طرف تجلی فرماتا ہے اور سب کو بخش دیتا ہے سوائے کافر اور عداوت والے کے . ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا یہ شعبان کی پندرھویں رات ہے. اس میں اللہ تعالی جہنم سے اتنوں کو آزاد فرماتا ہے جتنے بنی کلب کی بکریوں کے بال ہیں مگر کافر اور عداوت والے اور رشتہ کاٹنے والے اور کپڑے لٹکانے والے یعنی ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکانے والے اور والدین کی نافرمانی کرنے والے اور شراب کی مداومت کرنے والے کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتا. ‌ بیہقی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل شعبان کی پندرھویں شب میں تجلی فرماتا ہے استغفار کرنے والوں کو بخش دیتا ہے اور طالب رحمت پر رحم فرماتا ہے اور کینہ والوں کو جس حال پر ہیں اسی حال پر چھوڑ دیتا ہے.

15 شعبان کا روزہ | پندرہویں شعبان کا روزہ رکھنا

جب شعبان کی پندرہویں شب آئے تو اس میں قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو مسلم شریف کی درج ذیل حدیث سے پندرہ شعبان کے روزے کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے. حضرت عمران بن حسین رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یا کسی اور سے فرمایا تم نے شعبان کے وسط میں روزہ رکھا ہے انہوں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا عید کے بعد تم دونوں روزے رکھ لینا. اس حدیث سے بھی شعبان بلکہ شب برات کے روزے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ اس کے ایک روزے کے بدلے بعد رمضان دو روزے کا حکم دیا اور وسط شعبان سے پندرہ شعبان ہی مراد ہے اس سے شب براءت کے بعد والے دن کا روزہ بھی ثابت ہوا. بعض لوگوں نے اس حدیث سے آخر شعبان کا روزہ مراد لیا ہے لیکن یہ مانا اس لیے درست نہیں معلوم ہوتا کہ آخر شعبان میں روزے کی ممانعت پر حدیث موجود ہیں تو اس کے بدلے روزے کا حکم کیسے دیا جائے گا. اس لئے وسط شعبان ہی کا معنی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے اور اگر آخر شعبان ہی کا معنیٰ لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس کو ہر ماہ کے آخر میں روزے کی عادت تھی اس نے روزہ نہ رکھا تو اب رمضان کے بعد دو روزہ رکھ لے. راوی کو اس میں شک ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روزہ رکھنے کو کہا یا دو لیکن حضرت عمران بن حصین کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو روزے کا حکم دیا. یہ حکم استحبابی ہے یعنی مستحب ہے کہ وسط شعبان کے روزے کے بدلے بعد رمضان دو روزہ رکھ لے اگر نہ رکھا تو گناہ گار نہیں ہوگا ہاں اگر کسی نے وسط شعبان یا ہر مہینہ کے آخری تاریخ میں روزے کی منت مانی تھی اور وہ نہ رکھ سکا تو بعد رمضان اس کی قضا واجب ہوگی دو کی منت تھی تو دو روزہ رکھے اور ایک کی منت تھی تو ایک روزہ رکھنا لازم ہے.

شب برات کی 6 رکعت نفل نماز

شب برات یعنی شعبان کی پندرھویں رات میں میں بعد نماز مغرب کے چھہ رکعتیں دو دو رکعت کر کے پڑھیں. پہلی دو رکعت میں درازئ عمر، دوسری دو رکعت میں دفع بلا اور تیسری دو رکعت میں مخلوق کا محتاج نہ ہونے کی نیت کریں. دو دو رکعت پڑھنے کے بعد ایک مرتبہ سورہ یاسین یا اکیس مرتبہ سورہ اخلاص اور ایک مرتبہ دعائے نصف شعبان پڑھیں . بِسم اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلّٰلھُمَّ یَا ذَا الْمَنِّ وّلَایُمَنُّ عَلَیْہِ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ ؕ یَا ذَا الطَّوْلِ وَالاَنْعَامِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ ظَھْرُاللَّاجِیْنَ ؕ وَجَارُ الْمُسْتَجِیْرِیْنَ وَاَمَانُ الْخَائِفِیْنَ ؕاَللّٰھُمَّ اِنْ كُنْتَ كَتَبْتَنِیْ عِنْدَكَ فِیْ اُمِّ الْكِتٰبِ شَقِیًّا اَوْ مَحْرُوْمًااَوْمَطْرُوْدًااَوْ مُقْتَرًّاعَلَیَّ فِی الّرِزْقِ فَامْحُ اَللّٰھُمَّ بِفَضْلِكَ شَقَاوَتِیْ وَحِرْمَانِی وَطَرْدِیْ وَقْتِتَارِ رِزْقِیْ ؕ وَاَثْبِتْنِیْ عِنْدَكَ فِی اُمِّ الْكِتٰبِ سَعِیْدًا مَّرْزُوْقًا مُوَفَّقًالِلْخَیْرَاتِ ؕ فَاِنَّكَ قُلْتَ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ فِیْ كِتَابِكَ الْمُنَزَّلِ ؕ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّكَ الْمُرْسَلِ یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ ۚۖ-وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ(۳۹)اِلٰھِی بِالتَّجَلِّی الْاَعْظَمِ فِی لَیْلَۃِالنِّصْفِ مِنْ شَھْرِ شَعْبَانَ الْمُكَرَّمِ الَّتِیْ یُفْرَقُ فِیْھَا كُلُّ اَمْرٍحَكِیْمٍ وَیُبْرَمُطاَنْ تُكْشَفُ عَنَّامِنَ الْبَلَآءِ وَالْبَلَوَ آءِ مَا نَعْلَمْ طوَاَنْتَ بِہ اَعْلَمُ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعَزُّ الْاَكْرَامُ ؕ وَصَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہ وَ اَصْحَابِہ وَسَلَّمْ ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ مرتب : مولانا اظہر علیمی

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.