Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

مختلف قیمتوں کے زیورات کی زکاة کا حکم از مفتی محمدنظام الدین قادری علیمیہ

مختلف قیمتوں کے زیورات کی زکاة کا حکم از مفتی محمدنظام الدین قادری علیمیہ
Reference 73 September 18, 2025 9,054 views
اصل سوالمختلف قیمتوں کے زیورات کی زکاة کا حکم از مفتی محمدنظام الدین قادری علیمیہ

مختلف قیمتوں کے زیورات کی زکاة کا حکم

کتبہ:مفتی محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔۔ یوپی

السلامُ علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ سونے چاندی کے زیورات جو عموماً خالص سونے چاندی کے نہیں ہوتے بلکہ سونے کے زیورات کبھی ۱۸/کیریٹ تو کبھی بیس کیریٹ کے ہوتے ہیں اور مارکیٹ میں ۱۸/کیریٹ کے سونے کادام الگ ہوتا ہے اور اتنے ہی کیریٹ کے زیور کادام الگ اور خالص سونا جو ۲۴/کیریٹ کا ماناجاتا ہے اس کا دام ان سب سے زیادہ ہوتاہے اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس ۱۸/کیریٹ کا سونے کا زیور ہو تو وہ زکات کس ریٹ کے اعتبار سے نکالے گا ؟ نیز صراف لوگ جو زیورات خریدتے اور بیچتے ہیں وہ اپنے تجارت کے زیورات کی زکات میں کس ریٹ کا اعتبار کریں کہ ان کا نقصان نہ ہو ۔جواب باصواب سے نواز کر مشکور ہوں. المستفتی محمد مزمل اختر مصباحی الجواب: مختلف قیمتوں کے زیورات کی زکاة کا حکم  یہاں دو صورتیں ہیں: پہلی صورت :اگر کسی کے پاس ١٨/کیریٹ والے سونے کے زیورات ہیں تو اگر وہ انہی زیورات کا کوئی حصہ زکات میں دیتا ہے تب تو قیمت کا کوئی اعتبار ہی نہیں ۔ مثلا کسی کے پاس ١٨/ کیریٹ والے سونے کے زیورات ٨٠/گرام ہیں اور وہ اسی میں سے کوئی دوگرام کا چھوٹا زیور زکاة میں دےدے تو زکاة ہوگئی ۔ پھر اگر کسی کے پاس ١٨/کیریٹ والے سونے کے زیورات کے ساتھ ٢٠/کیریٹ والے سونے کے زیورات بھی ہوں اور وہ دونوں کی زکاة ٢٠/کیریٹ والےزیور کا حصہ دیکر نکالے تو بلا کراہت زکاة ادا ہوجائے گی ۔ لیکن اگر وہ دونوں کی زکاة ١٨/کیریٹ والے سونے سے نکالے تو کراہت کے ساتھ زکاة ادا ہوگی ۔ مثلا: کسی کے پاس چالیس گرام ١٨/کیریٹ والے سونے کا زیور ہے اور چالیس گرام ٢٠/ کیریٹ والے سونے کا بھی زیور ہے تو اگر ١٨/کیریٹ والے سونے سے دو گرام زکاة دے تو ایسا کرنا مکروہ ہے اور اگر ٢٠/کیریٹ والے سونے سے دو گرام زکاة دے تو کوئی کراہت نہیں ہے۔ لیکن یہاں یہ صورت جائز نہیں کہ٢٠/کیریٹ والے سونے سے قیمت کے اعتبار سے زکاة ادا کرے۔