01
The questionSawaal
اصل سواللڑکا اچھا نہیں تو نکاح نہ کرے وعدہ خلافی کا گناہ نہیں
02
The responseAl-Jawab
لڑکا اچھا نہیں تو نکاح نہ کرے وعدہ خلافی کا گناہ نہیں
ایک سال ہوا زید اپنی بیٹی ہندہ کے نکاح کا وعدہ بکر کے لڑکے سے کرچکا اب معلوم ہوا کہ بکر کے لڑکے کی عادتیں اچھی نہیں وہ شرابی و جواڑی ہے اس لئے وہ اپنی بیٹی کا نکاح بکر کے لڑکے سے نہیں کرنا چاہتا ہے تو کیا شرعاً اس پر وعدہ خلافی کا گناہ ہوگا یا نہیں ؟ المستفتی غلام رسول سورت گجرات انڈیا۔ بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں زید پر کوئی گناہ نہیں کہ عذر شرعی ہو تو وعدہ خلافي پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ فتاوی رضویہ مترجم میں ہے: ” اور اگر وعدہ سچے دل سے کیا پھر کوئی عذر مقبول وسبب معقول پیدا ہواتو وفا نہ کرنے میں کچھ حرج کیا ادنی کراہت بھی نہیں جبکہ اس عذر ومصلحت کو اس وفائے وعدہ کی خوبی وفضیلت پر ترجیح ہو خصوصا امر نکاح میں کہ عمر بھر کے ساتھ کا سامان اور سخت نازک معاملہ ہے خصوصا بے چاری شریف زادیوں کے لئے خصوصا بلاد ہندوستان میں، پس اگر نسبت کے بعد کوئی حرج ونقصان ظاہر ہو نسبت چھڑالی جائے ورنہ اپنی زبان پالنے کےلئے ایک بے کس بے زبان کو عمر بھر مضرت میں پھنساناہوگا ” (جلد12 صفحہ281 کتاب النکاح، باب القسم) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.