01
The questionSawaal
اصل سوالمعذور ماں باپ کو پاخانہ پیشاب کیسے کرایا جاے
02
The responseAl-Jawab
معذور ماں باپ کو پاخانہ پیشاب کیسے کرایا جاے
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الســـــــوال علمائے کرام سے سوال یہ ہے کہ ماں بہت ضعیف ہوچکی کی اور کوئی عورت نہیں ہے جو اس کا ہر ایک کام کر سکے جیسے باتھروم کرکے دھول سکے لیکن بیٹا ہے تو کیا بیٹا پاخانہ کی جگہ دھول سکتا ہے ؟ اور اس کا برعکس یعنی باپ بہت بیمار رہتا ہے بہت ضعیف ہے اور کوئی بیٹا نہیں تو کیا بیٹی یا پھر بہو پاخانہ کی جگہ یا پیشاب کی جگہ دھول سکتی ہے؟ وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب اگر باپ کیلئے اس کی بیوی یا شرعی باندی ، اسی طرح ماں کیلئے اس کا شوہر نہ ہو تو ان سے سرے سے استنجا کرنا ہی ساقط ہوجائےگا ، مسئولہ صورت میں بیٹے کیلئے ماں کو اور بیٹی اور بہو کیلئے باپ اور سسر کو استنجا کرانے کی اجازت نہیں ۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں الرجل المريض إذا لم تكن له امرأة ولا أمة وله ابن أو أخ وهو لا يقدر على الوضوء قال : يوضئه ابنه أو أخوه، غير الاستنجاء، فإنه لا يمس فرجه ويسقط عنه، والمرأة المريضة إذا لـم يكن لها زوج وهي لا تقدر على الوضوء ولها بنت أو أخت توضئها ويسقط عنها الاستنجاء اهـ. ولا يخفى أن هذا التفصيل يجري فيمن شلت يداه لأنه في حكم المريض ۔ (ردالمحتار ج1ص553 ، دارعالم الکتب ریاض) کہ مریض آدمی جس کی بیوی ، باندی نہ ہو ، بیٹا اور بھائی ہو اور وہ وضو پر قدرت نہ رکھے تو اس کا بیٹا یا بھائی اسے وضو کرائے ، سوائے استنجا کے کہ بھائی یا بیٹا اس کی شرمگاہ نہیں چھو سکتا ، ایسی صورت میں اس سے استنجاکرنا ساقط ہوجائےگا ، یونہی مریضہ عورت جس کا شوہر نہ ہواور وہ وضو پر قادر نہ ہو ، اس کی بیٹی یا بہن ہوتو وہ وضو کرائےگی ، اور استنجا ساقط ، مخفی نہ رہےکہ یہ تفصیل اس شخص پر بھی جاری ہوگی جس کے ہاتھ شل ہوگئے ہوں کیونکہ وہ بھی مریض ہی کے حکم میں ہے ۔ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں مردلنجھا ہوتو اس کی بی بی استنجا کرادے اورعورت ایسی ہوتواس کا شوہر اور بی بی نہ ہو یا عورت کا شوہر نہ ہو تو کسی اور رشتہ دار بیٹا، بٹی، بھائی ، بہن سے استنجانہیں کراسکتے بلکہ معاف ہے ۔ (بہارشریعت ج1ص413 ، دعوت اسلامی) البتہ اگر استنجا نہ کرنے کی وجہ سے بدبو ، خارش ، کھجلی اور کیڑے پڑنے وغیرہ کا اندیشہ ہو تو بلا مس ونظر کے ہاتھ پر کپڑا وغیرہ لپیٹ کر دھو دینے کی اجازت ہوگی کہ یہاں ضرورت ہے ۔ والضرورۃ تبیح المحظورات واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب کتبــــــــــہ : مفتی محمد رضا مرکزی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.