مان لیجئے ١٨/کیریٹ والے چالیس گرام سونے کی قیمت اسی ہزار(٨٠٠٠٠) ہے اور ٢٠/کیریٹ والے چالیس گرام سونے کی قیمت ایک لاکھ (١٠٠٠٠٠)ہے تو یہاں یہ نہیں ہوسکتا کہ ٢٠/کیریٹ والے سونے میں سے دو گرام سے کم اتنا سونا زکاة میں دے جس کی قیمت ایک لاکھ اسی ہزار کی زکاة یعنی ساڑھے چار ہزار برابر ہو ۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: “وَيُعْتَبَرُ فِيهِمَا أَنْ يَكُونَ الْمُؤَدَّى قَدْرَ الْوَاجِبِ وَزْنًا، وَلَا يُعْتَبَرُ فِيهِ الْقِيمَةُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ- رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى- حَتَّى لَوْ أَدَّى عَنْ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ جِيَادٍ خَمْسَةً زُيُوفًا قِيمَتُهَا أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ جِيَادٍ جَازَ عِنْدَهُمَا وَيُكْرَهُ، وَلَوْ أَدَّى أَرْبَعَةً جِيَادًا قِيمَتُهَا خَمْسَةٌ رَدِيئَةٌ عَنْ خَمْسَةٍ رَدِيئَةٍ لَا يَجُوزُ، وَلَوْ كَانَ لَهُ إبْرِيقُ فِضَّةٍ وَزْنُهُ مِائَتَانِ وَقِيمَتُهُ لِصِيَاغَتِهِ ثَلَثَمِائَةٍ إنْ أَدَّى مِنْ الْعَيْنِ يُؤَدِّي رُبُعَ عُشْرِهِ، وَهُوَ خَمْسَةٌ قِيمَتُهَا سَبْعَةٌ وَنِصْفٌ وَإِنْ أَدَّى خَمْسَةً قِيمَتُهَا خَمْسَةٌ جَازَ، وَلَوْ أَدَّى مِنْ خِلَافِ جِنْسِهِ يُعْتَبَرُ الْقِيمَةُ بِالْإِجْمَاعِ كَذَا فِي التَّبْيِينِ.”(فتاوی عالم گیری ج١ ص١٧٨، ١٧٩) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: سونے چاندی کی زکاۃ میں وزن کا اعتبار ہے قیمت کا لحاظ نہیں ، مثلاً سات تولے سونے یا کم کا زیور یا برتن بنا ہو کہ اس کی کاریگری کی وجہ سے دو سو ۲۰۰ درم سے زائد قیمت ہو جائے یا سونا گراں ہو کہ ساڑھے سات تولے سے کم کی قیمت دو سو درم سے بڑھ جائے، جیسے آج کل کہ ساڑھے سات تولے سونے کی قیمت چاندی کی کئی نصابیں ہوں گی، غرض یہ کہ وزن میں بقدر نصاب نہ ہو تو زکاۃ واجب نہیں قیمت جو کچھ بھی ہو ۔ یوہیں سونے کی زکاۃ میں سونے اور چاندی کی زکاۃ میں چاندی کی کوئی چیز دی تو اس کی قیمت کا اعتبار نہ ہوگا، بلکہ وزن کا ا گرچہ اس میں بہت کچھ صنعت ہو جس کی وجہ سے قیمت بڑھ گئی ۔ یا فرض کرو دس آنے بھری چاندی بک رہی ہے اور زکاۃ میں ایک روپیہ دیا جو سولہ آنے کا قرار دیا جاتا ہے تو زکاۃ ادا کرنے میں وہ یہی سمجھا جائے گا کہ سوا گیارہ ماشے چاندی دی، یہ چھ آنے بلکہ کچھ اُوپر جو اس کی قیمت میں زائد ہیں لغو ہیں ۔ (بہار شریعت حصہ ۵ص ٩٠٢) دوسری صورت یہ ہے کہ زیورات کا مالک خود سونے کی شکل میں زکاة نہ دے بلکہ کرنسی نوٹ یا کسی دوسری چیز کی شکل میں زکاة دے تو یہاں اس زیور کی قیمت یعنی بازار بھاو کا اعتبار ہوگا یعنی سال زکاة مکمل ہونے پر ان زیورات کا جو بازار بھاو ہو اسی بازار بھاو کے اعتبار زکاة ادا کرے ۔ مثلا کسی کے پاس ١٨/ کیریٹ والے سونے کا چالیس گرام زیور ہے اور اس کا سالِ زکاة گیارہ رمضان کو مکمل ہوتاہے تو گیارہ رمضان کو اس ١٨/کیریٹ والے سونے کے زیور کا جو مارکیٹ ریٹ ہو اس کا چالیسواں حصہ زکاة میں دے ۔ اور یہاں یہ واجب نہیں ہے کہ ١٨/کیریٹ والے سونے کی زکاة ٢٠/ یا ٢۴/کیریٹ والے سونے کی قیمت کے اعتبار سے ادا کرے ۔ یہی تفصیل صراف کی زکاة میں بھی ہے کہ اگر وہ اپنے تجارتی سونے کی زکاة خود سونے کی شکل میں دینا چاہتا ہے تو ہر نوع کے سونے سے الگ الگ زکاة دے اور اگر ٢۴/کیریٹ اور ٢٠/کیریٹ والے سونے کے زیورات کی زکاة وہ ١٨/کیریٹ والے سونے کی شکل میں دے گا تو یہ مکروہ اور منع ہے۔ اور اگر سب کی زکاة سونے کے علاوہ کسی دوسری چیز کی شکل میں نکالنا چاہتا ہے تو سالِ زکاة کی تکمیل پر ہر نوع کے سونے کی جو مجموعی قیمت ہو اس کے اعتبار سے زکاة دے۔ امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “سونے کے عوض سونا، چاندی کے عوض چاندی زکوٰۃ میں دی جائے جب تو نرخ کی کوئی حاجت ہی نہیں، وزن کا چالیسواں حصہ دیا جائے گا، ہاں اگر سونے کے بدلے چاندی یا چاندی کے بدلے سونا دینا چاہیں تو نرخ کی ضرورت ہوگی، نرخ نہ بنوانے کے وقت کا معتبر ہو نہ وقت ادا کا،اگر ادا سال تمام کے پہلے یا بعد ہو جس وقت یہ مالکِ نصاب ہُوا تھا وہ ماہ عربی و تاریخ وقت جب عود کریں گے اس پر زکوٰۃ کا سال تمام ہوگااس وقت نرخ لیا جائے گا(فتاوی رضویہ ج۴ ص۴١٠) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ” یہ جو کہا گیا کہ ادائے زکاۃ میں قیمت کا اعتبار نہیں ، یہ اسی صورت میں ہے کہ اُس کی جنس کی زکاۃ اُسی جنس سے ادا کی جائے اور اگر سونے کی زکاۃ چاندی سے یا چاندی کی سونے سے ادا کی تو قیمت کا اعتبار ہوگا، مثلاً سونے کی زکاۃ میں چاندی کی کوئی چیز دی جس کی قیمت ایک اشرفی ہے تو ایک اشرفی دینا قرار پائے گا، اگرچہ وزن میں اس کی چاندی پندرہ روپےبھر بھی نہ ہو۔ “(بہار شریعت حصہ ۵ ص٩٠٢ ، ٩٠٣ ) اور تحریر فرماتے ہیں: واضح رہے کہ سونے یا چاندی میں اگر کسی چیز کی ملاوٹ ہو تو اگر سونا یا چاندی زیادہ یا برابر ہو تو شریعت میں اس کو سونا یا چاندی مانا گیا ہے اوراگر وہ نصاب کے وزن کو پہونچ جائے تو زکاة واجب ہوگی۔ “اگر سونے چاندی میں کھوٹ ہو اور غالب سونا چاندی ہے تو سونا چاندی قرار دیں اور کل پر زکاۃ واجب ہے۔ یوہیں اگر کھوٹ سونے چاندی کے برابر ہو تو زکاۃ واجب “(بہار شریعت حصہ ۵ ص ٩٠۴) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔۔ یوپی ١٠/رمضان المبارک ١۴۴٢//٢٣/اپریل ٢٠٢١ء

ALIMI DARUL IFTA JAMIA ALIMIA JAMDA SHAHI BASTI

مستحق زکاة مقروض کا قرض معاف کردینے سے زکاة ادا ہوگی یا نہیں؟

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.