01
The questionSawaal
اصل سوالمسجد میں دبیز قالین اور فوم کی فرش بچھانا کیسا؟
02
The responseAl-Jawab
مسجد میں دبیز قالین اور فوم کی فرش بچھانا کیسا؟
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ! کیا فرماتے علمائے دین و مفتیان شرع متین ذیل کے مسئلے میں کہ دورِ حاضر میں مساجد کے متولیوں میں ایک ہوڑ سی لگی ہے کہ مسجد میں قالین بچھا رہے ہیں اور کچھ مساجد میں تو قالین کے نیچے فام بھی بچھاتے ہیں جس سے سجدہ کرنے پر زمین کی سختی محسوس نہیں ہوتی تو کیا اس صورت میں وہاں نماز ہو جائے گی؟ اگر نہیں تو ایسا کرنے والوں پر کیا لوگوں کی نماز خراب و برباد کرنے کا حکم لگے گا ؟ اور کیا امامِ مسجد جنہوں نے سکوت اختیار کر رکھا ہے ان پر بھی شریعت کا حکم نافذ ہوگا؟ برائے مہربانی مدلل جواب عنایت فرمائیں اور شکریہ ادا کرنے کا موقع عنایت فرمائیں المستفتی محمد علی زین اللہ خان قادری نوری رضوی نیتا جی نگر کامراج نگر گھاٹکوپر مشرق ممبئی الجواب: قالین اور فام کی فرش اگر اتنی نرم اور موٹی ہو کہ سجدہ میں نمازی کا سر پورے طور پر اس پر نہ ٹھہرے بلکہ دبانے سے ابھی اور دبے تو نماز کا ایک رکن سجدہ ادا ہی نہیں ہوگا اس لیے نماز نہیں ہوگی، ایسی چیزوں پر نماز پڑھنے والے نمازیں رائیگاں کرنے کی وجہ سے گنہگار ہوں گے۔اور اس طرح کی فرش بچھانے والوں پر دوسروں کی نماز خراب کرنے کا بھی وبال ہوگا۔اور سکوت رکھنے والے امام بھی ازالہ منکر میں کوتاہی کے مجرم ہوں گے۔ در مختار میں ہے: “وَبِشَرْطِ طَهَارَةِ الْمَكَانِ۔” (در مختار ج٢ ص٢٠٦ ) علامہ شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “(قَوْلُهُ وَأَنْ يَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ) تَفْسِيرُهُ أَنَّ السَّاجِدَ لَوْ بَالَغَ لَا يَتَسَفَّلُ رَأْسَهُ أَبْلَغَ مِنْ ذَلِكَ، فَصَحَّ عَلَى طُنْفُسَةٍ وَحَصِيرٍ وَحِنْطَةٍ وَشَعِيرٍ وَسَرِيرٍ وَعَجَلَةٍ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى الْأَرْضِ لَا عَلَى ظَهْرِ حَيَوَانٍ كَبِسَاطٍ مَشْدُودٍ بَيْنَ أَشْجَارٍ، وَلَا عَلَى أُرْزٍ أَوْ ذُرَةٍ،إلَّا فِي جَوَالِقَ أَوْ ثَلْجٍ إنْ لَمْ يُلَبِّدْهُ وَكَانَ يَغِيبُ فِيهِ وَجْهُهُ وَلَا يَجِدُ حَجْمُهُ، أَوْ حَشِيشٍ إلَّا إنْ وَجَدَ حَجْمَهُ، وَمِنْ هُنَا يُعْلَمُ الْجَوَازُ عَلَى الطُّرَّاحَةِ الْقُطْنِ، فَإِنْ وَجَدَ الْحَجْمَ جَازَ وَإِلَّا فَلَا بَحْرٌ۔”(رد المحتار مع الدر ج٢ص٢٠٦) امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ جو چیز ایسی ہوکہ سجدہ میں سر اُس پر مستقر ہوجائے یعنی اُس کادبنا ایک حد پر ٹھہر جائے کہ پھر کسی قدر مبالغہ کریں اس سے زائد نہ دبے ایسی چیز پر نماز جائز ہے خواہ وہ چارپائی ہو یا زمین پر رکھا ہوا گاڑی کا کھٹولا یا کوئی شے۔” (فتاوی رضویہ ج٢ ص٣٧٢) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “کسی نرم چیز مثلاً گھاس، روئی، قالین وغیرہا پر سجدہ کیا تو اگر پیشانی جم گئی یعنی اتنی دبی کہ اب دبانے سے نہ دبے تو جائز ہے، ورنہ نہیں ۔ (عالمگیری) بعض جگہ جاڑوں میں مسجد میں پیال بچھاتے ہیں ، ان لوگوں کو سجدہ کرنے میں اس کا لحاظ بہت ضروری ہے کہ اگر پیشانی خوب نہ دبی، تو نماز ہی نہ ہوئی اور ناک ہڈی تک نہ دبی تو مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوئی، کمانی دار گدّے پر سجدہ میں پیشانی خوب نہیں دبتی لہٰذا نماز نہ ہوگی، ریل کے بعض درجوں میں بعض گاڑیوں میں اسی قسم کے گدّے ہوتے ہیں اس گدّے سے اتر کر نماز پڑھنی چاہیے۔” (بہار شریعت ح٣ص۵١٨) لیکن اگر قالینیں اور پتلے فوم ایسے ہوں جن پر سر اس طرح مستقر (ٹھہر) جائے کہ اب دبانے سے مزید اور نہ دبے۔تو ان کے بچھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔اور مسجد میں کوئی نئی قسم کی ایسی چیز جس سے عام لوگوں کے دلوں میں مسجد کی توقیر و عظمت بڑھے منع نہیں ہے۔نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مقدس زمانہ کے بعد مسجدوں میں ایسی چیزوں کا اضافہ ہوتا رہا جن سے عام مسلمانوں کے دلوں میں مساجد کی عظمت و توقیر پیدا ہو اور ان چیزوں کے احترام مساجد میں اثر انداز ہونے کے سبب فقہائے کرام نے ان کو مستحسن قرار دیا ، دیکھیے اُس عہدِ مبارک میں تو پکی فرش، پینٹنگ، مینار، برج، کنگرے یہ سب چیزیں بھی نہ تھیں اور اب کوئی مسجد ان چیزوں کے بغیر کم ہی ملے گی۔ امام اہلِ سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “واقعی زمانہ اقدس حضور سرور عالم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں مساجد کے لئے برج کنگرے اور اس طرح کے منارے جن کو لوگ مینار کہتے ہیں ہر گز نہ تھے، بلکہ زمانہ اقدس میں پکے ستون، نہ پکی چھت، نہ پکا فرش، نہ گچکاری، یہ امور اصلاً نہ تھے، کما فی صحیح البخاری فی ذکر مسجدہ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، بلکہ حدیث میں ہے:ابنوا المساجد واتخذوھا جما۔ مسجدیں بناؤ اور انہیں بے کنگرہ رکھو۔رواہ ابوبکر بن ابی شیبۃ والبیھقی فی السنن عن انس رضی ﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔۔دوسری حدیث میں ہے: ابنوا مساجدکم جما وابنوا مدائنکم مشرفۃ۔ اپنی مسجدیں منڈی بناؤ اور اپنے شہر کنگرہ دار۔ رواہ ابن ابی شیبۃ عن ابن عباس رضی ﷲ تعالٰی عنہما عن النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ مگر تغیرِ زمانہ سے جبکہ قلوبِ عوام تعظیمِ باطن پر تنبّہ کے لئے تعظیم ظاہر کے محتاج ہوگئے، اس قسم کے امور علماء وعامہ مسلمین نے مستحسن رکھے ، اسی قبیل سے ہے قرآن عظیم پر سونا چڑھانا، کہ صدر اول میں نہ تھا اور اب بہ نیت تعظیم واحترامِ قرآن مجید مستحب ہے۔ یوں ہی مسجد میں گچگاری اور سونے کا کام۔ وماراٰہ المسلمون حسنا فھو عند ﷲ حسن۔ درمختار میں ہے:”جاز تحلیۃ المصحف لما فیہ من تعظیمہ کما فی نقش المسجد ۔ تبیین الحقائق میں ہے: “لایکرہ نقش المسجد بالجص وماء الذھب”۔عالمگیری میں ہے:لاباس بنقش المسجد بالجص والساج وماء الذھب والصرف الی الفقراء افضل کذافی السراجیۃ، وعلیہ الفتوی، کذافی المضمرات، وھکذا فی المحیط۔” (فتاوی رضویہ ج٦ ص٣٩۵، ٣٩٦) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٨/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ١٠/اپریل ٢٠٢٢ء
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.