01
The questionSawaal
اصل سوالمال مرہون کی زکوۃ کس پر ہے؟ از مفتی ارشاد رضا علیمی
02
The responseAl-Jawab
مال مرہون کی زکوۃ کس پر ہے؟
سوال:- مال مرہون کی زکوۃ راہن پر ہے یا مرتہن پر؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب مال مرہون کی زکات نہ مرتہن پر ہے نہ راہن پر مرتہن پر اس لیے نہیں کہ وہ مالک نہیں ہے اور راہن پر اس لیے نہیں کہ مال اس کے قبضہ میں نہیں جبکہ وجوب زکات کے لیے ملک اور قبضہ دونوں لازم ہیں ۔ رد المحتار میں ہے “ولا في مرهون أي لا على المرتهن لعدم ملك الرقبة ولا على الراهن لعدم اليد”(ج ۳ ص ۱۸۰) اور فتاوی عالمگیری میں ہے “ولا على الراهن اذا كان الرهن فى يد المرتهن هكذا فى البحر الرائق”(ج ۱ ص ۱۷۲) والله تعالى أعلم کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحيح محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.